30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
رِزْق لکھنے کے بعد اسے رِزْق تک پہنچا دے یا رِزْق اس تک پہنچا دے، کیونکہ جس رِزْق کو آپ پا لیتے ہیں وہ بھی یقیناً آپ کو پا لے گا۔چنانچہ (رِزْق بندے تک پہنچے یا بندہ رِزْق تک) دونوں حالتوں میں بندہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ پر تَوَکُّل رکھتا اور اسی کی جانِب دیکھتا ہے،دونوں اُمُور میں اپنے حال کے مُطابِق اَحْکام بجا لاتا ہے اور دونوں حکْموں میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے حُسْنِ اِخْتِیار سے آگاہ ہوتا ہے۔
جس نے کمائی اس لیے تَرْک کی کہ اس کا اللہ عَزَّ وَجَلَّ پر بھروسا کامِل تھا اور وہ اس (کے عَطا کردہ رِزْق) پر مطمئن تھا یا اس لیے چھوڑی کہ اسے گناہوں میں مبتلا ہونے اور اَحکامِ خداوندی کی بجاآوری نہ کر سکنے کا اندیشہ تھا تو اس کی نیکی اس شخص جیسی ہو گی جس نے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی خاطِر کوئی عَمَل کیا ، اس لیے کہ کسی کام کا تَرْک کرنا بھی ایک عَمَل ہی ہے جو اَچھّی نِیَّت کا مُحتَاج ہے اور لوگوں میں سب سے زیادہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے نزدیک اَفضل وہ ہے جو ان میں سب سے زیادہ مُتَّقِی ہو اور جو ان میں سب سے زیادہ مُتَّقِی ہو گا وُہی ان میں سے زیادہ عارِف ہو گا خواہ کمائی کرے یا نہ کرے۔
حضرت سَیِّدُنا عبداللہ بن دِینار عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْغَفَّار حضرت سَیِّدُنا عَمْرو بن میمون رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے رِوایَت کرتے ہیں کہ حُضُور نبی پاک، صاحبِ لَوْلاک صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے صحابۂ کِرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان سے اِرشَاد فرمایا:کیا تم جانتے ہو کہ تمہارے رب نے کیا اِرشَادفرمایا ہے؟ انہوں نے عَرْض کی:اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور اس کا رَسول صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم بہتر جانتے ہیں۔ اِرشَاد فرمایا:جب اس نے عَرْش پر اِسْتِوا فرمایا تو اپنی مخلوق کی جانِب دیکھ کر اِرشَاد فرمایا:اے میرے بندو! تم میری مخلوق ہو اور میں تمہارا رب ہوں، تمہارے رِزْق میرے قبضے میں ہیں، لہٰذا میں نے تمہاری جس شے کی کَفَالَت کا ذِمَّہ لیا ہے اس میں اپنے نَفْسُوں کو مَت تھکانا اور اپنے رِزْق مجھ سے ہی طَلَب کرنا ، اپنے نَفْسُوں کو میری بارگاہ میں حاضِر رکھنا، اپنی حاجتیں میری بارگاہ میں پیش کرنا، میں تم پر تمہارے رِزْق اُنڈیل دوں گا۔ (دوبارہ پھر آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے دَرْیَافْت فرمایا) کیا تم جانتے ہو کہ تمہارے رب نے کیا اِرشَاد فرمایا؟انہوں نے پھر یہی عَرْض کی کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور اس کا رسول صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم بہتر جانتے ہیں۔ تو فرمایا کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اِرشَاد فرمایا: اے میرے بندے! میری راہ میں خَرْچ کر، میں تجھ پر خَرْچ کروں گا، دوسروں کے لیے وُسْعَت پیدا کر میں تجھ پر وُسْعَت پیدا کروں گا اور تنگی سے کام نہ لے کہ میں بھی تجھ پر تنگی نہ کروں، بے شک رِزْق کے دروازوں کا تعلّق عَرْش سے ہے، جو رات کو بند ہوتے ہیں نہ دِن کو۔ میں لوگوں میں سے ہر ایک کے لیے اس کی نِیَّت، صَدَقَہ و خیرات اور خَرْچ کے مُطابِق رِزْق نازِل کرتا ہوں، لہٰذا جو ان کاموں میں کَثْرَت سے کام لیتا ہے میں اسے کثیر رِزْق عَطا فرماتا ہوں اور جو کمی کرتا ہے میں بھی اس کے رِزْق میں کمی کر دیتا ہوں اور جو رِزْق کو اپنے پاس روکے رکھتا ہے (اور خَرْچ نہیں کرتا)میں بھی اس سے رِزْق کو روک لیتا ہوں۔
اے زُبَیر!بے شک اللہ عَزَّ وَجَلَّ خَرْچ کرنے کو پسند اورجَمْع کرنے کو ناپسند کرتا ہے، چنانچہ خود بھی کھا اور دوسروں کو بھی کھِلا، تنگی نہ کر، ورنہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ بھی تجھ پر تنگی کر دے گا، مُشکِل پیدا نہ کر ،ورنہ اللہ بھی تجھ پر مشکلیں پیدا کر دے گا، اپنے بھائیوں کو کھِلا، نیک لوگوں کی عزّت کر، پڑوسیوں سے صِلہ رِحْمی کر اور فَاجِروں کے نَقْشِ قَدَم پر مَت چل، (اگر تو نے ایسا ہی کیا تو) جنّت میں بلاحِساب داخِل ہو گا۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے مجھے یہ وَصیَّت کی ہے اور میں اے زُبَیر بِن عَوَّام تمہیں کر رہا ہوں۔
بازار بھاگے ہوئے غُلاموں کا دَسْتَرخَوان ہیں، اللہ عَزَّ وَجَلَّ اپنے اس بندے کو ان بازاروں سے کھِلاتا ہے جو اس کی عِبَادَت سے بھاگتا ہے، اس کی بارگاہ میں حاضِری سے راہِ فَرار اِخْتِیار کرتا ہے، اس کے مُعامَلہ میں سُستی کا مُظاہَرہ کرتا ہے اور اس کی تِجَارَت کی جگہوں میں بُزدِلی سے کام لیتا ہے۔ حالانکہ فرمانِ باری تعالیٰ ہے:
وَ مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَ الْاِنْسَ اِلَّا لِیَعْبُدُوْنِ(۵۶)مَاۤ اُرِیْدُ مِنْهُمْ مِّنْ رِّزْقٍ وَّ مَاۤ اُرِیْدُ اَنْ یُّطْعِمُوْنِ(۵۷) (پ ۲۷، الذّٰریت:۵۶، ۵۷)
ترجمۂ کنز الایمان:اور میں نے جِن اور آدَمی اتنے ہی (اسی) لیے بنائے کہ میری بَنْدَگی کریں میں ان سے کچھ رِزْق نہیں مانگتا اور نہ یہ چاہتا ہوں کہ وہ مجھے کھانا دیں۔
مُتَقَدِّمِیْن اَہْلِ عَرَب میں سے کسی کا قول ہے کہ یہاں (مَاۤ اُرِیْدُ مِنْهُمْ مِّنْ رِّزْقٍ) سے مُراد یہ ہے کہ میں ان سے یہ نہیں چاہتا کہ وہ میری مخلوق کو رِزْق دیں کیونکہ اس کے بعد اِرشَاد ہوتا ہے:
اِنَّ اللّٰهَ هُوَ الرَّزَّاقُ (پ ۲۷، الذّٰریت:۵۸) ترجمۂ کنز الایمان:بیشک اللہ ہی بڑا رِزْق دینے والا ہے۔
مَطْلَب یہ ہے کہ وہ ان سے یہ مُطَالَبہ نہیں کرتا کہ جب وہ اس کی خِدْمَت بجا لائیں تو اپنے رِزْق کا اِہتِمام بھی خود ہی کریں۔ چنانچہ مذکورہ آیتِ مُبارَکہ میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے تین۳ صورتوں کا ذِکْر فرمایا ہے:
ایک صُورَت اپنے لیے پسند فرمائی یعنی عِبَادَت و خِدْمَت کو پسند فرمایا اور اس پر كِفَایَت کا ذِمَّہ لیا۔
دوسری صُورَت کو اپنے بندوں کے لیے پسند فرمایا یعنی ان کا عِبَادَت گزار ہونا پسند کیا۔
تیسری صُورَت سے وہ پاک اور عظیم تر ہے یعنی بندے اسے کھِلائیں، البتہ! اس نے اپنے عام بندوں کو اس تیسری صُورَت میں مصروف کر دیا کہ وہ اپنے آپ کو کھانا کھِلائیں یعنی کمائی کریں اور زمین میں اپنے اور اپنی مخلوق کے درمیان قائم تعلّق کو بیان کرنے کے لیے کچھ یوں اِرشَاد فرمایا:
وَ لَهُ الْمَثَلُ الْاَعْلٰى فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِۚ- (پ ۲۱، الروم:۲۷)
ترجمۂ کنز الایمان:اور اُسی کے لیے ہے سب سے برتر شان آسمانوں اور زمین میں۔
اب بندے کا اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ساتھ قائم تعلّق دو۲ حکْموں کی بنا پر ہے:پہلا یہ ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے عِبَادَت کو اپنے لیے پسند فرمایا اور یہی (اس کے اور اس کی مخلوق کے درمیان تعلّق قائم رکھنے والا)مُعامَلہ ہے اور اس صُورَت میں اسی کے ذِمَّۂ کَرَم پر ہے جیسے چاہے اور جب چاہے بندوں کو رِزْق دے کہ یہ سب اس کے بندے ہیں دنیا کےنہیں۔ دوسرا حکْم بندے کے ساتھ خاص ہے یعنی اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اسے اپنے نَفْس کے لیے کمائی کرنے کا حکْم دیا اور رِزْق کے حُصُول کا ذریعہ اس کے اعضا کو بنایا اور اس وَصْف پر اس کی تعریف فرمائی۔ یہ عام بندے ہیں، ان میں سے بعض دنیا کے غلام ہیں اور بعض خواہشِ نَفْس کے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع