30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حضرت سَیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں کہ جب مریض اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی حَمد بیان کرتا ہے اور اس کا شُکْر ادا کرتا ہے، اس کے بعد اگر وہ اپنی بیماری کا تذکرہ بھی کرے تو یہ شِکوہ نہ ہو گا۔
حضرت سَیِّدُنا احمد بن حنبل عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْاَ وّل سے جب آپ کی بیماری کے مُتَعَلّق پوچھا جاتا تو آپ کچھ نہ بتاتے تھے،پھر آپ رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ نے حضرت سَیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی کے مذکورہ قول کو اِخْتِیار کر لیا اور اس کے بعد آپ رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی حَمد و ثَنا بیان کرنے کے بعد اپنی بیماری کے مُتَعَلّق بتادیا کرتے تھے کہ میری یہ کَیْفِیَّت ہے۔
مَرْوِی ہے کہ ایک بار امیر المومنین حضرت سَیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمسے بیماری کی حَالَت میں عَرْض کی گئی کہ آپ کی طبیعت کیسی ہے؟ اِرشَاد فرمایا: بَہُت بُری۔ یہ سن کر لوگ ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگےگویا انہوں نے آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کے اس قول کو اچھّا نہ سمجھا تو آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے اِرشَاد فرمایا:کیا میں بارگاہِ خداوندی میں بَہَادُرِی دِکھاؤں؟گویا کہ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے بارگاہِ خُداوندی میں اپنے عاجِز ہونے کا اِظْہَار کیا (حالانکہ آپ کی بَہَادُرِی اور شُجاعَت مَشْہُور تھی)اور یہ بھی بتانا چاہا کہ ایسا کہنے میں کوئی حَرَج نہیں۔ کیونکہ بَہُت سے لوگوں سے جب خَیْرِیَّت پوچھی جائے تو وہ کہتے ہیں کہ خَیْرِیَّت سے ہیں(حالانکہ ایسا نہیں ہوتا)۔ اسی طرح حضرت سَیِّدُنا سُفْیَان ثَوری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرمایا کرتے تھے: عِلْم دَرحقیقت ثِقہ عُلَمائے کِرام رَحِمَہُمُ اللہ ُ السَّلَام سے حاصِل ہونے والی رُخْصَت کا نام ہے اور باقی رہا سختی کا مُعَامَلہ تو اسے ہر کوئی اَچھّی طرح جانتا ہے۔
(صَاحِبِ کِتاب اِمامِ اَجَلّ حضرت سَیِّدُنا شیخ ابُو طالِب مکّی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں)گویا کہ امیر المومنین حضرت سَیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمنےچاہا کہ آپ لوگوں کو بارگاہِ نبوّت کا اَدَب سِکھانے کے ساتھ ساتھ یہ بھی بتا دیں کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے پیارے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِظْہَارِ قوّت سے مَنْع فرمایا ہے، کیونکہ مَرْوِی ہے کہ ایک مرتبہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ بیمارہوئے تو دُعا کی:اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ !مجھے اس مصیبت پر صَبْر عَطا فرما۔یہ سن کر آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِرشَاد فرمایا: تم نے اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے مصیبت طَلَب کی ہے ،اس کے بجائے عَافِـیَّت طَلَب کرو۔[1]
عافیت پر شکر مصیبت پر صبر سے افضل ہے
یہی وجہ ہے کہ حضرت سَیِّدُنا مُطَرِّف بن عبداللہ رَحِمَہُ اللہ فرماتے ہیں:مجھے عَافِـیَّت عَطا فرمائی جائے اور میں اس پر شُکْر ادا کروں یہ بات مجھے مصیبت میں مبتلا ہو کر صَبْر کرنے سے زیادہ پسند ہے۔
(صَاحِبِ کِتاب اِمامِ اَجَلّ حضرت سَیِّدُنا شیخ ابُو طالِب مکّی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں)اِبْتِلا و آزمائش قَوِی لوگوں کا طریقہ ہے اور اہلِ خوف اس بات کو پسند نہیں کرتے کہ وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے سامنے اپنی قوّت و بَہَادُرِی کا اِظْہَار کریں۔ جیسا کہ مَرْوِی ہے کہ حضرت سَیِّدُنا اِمام شافعی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْکافی ایک بار شدید بیمار ہو گئے تو آپ رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ یہ دُعا مانگا کرتے تھے: اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ !اگر اس بیماری میں تو راضی ہے تو اس میں مزید اِضافہ فرما۔ ایک بُزرگ عالِم (یعنی شہر کے اَطراف سے حضرت سیِّدُنا اِدرِیس بِن یحییٰ مَعَافِرِی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی ) نے انہیں ایک مَکْتُوب اِرْسَال فرمایا:اے ابو عبداللہ!آپ کا شُمار مصیبت زدہ اَفراد میں نہیں ہوتا، لہٰذا اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے اس کی نَرْمی اور عَافِـیَّت مانگئے۔لہٰذااس کے بعد حضرت سیِّدُنا اِمام شافعی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْکافی نے اپنے قول سے رُجُوع کر لیا اور بارگاہِ خداوندی میں توبہ و اِسْتِغْفار کیا اور پھر یوں دُعا کیا کرتے: اَللّٰھُمَّ اجْعَلْ خَیْرَتِیْ فِیْمَا اَحْبَـبْتَ۔ یعنی اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ ! میری بھلائی ان اُمُور میں رکھ دے جنہیں تو پسند کرتا ہے۔
عبادت میں مصروفیت كی بنا پر ترکِ كسب كی فضیلت
بسا اَوقات عِبَادَت میں مَصروفیت كی بنا پر تَرْکِ کَسْب كرنے والا اَفضل ہوتا ہے اس اِعْتِبَار سے کہ مُتَقَدِّمِیْن زاہِدین نے اسے حَلال مال کما کر راہِ خَدا میں خَرْچ کرنے والے سے اَفضل قرار دیا ہے۔
حضرت سَیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی سے ان دو۲ اَفراد کے مُتعلّق پوچھا گیا جن میں سے ایک کاریگر تھا اور دوسرا عِبَادَت میں مَصروف رہنے والا کہ ان دونوں میں سے اَفضل کون ہے؟ اِرشَادفرمایا: سُبْحٰنَ اللہ!یہ دونوں برابر نہیں ہو سکتے ، عِبَادَت کی خاطِر کام کاج سے فارِغ رہنے والا شخص اَفضل ہے۔
اسی طرح ایک رِوایَت میں ہے کہ حُضُور نبی پاک، صاحبِ لَوْلاک صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِرشَاد فرمایا:موت بطورِ واعِظ، تقویٰ بطورِ غِنا اور عِبَادَت بطورِ مَصروفیت کافی ہے۔ [2]
کام کاج نہ کرنے والا
٭…اللہ عَزَّ وَجَلَّ پر تَوَکُّل رکھتا ہے۔ ٭…اسی پر بھروسا کرتا ہے
٭…مَقامِ تَوَکُّل کو ہمیشہ پیشِ نَظَر رکھتا ہے۔ ٭…فَقْر پر صَبْر کا مُظاہَرہ کرتا ہے۔
٭…مَعاش کو چھوڑ کر آخِرَت کے کاموں میں مصروف رہتا ہے۔
٭…اور اس راہ میں ہر قِسْم کی اِبْتِلا و آزمائش کا سامنا بھی کرتا ہے۔
اس لیے کہ وہ جانتا ہے کہ دنیا میں اس کے رِزْق کا ضامِن اس کا رب ہے اور اسی نے اسے اُخْرَوِی
اَعمال بجا لانے میں لگایا ہے۔ اب اگر وہ انہی اُخْرَوِی کاموں میں مَصروف رہے جو اس کے سُپُردکیے گئے ہیں تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس کے دُنْیَاوِی اُمُورکی اَنْجَام دہی کے لیے کسی اور کو اس کے قائم
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع