دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Qoot ul Quloob Jild 2 | قوت القلوب جلد دوم

book_icon
قوت القلوب جلد دوم

حضرت سَیِّدُنا  یُوسُف بِن اَسباط رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ حضرت سَیِّدُنا  حُذَیفہ مَرْعَشِی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی نے مجھے (ایک مکتوب میں) لکھا: آپ کا اس شخص کے مُتَعَلّق کیا خیال ہے جو اکیلا ہو اور کسی ایسے شخص کو نہ پائے جو اس کے ساتھ مل کر اللہ عَزَّ  وَجَلَّ   کا ذکر کرے ، سوائے ایسے گناہ گار شخص کے کہ جس کے ساتھ بَاہَم گفتگو کرنا بھی مَعْصِیَّت ہو؟ انہوں نے ایسا اس لیے لکھا کہ انہیں کوئی اہلِ ذکر نہ ملا تھا۔ راوی فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سَیِّدُنا  یُوسُف بِن اَسباط رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہسے عرض کی:اے ابو محمد! کیا آپ اہلِ ذکر کو جانتے ہیں؟تو آپ رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ نے اِرشَاد فرمایا:وہ لوگ ہم سے مخفی نہیں۔

جاہل علما سے دوری بہتر ہے

اَبدال حضرات لوگوں سے قطع تعلّقی کر کے زمین کے مختلف کونوں میں جا بسے ہیں، بلکہ وہ جَمہور کی آنکھوں سے بھی اَوجھل ہو چکے ہیں۔ کیونکہ ان میں آج کے دَور کے عُلَما کو دیکھنے کی ہِمّت ہے نہ ان کی باتیں سننے کی طاقت۔ اس لیے کہ وہ جانتے ہیں کہ یہ عُلَما اَسرارِ اِلٰہیہ سے واقِف نہ ہونے کے باوُجُود خود کو عالِم کہلاتے ہیں اور لوگ بھی انہیں ایسا ہی سمجھتے ہیں۔ یہ (جھوٹے عُلَما اور انہیں عُلَما سمجھنے والےلوگ) سب جاہِل ہیں اور جو جاہِل اپنی جَہالَت سے واقِف نہ ہو اس کے مُتَعَلّق حضرت سَیِّدُنا  سہل تُسْتَرِی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں:سب سے بڑی مَعْصِیَّت جَہالَت سے ناواقِف ہونا ہے۔بزرگانِ دین رَحِمَہُمُ اللہ الْمُبِین پر (موجودہ دَور کے عُلَما کے بجائے) عام لوگوں کو دیکھنا اور غافِلین کی باتیں سننا زیادہ آسان ہے، جس کی چند وُجُوہات ہیں:

٭… وہ دنیا کے جس کونے میں بھی رہیں غفلت سے جُدا نہیں ہوتے۔

٭… یہ عام لوگ دینی مُعَامَلات میں جھوٹی باتوں کو بَنا سَنْوار کر پیش نہیں کرتے ۔

٭… دوسرے مومنین کو دھوکا نہیں دیتے۔

٭… یہ دعویٰ نہیں کرتے کہ وہ عُلَما ہیں۔

٭… یہ عِلْم سیکھنے کی کوشش کرتے ہیں اور اپنی جَہالَت کا اِعْتِرَاف کرتے ہیں۔

٭… یہ لوگ رحمتِ خداوندی کے قریب اور اس کی ناراضی سے دور رہتے ہیں۔

حضرت سَیِّدُنا  ابو محمد سہل تُسْتَرِی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی مزید فرماتے ہیں کہ جَہالَت کی وجہ سے پیدا ہونے والی قَساوَتِ قلبی گناہوں کی وجہ سے پیدا ہونے والی قَساوَتِ قلبی سے زیادہ سخت ہوتی ہے۔ کیونکہ جاہِل شخص عِلْم کے دامَن سے وابستہ نہیں ہوتا اور غَلَط باتوں کا دعویٰ کرنے لگتا ہے جبکہ عملاً گناہ گار شخص (کم از کم)عِلْم کے دامَن سے تو وابستہ رہتا ہے۔ مزید فرماتے ہیں کہ عِلْم ایک دوا ہے جو بیماریوں میں شِفا کا کام کرتی ہے اور فسادِ اَعمال کا تدارُک کر کے انہیں جڑ سے خَتْم کر دیتی ہے۔ جبکہ جَہالَت ایک بیماری ہے جو نیک اَعمال کو برباد کر دیتی ہے اور یوں نیک اَعمال بھی بُرائیوں میں بدل جاتے ہیں۔ لہٰذا خود فیصلہ کیجئے کہ جو شے نیکی کو بُرائی میں بدل دے اور جو شے بُرائی کو نیکی میں بدل دے ان دونوں میں کتنا فرق ہے۔چنانچہ فرمانِ باری تعالیٰ ہے:

(1) اِنَّ اللّٰهَ لَا یُصْلِحُ عَمَلَ الْمُفْسِدِیْنَ(۸۱)(پ۱۱، یونس: ۸۱)

ترجمۂ کنز الایمان: اللہ  مفسدوں کا کام نہیں بناتا۔

(2) اِنَّا لَا نُضِیْعُ اَجْرَ الْمُصْلِحِیْنَ(۱۷۰)(پ۹، الاعراف:۱۷۰)

ترجمۂ کنز الایمان:ہم نیکوں کا نیگ (ثواب)نہیں گنواتے (ضائع نہیں کرتے)۔

(صاحِبِ کِتاب اِمامِ اَجَلّ حضرت سَیِّدُنا شیخ ابُو طالِب مکّی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں)یہ فرمانِ عالیشان اس بات پر بَہُت بڑی دلیل ہے کہ عَمَل میں کوتاہی کرنے والا ایک عالِم مُجاہَدَات میں مشغول عابِد سے اَفضل ہوتا ہے۔

(مزید فرماتے ہیں)یاد رکھئے! جب کوئی بندہ ہر مُعَامَلے میں دوسرے لوگوں سے الگ تھلگ رہے تو آخر کار وہ ان سب سے کٹ جاتا ہے اور کوئی بھی اس سے مانوس نہیں ہوتا لیکن اگر وہ لوگوں کے (سب مُعَامَلات  سے تو جُدا نہ ہو بلکہ) اکثر مُعَامَلات سے اپنا ناطہ توڑ لے تو آخرکار وہ اکثر لوگوں سے جُدا ہو جاتا ہے اور اگر وہ بعض مُعَامَلات میں ان سے جدا اور بعض میں ان کے ساتھ رہے تو (اسے چاہئے کہ صِرف) نیک لوگوں کے ساتھ اپنا میل جول بڑھائے اور بُرے لوگوں سے دُور ہی رہے۔

آثار و اَخبار نَقْل کرنے کی فضیلت

(صاحِبِ کِتاب اِمامِ اَجَلّ حضرت سَیِّدُنا شیخ ابُو طالِب مکّی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں) ہم نے اس کِتاب میں سرورِ کائنات صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے مروی روایات یا صحابہ کرام، تابعین و تبع تابعین عظام کے جو اَقوال ذکر کئے ہیں وہ سب اپنی قُوّتِ حافِظہ سے قلم بند کئے ہیں اور تقریباً تمام آثار و اَخبار میں رِوایَت بالمعنیٰ[1]     کا اِلْتِزام کیا ہے مگر بعض روایات ایسی بھی ہیں جو ہمارے



[1]………کسی کی بات کو آگے دوسروں  تک پہنچانے کے دو۲طریقے ہیں ۔(1)اس کے بولے گئے الفاظ کو بعینہ نقل کر دیا جائے اس طریقے سے بیان کردہ بات کو رِوَایَت بِاللَّفْظکہتے ہیں ۔ (2)کسی کی بات کا مفہوم بیان کر دیا جائے یا وہ بات اختصار کے ساتھ بیان کی جائے یا ایسے الفاظ استعمال کئے جائیں  کہ مفہوم تبدیل نہ ہو۔ ایسی بیان کردہ بات کو رِوَایَت بِالْـمَعْنٰی کہتے ہیں ۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا شریعت نے ان دونوں  طریقوں  کو جائز قرار دیا ہے یا نہیں ؟لہٰذا جان لیجئے کہ شریعتِ اسلامیہ کے دو۲بنیادی ماخذ یعنی قرآن و سنّت پر مسلمانوں  کا صدیوں  سے عمل ہے اور ہم تک یہ دونوں  ماخذ روایت کے طریقے سے ہی پہنچے ہیں  ،  مگر قرآنِ کریم کلامِ باری تعالیٰ  ہے اس کی رِوایَت میں  اَلفاظ تبدیل کرنا جائز نہیں ۔ جیسا کہ امام اہلسنّت ،  مُجَدّدِ دین و ملّت ،  اعلیٰ حضرت سَیِّدُنا  مولانا شاہ امام احمد رضا خانعَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحْمٰن فتاویٰ رضویہ شریف میں  فرماتے ہیں :  قرآنِ عظیم کے نَظم کریم و حکم عظیم دونوں  کے ساتھ تعبّد ہے اس میں  نقل بالمعنیٰ جائز نہیں ۔البتہ حدیثِ پاک کا مُعَامَلہ قرآنِ مجید سے جدا ہے اور اس میں  دو۲صورتیں  ہیں ۔ اگر سرکارِ دو۲عالم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے بیان کردہ وہ الفاظ جَوَامِعُ الکلم ہیں (یعنی الفاظ کم مگر معانی کثیرہوں )تو ان کو ویسے ہی بیان کیا جائے گا اور ان میں  کوئی تبدیلی جائز نہیں اور اگر وہ جَوَامِعُ الکَلِم سے ارشاد نہ ہوئے ہوں  تو پھر رِوَایَت بِالْـمَعْنٰی جائز ہے۔ چنانچہ فتاویٰ رضویہ شریف کی ستائیسویں  جلد میں رِوَایَت بِالْـمَعْنٰی کے متعلق پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحمَۃُ رَبِّ الْعِزَّت ارشاد فرماتے ہیں :  روایتِ حدیث کے دونوں  طریقے ہیں :   روایت باللفظ و روایت بالمعنی۔ خود حضورِ اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے تحدیث بالمعنی کی اِجازَت فرمائی ہے۔مزیداِرشَادفرماتے ہیں :  حدیث کے حکم کے ساتھ تعبّد ہے جو الفاظِ کریمہ جَوَامِعُ الکلم سے اِرشَادہوئے ہیں  وہ بِعَیْنِھَا منقول ہیں  اور باقی میں  لفظ پر اقتصار موجبِ ضیق و عُسر تھا اور اللہعَزَّ  وَجَلَّفرماتا ہے:   وَ مَا جَعَلَ عَلَیْكُمْ فِی الدِّیْنِ مِنْ حَرَجٍؕ-۔ تم پر دین میں  کچھ تنگی نہ رکھی۔ اور وہ یقیناً حدیث ہے۔ اس کے بعد ایک مثال بیان کرتے ہیں  کہبادشاہ فرمائے:   زید سے کہو کہ ابھی آئے۔اس پر حکم پہنچانے والا زید سے جا کر کہے کہ ظل سبحانی نے فرمایا ہے:   فوراً حاضِر ہو۔ تو بے شک  نے بادشاہ ہی کا حکم

پہنچایا اور بادشاہ ہی کی بات نقل کی ۔مزید فرماتے ہیں  کہ حدیث کے جب معنیٰ حضور اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے ثابت اور صحیح ہیں  تو اسے موضوع نہیں  کہہ سکتے ورنہ صحیحین کی صدہا حدیثیں مَعَاذَ اللہموضوع ہوجائیں  گی۔ ہاں  اگر کوئییہ دعوٰی کرے کہ یہی الفاظ بِعَیْنِھَا زبانِ اقدس سے صادِر ہوئے ہیں  اور اس کا ثبوت نہ ہو تو وہ سخت خاطی ہے اور اگر دانستہ کہے تو مَنْ كَذَبَ عَلَیَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّاْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ۔ میں  داخل۔ وَاللهُ تَعَالٰی اَعْلَم(فتاویٰ رضویه ،  ۲۷/  ۴۹ تا ۵۰)

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن