دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Qoot ul Quloob Jild 2 | قوت القلوب جلد دوم

book_icon
قوت القلوب جلد دوم

حضرت سَیِّدُنا ابو سلیمان دارانی قُدِّسَ  سِرُّہُ النّوْرَانِی فرماتے ہیں:جو اپنے رب کے کاموں میں مَصروف ہوتا ہے وہ اپنے نَفْس کے کاموں سے غافِل ہوجاتا ہے، مگر جس شخص کی ہِمَّت  جواب دے جائے، نَفْس مُضْطَرِب ہو اور وہ اپنے رب کی قَضا کو پسند نہ کرے ، بلکہ جَزَع فَزَع کرے، شِکوہ و شِکایَت سے کام لے تو اس کا کمائی کرنا اَفضل  اور سَبَب کا اَپنانا عُمدہ ہے، یہ شخص کمائی نہ کرنے کی وجہ سے نُقْصَان کا شِکار ہو سکتا ہے، اس لیے کہ اس صُورَت میں اس کا یقین کمزور اور شِرک میں اِضافہ ہوتا جائے گا۔ 

اسی طرح جو شخص کَثْرَت سے اپنی بیماری کا رونا روئے اور اپنے رب کے حکْم پر ناراض رہے، اُکْتَاہَٹ و پریشانی کا شِکار ہو، مَرَض کی وجہ سے بَد اَخلاق ہو جائے تو ایسے شخص کے لیے اَفضل یہی ہے کہ وہ عِلاج کا اِہتِمام کرے کہ عِلاج کا اِہتِمام نہ کرنا اس کے لیے نُقْصَان دہ ہے۔

یقین کے کمزور ہونے کی عَلامَت

حضرت سَیِّدُنا ابو سعید خُدْرِی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے مَرْوِی ہے کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے پیارے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِرشَاد فرمایا:یقین کے کمزور ہونے کی عَلامَت یہ ہے کہ تو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی ناراضی مول لے کر لوگوں کو راضی کرے اور اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے رِزْق پر لوگوں کی تعریف کرے اور جو چیز تجھے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نہ دے اس پر تو دوسروں کی مَذمَّت بیان کرے، (یاد رکھو!)اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے رِزْق کو کسی حریص کی حِرْص کھینچ سکتی ہے نہ کسی ناپسند کرنے والے کی ناپسندیدگی دُور کر سکتی ہے۔ بے شک اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے اپنے حکْم وجلال کے باعِث اپنی رَضا و یقین میں راحَت و فَرْحَت کو اور شک و ناراضی میں غم و حُزْن کو رکھ دیا ہے۔[1]

٭٭٭

مشاہدے کی یکسانیت

(ظہورِ اسباب کے مُـخْتَلِف ہونے کے باوجود متوکل کا مشاہدہ یکساں ہوتا ہے)

خواص کی رزق پانے کی تین۳ کیفیات میں یکسانیت

یقین کی آنکھ نصیب ہونے کے باعِث خواص کے نزدیک دَرْج ذیل باتوں میں کوئی فَرْق نہیں:

٭ رِزْق بندوں تک ان کے اپنے ہاتھوں اور اِن کے اَسبابِ کمائی کے ذریعے پہنچے یا دوسروں کے ہاتھوں اور اُن کے اسبابِ کمائی کے ذریعے پہنچے، دونوں میں کوئی فَرْق نہیں۔ اس لیے کہ انہیں یہ کامِل یقین ہوتا ہے کہ انہیں عَطا کرنے والا ایک ہی ہے اور عَطا خواہ کیسی بھی ہو رِزْق ہی شُمار ہوتی ہے، کیونکہ ہاتھ تو عَطا کرنے کا ظَرْف (یعنی برتن) ہیں جو عام طور پر ایک جیسے ہی ہوتے ہیں، لہٰذا ظَرْف تیرا ہاتھ ہو یا کسی اور کا، بات تو ایک ہی ہے۔

٭اسی طرح کمائی تیرے کاروبار کی ہو یا کسی اور کے کاروبار کی، بات ایک ہی ہے، اس لیے کہ یہ سب تیرا رِزْق ہے، کیونکہ ہر شے کے لیے ایک حکْم، ہر شے میں ایک حِکْمَت اور ہر شے ایک نِعْمَت ہے۔ چنانچہ فرمانِ باری تعالیٰ ہے:

اِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِﭪ(۷)الَّتِیْ لَمْ یُخْلَقْ مِثْلُهَا فِی الْبِلَادِﭪ(۸) (پ ۳۰، الفجر:۷، ۸)

ترجمۂ کنز الایمان:وہ اِرَم حد سے زیادہ طول والے [2]  کہ ان جیسا شہروں میں پیدا نہ ہوا۔

(صَاحِبِ کِتاب اِمامِ اَجَلّ حضرت سَیِّدُنا شیخ ابُو طالِب مکّی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں)یہاں اس آیتِ مُبارَکہ میں اس بات کا تذکرہ کیا گیا ہے کہ قومِ اِرَم نے اپنے ہاتھوں سے بُلَند و بالا (محلات کے اونچے اونچے)سُتون  بنائےاور اس کام سے فارِغ بھی ہوگئے مگر پھر بھی اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے  ان کی  تخلیق کی نِسْبَت اپنی جانِب فرمائی۔

٭اسی طرح اس میں بھی کوئی فَرْق نہیں کہ ایک چیز اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے دستِ قُدْرَت سے ظاہِر ہو اور اس میں تخلیق کا فعل کارفرما ہو نہ کسی دیگر واسطے کا اس کے ظُہُور میں کوئی عَمَل دخل ہو اور دوسری وہ شے جو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی حِکْمَت اور ترتیبِ عُرف کے لِـحَاظ سے لوگوں کے ہاتھوں ظاہِر ہو۔ اس لیے کہ قُدْرَت بھی عَطا کے لیے ظَرْف کے قائم مَقام ہوتی ہے کہ جس کے ذریعے عَطا کا ظُہُور ہوتا ہے، یہ گویا بندوں کے ہاتھوں جیسی ہے یعنی انسان کے اپنے ہاتھوں ظاہِر ہو یا کسی دوسرے کے ہاتھوں سے۔ اس لیے کہ قُدْرَت اور حِکْمَت مُلک و مَلَکُوت (ظاہِری و باطِنی دنیا) کے دو۲ خزانے ہیں ۔

اَلْغَرَضْ یہ تینوں مَعانی یعنی (1 ) ۔۔۔۔جو رِزْق تیرے ہاتھوں اور تیری کمائی سے ظاہِر ہو (2 ) ۔۔۔۔جو کسی اور کے ہاتھوں اور اس کی کمائی سے ظاہِر ہو اور (3 ) ۔۔۔۔وہ رِزْق جسے قُدْرَت ظاہِر کرے یعنی اسے عَدَم سے اس طرح وُجُود ملے کہ اس میں کوئی مُعْتَاد طریقہ کارفرما ہو نہ عرفاً ایسا ہوتا ہو اور نہ کسی واسِطہ کا اس کے وُقُوع میں عَمَل دَخْل ہو۔ یہ سب باتیں اَہْل یقین کے نزدیک یَکْسَاں حَیْثِیَّت رکھتی ہیں۔ وہ ان میں سے کسی کو کسی پر ترجیح نہیں دیتے کیونکہ انہیں ایمانِ کامِل ، یقینِ مُحْکَم اور مُشاہَدۂ تام حاصِل ہوتا ہے۔ نیز ان سب باتوں میں حکیم و قادِر عَزَّ  وَجَلَّکی حِکْمَتِ کامِلہ اور قُدْرَتِ نافِذہ کارفرما ہے۔

اولیائے کِرام کا کسی سے کچھ لینا

عُلَمائے رَبّانِیِّیْن رَحِمَہُمُ اللہ الْمُبِین کے نزدیک جو شے واسِطوں کے ذریعے ظاہِر ہو اور جسے قُدْرَت ظاہِر کرے دونوں کی یَکْسَانِیَت پر یہ بات دَلَالَت کرتی ہے کہ ہر وہ شخص جس نے



[1]………الجليس الصالح الكافی  ، المجلس السابع:   الروح والفرج في الرضا واليقين ، ۱/ ۲۶۲

                                                موسوعة ابن ابی الدنیا ،  کتاب اليقين ، ۱/ ۳۵ ، حدیث:  ۳۲  ،  بتغیر قلیل  عن ابن مسعود

[2]………عِماد کا لغوی معنیٰ سُتُون ہے ،  یہاں  صَاحِبِ قُوت نے اس آیَتِ مُبارَکہ سے یہی معنیٰ مُراد لیا ہے گویا کہ آپ کے نزدیک اس آیَتِ مُبارَکہ کا مَفہوم کچھ یوں  ہے:   قومِ اِرَم اس قَدْر بُلَنْد و بالا سُتُونوں  والی تھی کہ ان جیسے سُتُون دیگر شہروں  میں  نہیں  بنائے گئے۔ جبکہ ایک رِوایَت کے مُطابِق قومِ اِرَم خود بھی طویل قد و قامت والے تھے ،  لہٰذا اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحمَۃُ رَبِّ الْعِزَّت نے یہاں  یہی معنیٰ ترجمۂ کنز الایمان میں  مُراد لیا ہے ،  یعنی قومِ اِرَم حد سے زیادہ طویل القامت تھے کہ ان جیسے لوگ دیگر شہروں  میں  پیدا نہ ہوئے۔

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن