30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مَقام بنا دے گا یعنی اگر مُتَوکِّل نے تَصَرُّف نہ کیا تو وہ اس کی جگہ تَصَرُّف کرے گا، لیکن اگر اس نے اُخْرَوِی کاموں کی اپنی ذِمَّہ داری پوری نہ کی تو کوئی دوسرا اس کی جگہ کام نہ کرے گا۔ اسی طرح اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اس کی خاطِر اس کے دُنْیَاوِی کاموں کی کَفَالَت کاوعدہ فرما رکھا ہے چنانچہ اگر اس نے کوئی دُنْیَاوِی عَمَل نہ کیا تو کوئی اور شخص اس کے دُنْیَاوِی کام سَراَنْجَام دیدے گا جیسے اللہ عَزَّ وَجَلَّ چاہے گا۔
اَلْغَرَضْ وہ دُنْیَاوِی عَمَل جس کی کَفَالَت کا وعدہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے فرمایا ہے اس کے اور اس اُخْرَوِی عَمَل کے درمیان یہی بنیادی فَرْق ہے کہ جس کی ذِمَّہ داری اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے بندے کے سُپُردکی ہے۔ چنانچہ،
وہ دُنْیَاوِی رِزْق جس کی کَفَالَت کا ذِمَّہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے لیا ہے، اس کے مُتعلّق اس کا فرمان ہے:
وَ كَاَیِّنْ مِّنْ دَآبَّةٍ لَّا تَحْمِلُ رِزْقَهَا ﰮ اَللّٰهُ یَرْزُقُهَا وَ اِیَّاكُمْ ﳲ (پ ۲۱، العنکبوت:۶۰)
ترجمۂ کنز الایمان:اور زمین پر کتنے ہی چلنے والے ہیں کہ اپنی روزی ساتھ نہیں رکھتے اللہ روزی دیتا ہے انہیں اور تمہیں ۔
اور اُخْرَوِی رِزْق کے مُتعلّق اِرشَاد فرمایا:
وَ اَنْ لَّیْسَ لِلْاِنْسَانِ اِلَّا مَا سَعٰىۙ(۳۹) (پ ۲۷، النجم:۳۹)
ترجمۂ کنز الایمان:اور یہ کہ آدْمی نہ پائے گا مگر اپنی کوشِش۔
چار۴ چیزیں
توحید کے بعد مُتَوکِّل یہ یقین رکھتا ہے کہ دَرْج ذیل چار۴ اَشیا ایک ہی لَڑی میں پَروئی ہوئی ہیں گویا ایک ہی شے ہوں اور یہ یکے بعد دِیگرے واقِع ہوتی ہیں۔ چنانچہ وہ چار۴ اَشیا یہ ہیں:
(1)۔۔۔۔تقسیم شُدہ رِزْق کہ جس میں کبھی اِضافہ نہ ہو گا۔
(2) ۔۔۔۔یہ رِزْق ایک مَعْلُوم وَقْت میں ملے گا۔
(3) ۔۔۔۔کسی بھی سَبَب کے ذریعے یہ اپنے وَقْت سے پہلے ملے گا نہ بعد میں۔
(4) ۔۔۔۔لوحِ مَحْفُوظ میں لکھا ہونے کی بنا پر اس میں کوئی تَغَیُّر و تَبَدُّل نہ ہو گا۔
مَعْلُوم ہوا رِزْق رازِق کے فَضْل سے ملتا ہے اور جس وَقْت میں عَطا و بَـخْشِشْ کا فَضْل ظاہِر ہوتا ہے وہ اس کے لیے ظَرْف کی حَیْثِیَّت رکھتا ہے جبکہ سَبَب اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی حِکْمَت ہے اور لوحِ مَحْفُوظ میں لکھا ہونا بندے کی حَد ہے۔ چنانچہ مُتَوکِّل اس بات کا یقین ہونے کے بعد اگر تَصَرُّف سے کام لے تو وہ حکْم کی وجہ سے تَصَرُّف کرے گا اور اگر بیٹھا رہا تو عِلْم کی وجہ سے بیٹھے گا۔ لہٰذا اس کا تَصَرُّف کرنا اور بیٹھے رہنا یَکْسَاں حَیْثِیَّت رکھتا ہے۔ کیونکہ وہ اپنے حال کے عِلْم کا تَقاضَا پورا کرنے والا اور اپنے تَصَرُّف و بیٹھنے کی جگہ سے بخوبی آگاہ ہے۔اب اگر اس کے رب نے اسے دوسروں سے غافِل فرما کر اپنی خِدْمَت میں مَصروف کر دیا یعنی اسے بندوں کے مُعامَلات سے ہٹا کر اپنے مُعامَلات میں لگا دیا تو اس کا رِزْق بھی اس تک پہنچائے گا جہاں سے چاہے گا، بندوں میں سے جس کے ہاتھوں سے چاہے گا اور اسے حُدود سے تجاوُز کرنے سے بھی مَحْفُوظ فرما دے گا۔جیسا کہ فرمانِ باری تعالیٰ ہے:
حٰفِظٰتٌ لِّلْغَیْبِ بِمَا حَفِظَ اللّٰهُؕ- (پ ۵، النسآء:۳۴)
ترجمۂ کنز الایمان:خاوند کے پیچھے حِفَاظَت رکھتی ہیں جس طرح اللہ نے حِفَاظَت کا حکْم دیا۔
مُراد یہ ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ اسے اپنی وِلایَت کی دولت عَطا فرما کر اس کی حِفاظَت فرماتا ہے اور اسے مَـمْنُوعات سے بچنے کی توفیق بھی وُہی دیتا ہے۔ جیسا کہ اس نے اپنے اَولِیائے کِرام رَحِمَہُمُ اللہ ُ السَّلَام کے مُتَعَلِّق خَبَر دیتے ہوئے اِرشَاد فرمایا ہے:
وَ هُوَ یَتَوَلَّى الصّٰلِحِیْنَ(۱۹۶) (پ ۹، الاعراف:۱۹۶) ترجمۂ کنز الایمان:اور وہ نیکوں کو دوست رکھتا ہے۔
اسی طرح اللہ عَزَّ وَجَلَّ اپنے اَولِیائے کِرام رَحِمَہُمُ اللہ ُ السَّلَام تک حَلال رِزْق ہی پہنچاتا ہے اور انہیں صِرف حَلال کی ہی توفیق دیتا ہے اور جیسا پسند کرتا ہے ان کے لیے کوئی سَبَب پیدا فرما دیتا ہے۔ لہٰذا بندہ تَرْکِ کَسْب میں فضیلت کا باعِث بن جاتا ہے کیونکہ وہ اپنے خالِق سے لَو لگا کر مخلوق سے منہ موڑ لیتا ہے،مالِک کے مُعامَلہ میں مَصروف ہو کر مَمْلُوک یعنی مخلوق کے مُعَامَلات سے جُدا ہو جاتا ہے اوراپنی فِکْر کا رُخ دنیا سے پھیر کر آخِرَت کی طرف کر لیتا ہے۔ اس کا شُمار ان لوگوں میں ہونے لگتا ہے جن کے اَوصاف بیان کرتے ہوئے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے مَحبوب، دانائے غُیوب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِرشَاد فرمایا ہے کہ انہیں اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہی کافی ہے۔ جیسا کہ مَرْوِی ہے کہ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِرشَاد فرمایا:جس شخص نے اپنی تمام (دُنْیَاوِی) فِکْروں (کو چھوڑ کر) ایک ہی فِکْر بنا لیا اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس کی آخِرَت کے لیے کافی ہے۔ [1]
اس وَقْت یہ ان لوگوں کی صَف سے نِکَل جاتا ہے جواللہ عَزَّ وَجَلَّ سے اپنا ناطہ توڑ کر غیرُاللہ سے تعلّق قائم کر لیتے ہیں اور یوں (غیراللہ کی)فِکْروں میں مگن ہو کر خود کو ہَلاکَت کے لیے پیش کر دیتے ہیں، جیسا کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے پیارے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے: جس نے صُبْح اس حال میں کی کہ اس کی فِکْرکا مَرْکَز اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے سِوا کوئی اور ہو تو اس کا اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے کوئی تعلّق نہیں۔[2]
ایک رِوایَت میں ہے کہ جس کے نظریات مُنْتَشِر ہوں تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کو کوئی پَروا نہیں کہ کس وادی میں ہلاک ہو۔ [3]
اگر مُتَوکِّل کا حال یہ ہو کہ اس کا رِزْق اس کے اپنے ہاتھ میں ہو یعنی اس کی اپنی کمائی کے ذریعے اسے رِزْق ملے تو یہ مالِک کے خَزانوں میں سے ایک خَزانہ ہے اور وہ اس کے خاص بندوں میں سے ایک ایسا بندہ ہے جس کا رِزْق اس تک دوسروں کے ہاتھوں پہنچنے کے بجائے اس کے اپنے ہی ہاتھ سے پہنچ رہا ہے۔ اب یہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی مرضی ہے کہ اس کی قِسْمَت میں
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع