دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Qoot ul Quloob Jild 2 | قوت القلوب جلد دوم

book_icon
قوت القلوب جلد دوم

اللہ عَزَّ  وَجَلَّ ان تینوں صورتوں میں بندوں کےساتھ ہوتا ہے کہ جو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے ان کے لیے مُباح قرار دی ہیں اور جن کی خاطِر اس نے اپنے اور اپنی مخلوق کے درمیان قائم تعلّق کو مِثال سے بیان فرمایا۔ اب یہ اس کی مرضی ہے کہ وہ ان کے لیے کیا پسند فرماتا ہے۔

اس کی وضاحت یہ ہے:

پہلی صورت کی وضاحت

اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کا اپنے بندوں سے تعلّق ایسا نہیں ہے کہ وہ اپنے کسی بندے سے یہ اِرشَاد فرمائے کہ  جا(کمائی کر کے لا) اور مجھے کھِلا، کیونکہ تو میرا بندہ اور میری مِلْکِیَّت ہے، میں تیری کمائی کا بھی اسی طرح مالِک ہوں جس طرح کہ تیری جان کا مالِک ہوں۔ (صَاحِبِ کِتاب اِمامِ اَجَلّ حضرت سَیِّدُنا شیخ ابُو طالِب مکّی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں)یہی وہ صُورَت ہے کہ جس کا ہم نے پہلے بھی تذکرہ کیا ہے کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اس سے پاک اور بُلَند و بَرتر ہے۔ جیسا کہ اس کا فرمانِ عالیشان ہے:

مَاۤ اُرِیْدُ اَنْ یُّطْعِمُوْنِ(۵۷) (پ ۲۷، الذّٰریت: ۵۷)                  ترجمۂ کنز الایمان: نہ یہ چاہتا ہوں کہ وہ مجھے کھانا دیں۔

جیسا کہ دنیادار آقا اپنے غلاموں  سے اس بات کی خواہش رکھتے ہیں۔

دوسری صورت کی وضاحت

اگر آقا اپنے کسی غلام سے کہے: جا اور اپنے نَفْس کو کھانا کھِلا، اپنی غذا کو وسیع کر، میں نے تیرے لیے یہ سب کچھ مُباح کر دیا ہے اور تجھے تیری  کمائی بخش دی ہے۔ یہ رِزْق میں نے تجھے دیا اور یہ میرا تجھ پر فَضْل ہے۔ (گویا آقا نے غلام سے مکاتبت کر لی)اس کے ساتھ ہی غلام مُکاتَب بن جائے گا اور آقا کی حَیْثِیَّت غلام کو آزادی دینے میں مُعْتِق یعنی آزاد کرنے والے شخص جیسی ہو جائے  گی،اس طرح کہ اسے اس کی ولایَت کا حَق حاصِل ہو گا اور اس کا میراث میں بھی حِصّہ ہو گا، کیونکہ اس نے اس پر مُکاتَبَت کر کے اِحْسَان کیا ہے، جیسا کہ آزاد کرنے والا شخص غلام کو آزاد کر کے اس پر اِحْسَان کرتا  ہے، اگرچہ مُکاتَبَت کی صُورَت میں غلام کو اپنی آزادی کی خاطِر خود ہی کمائی کی کوشِش کرنا پڑتی ہے مگر آقا پہلے ہی اس کےجان و مال کا نہ صِرف حَق رکھتا ہے بلکہ اس کا مالِک بھی ہے، لیکن جب وہ غلام کو ان چیزوں کا مالِک بنا دیتا ہے تو گویا وہ اس پر اِحْسَان کرنے والا بن جاتا ہے، یہ عام لوگوں کا اللہ عَزَّ  وَجَلَّ سے تعلّق ہے، کیونکہ وُہی ان کا حقیقی مولا ہے اور وہ اسی کے مَمْلُوک و بندے ہیں۔ چنانچہ وہ انہیں فرماتا ہے: جاؤ!کمائی کرو اور اپنے آپ کو کھِلاؤ ، میں نے تمہارا رِزْق تمہیں دیدیا اور بخش دیا ہے۔

اس دوسری صُورَت سے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے اپنے خواص بندوں کو ان کی فضیلت کی بنا پر دُور رکھا ، ان سے  ان کی بَنْدَگی کے حِساب سے کام نہ لیا بلکہ ان کا تعلّق کام کاج سے خَتْم کردیا اور انہیں ان کے نَفْسُوں اور دیگر مخلوق سے فارِغ  کر کے اپنی خِدْمَت میں مَشْغُول کر دیا۔ ان کی بَقَدْرِ كِفَایَت کارسازی فرمائی اور ان کاموں کی ذِمَّہ داری انہیں نہ دی جو دیگر لوگوں کودی، بلکہ ان کے رِزْق کی ذِمَّہ داری بھی اپنے بندوں میں سے جسے چاہا اس کے سُپُرد کر دی، چنانچہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے فرمانِ عالیشان (مَاۤ اُرِیْدُ مِنْهُمْ مِّنْ رِّزْقٍ ) سے یہی مُراد ہےکہ میں یہ نہیں چاہتا کہ وہ خوداپنے رِزْق کا اِہتِمام کریں۔ اس کی دلیل اس سے اگلی آیَتِ مُبارَکہ میں کچھ یوں ہے:

اِنَّ اللّٰهَ هُوَ الرَّزَّاقُ (پ ۲۷، الذّٰریت:۵۸)                                    ترجمۂ کنز الایمان:بیشک اللہ ہی بڑا رِزْق دینے والا ہے۔

یعنی اپنے خواص بندوں کے رِزْق کا دوسروں کے ذریعے اِہتِمام کرنے والا ہے اور اس بات کا اِظْہَار اس فرمانِ عالیشان سے بھی ہو رہا ہے:

مَاۤ اُرِیْدُ اَنْ یُّطْعِمُوْنِ(۵۷) (پ ۲۷، الذّٰریت: ۵۷)                  ترجمۂ کنز الایمان: نہ یہ چاہتا ہوں کہ وہ مجھے کھانا دیں۔

(صَاحِبِ کِتاب اِمامِ اَجَلّ حضرت سَیِّدُنا شیخ ابُو طالِب مکّی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں کہ)اس آیَتِ مُبارَکہ میں یائے مُتَکَلِّم اِسْمِ باری تعالیٰ کا کِنایہ ہے اور یہاں خاص اِرادہ مُراد ہے نہ کہ عام۔ یعنی یہاں اِبْتِلاو مَحبَّت مُراد ہے۔ چنانچہ مَطْلَب یہ ہو گا کہ مجھے یہ پسند نہیں کہ وہ مجھے کھانا دیں۔ نیز یہ حکْم اس کے خاص بندوں کے ساتھ خاص ہےجیسا کہ اس کا فرمانِ عالیشان ہے:

وَ مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَ الْاِنْسَ اِلَّا لِیَعْبُدُوْنِ(۵۶) (پ ۲۷، الذّٰریت:۵۶)                   

ترجمۂ کنز الایمان:اور میں نے جن اور آدَمی اتنے ہی (اسی) لیے بنائے کہ میری بَنْدَگی کریں۔

یہ آیَتِ مُبارَکہ ان لوگوں کے ساتھ خاص ہے جنہوں نے اس کی عِبَادَت کی اور یہاں جنوں اور انسانوں میں سے اَہْلِ اِیمان مُراد ہیں اور عام مخلوق مُراد نہیں۔

تیسری صورت کی وضاحت

آقا اپنے کسی غُلام سے کہے کہ میری خِدْمَت کر اور تیرا کھانا میرے ذِمَّۂ کَرَم پر ہے۔ تیرا میری خِدْمَت کرنا گویا کہ ایسے ہی ہے کہ تو اپنے لیے کمائی کرے۔ یہ صُورَت سب سے اعلیٰ ہے کہ جسے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے پسند فرمایا ہے، پھر اس نے اپنے جن بندوں کے لیے چاہا اس صُورَت کو پسند فرمایا، اس نے اپنے ان خاص عُلَمائے رَبّانِیِّیْن کے لیے اس صُورَت کو اِخْتِیار فرمایا، ان سے مُراد وہ لوگ نہیں ہیں جنہیں اس نے اپنے نَفْسُوں کی خاطِر رِزْق کمانے میں لگایا ہے، جیسا کہ اس کا فرمانِ عالیشان ہے:

اِلَّا لِیَعْبُدُوْنِ(۵۶) مَاۤ اُرِیْدُ مِنْهُمْ مِّنْ رِّزْقٍ (پ ۲۷، الذّٰریت:۵۶، ۵۷)                     

ترجمۂ کنز الایمان: کہ میری بَنْدَگی کریں میں ان سے کچھ رِزْق نہیں مانگتا ۔

مَطْلَب یہ ہے کہ اپنے نَفْسُوں کو اس کمائی کے ذریعے رِزْق مُہَیَّا کرو جو میں نے ان کے لیے مُباح کیا ہے، تاکہ ان کا شُمار بھی ان لوگوں میں ہونے لگے جن سے میں نے کہا ہے: جا اور کما  کہ میں نے تجھ سے یہی چاہا ہے کہ تو اپنی کمائی کے ذریعے اپنے نَفْس کو رِزْق مُہَیَّا کرے اور میں نے تجھے یہ رِزْق بَخْش دیا ہے۔ یعنی میں نے ان لوگوں سے صِرف عِبَادَت چاہی ہے اور اسی کے لیے انہیں پیدا کیا ہے۔

ہر ایک کا مقصدِ حیات

ہر ایک کے لیے وُہی بات آسان ہے جس کے لیے اسے پیدا کیا گیا ہے، اب جس کا کام عِبَادَت ہو اور وُہی اس کی تخلیق کا مَقْصَد بھی ہو تو وہ کام اس کے لیے آسان ہو گا اور جس کا کام دنیا ہو اور اسے پیدا بھی دنیا کے لیے ہی کیا گیا ہو تو دنیا اس پر آسان ہوتی ہے۔ جیسا کہ مَرْوِی ہے کہ سرورِ کائنات ، فَخْرِ مَوجُودات صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِرشَادفرمایا:اللہ عَزَّ  وَجَلَّ

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن