دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Qoot ul Quloob Jild 2 | قوت القلوب جلد دوم

book_icon
قوت القلوب جلد دوم

قِیامَت کےدن  شہیدوں کے عِلاوہ بھی کوئی شہادت کے دَرَجَہ پر فائز ہوگا؟اِرشَادفرمایا:ہاں!جوشخص روزانہ موت کو 20 مرتبہ یادکرے۔[1]

ایک رِوایَت میں ہےکہ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اس شخص کا ذِکْر فرمایا جو اپنے گناہوں کو یاد کرکے غمگین ہوجائے ۔

وبائی امراض میں بندہ کیا کرے؟

اگر کسی نے عِلاج نہ کیا اور بغیر دوا کے آہستہ آہستہ صِحَّت یاب ہوا تو یہ صِحَّت اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی قَضا و قَدَر کا نتیجہ ہے۔ البتہ! اس بات میں صَحابَۂ کِرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان میں اِخْتِلاف پایا جاتا ہے۔ چنانچہ  مَنْقُول ہے کہ ایک سال امیر المومنین حضرت سیِّدُنا عُمَر فَارُوق اَعْظَم رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے صَحابۂ کِرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کے ساتھ  مُلْکِ شام کی جانِب سَفَر کیا۔ جب جابیہ نامی ایک جگہ کے قریب  پہنچے تو خَبَر آئی کہ شام میں  ایک وَبا پھوٹنے کی وجہ سے کافی اَموات ہوچکی ہیں،لہٰذا صَحابۂ  کِرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان وہیں ٹھہر گئے، (بَاہَمی مُشَاوَرَت شرو ع ہوئی کہ اب کیا کریں؟ کیا آگے جائیں یا نہ جائیں؟ چنانچہ)اس مسئلہ میں وہ دو۲ گِروہ بن گئے، ایک گِروہ کی رائے تھی ہم وَبا والے مَقام پر نہیں جائیں  گے کہ یہ خود کو ہَلاکَت پر پیش کرناہے جبکہ دوسرے گِروہ کا کہنا تھا کہ ہم جائیں گے اور تَوَکُّل کریں گے کہ ہم اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی تقدیر سے  بھاگ سکتے ہیں نہ موت سے،اگر ہم نے ایسا کیا تو کہیں ان لوگوں کی طرح نہ ہوجائیں جن کے بارے میں اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے اِرشَاد فرمایا ہے:

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ خَرَجُوْا مِنْ دِیَارِهِمْ وَ هُمْ اُلُوْفٌ حَذَرَ الْمَوْتِ۪-(پ۲،البقرة:۲۴۳)                                 

ترجمۂ کنز الایمان:اے محبوب کیا تم نے نہ دیکھا تھا انہیں جو اپنے گھروں سے نکلے اور وہ ہزاروں تھے موت کے ڈر سے۔

بالآخر مُعَامَلہ امیر المومنین حضرت سیِّدُنا عُمَر فَارُوق اَعْظَم رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کی خِدْمَت میں پیش کیاگیااور آپ کی رائے مَعْلُوم کی گئی تو آپ نے ان لوگوں کی رائے کی مُوَافِقَت فرمائی جن کا کہنا تھا کہ ہم واپَس لوٹیں گے اور وبا والی جگہ نہیں جائیں گے۔اِخْتِلافِ رائے رکھنے والے گِروہ نے عَرْض کی:کیا ہم تقدیرِ اِلٰہی سے بچ کر بھاگ سکتےہیں؟اِرشَاد فرمایا:ہاں! (بات کچھ ایسی ہی ہے مگر)ہم اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی ایک تقدیر سے دوسری تقدیر کی جانِب جارہے ہیں۔یہ فرما کر آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے (انہیں سمجھانے کےلیے)یہ مِثال اِرشَادفرمائی:اگر تم میں سے کسی کے پاس بکریوں کا ریوڑ ہو اور اس کے پاس دو۲ وادیاں ہوں، ان میں سے ایک سرسبز و شاداب ہو جبکہ دوسری بنجر ہو، اگر وہ اپنا ریوڑ سرسبز و شاداب حِصّہ میں چَراتاہے توکیا تقدیرِ اِلٰہی کے مُطابِق نہیں ہوگا؟یونہی  اگر وہ اپنا ریوڑ بنجر حِصّے  میں چَرائے  تو کیا تقدیرِ  الٰہی کے مُطابِق نہیں ہوگا؟یہ سن کر سب صَحابۂ کِرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان چُپ ہو گئے، پھر آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے حضرت سیِّدُنا عبدالرحمٰن بن عوف رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کی رائے جاننے کے لئے انہیں یاد فرمایاتو عَرْض کی گئی کہ وہ ابھی مَوجُود نہیں ہیں کیونکہ جب ان لوگوں نے اس جگہ پڑاؤ کیا تھا وہ ابھی تک یہاں نہ پہنچے تھے۔چنانچہ امیر المومنین رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ اور دیگر وہ تمام لوگ جن کی یہی رائے تھی، اپنی رائے پر پختہ ہو گئے کہ حضرت سَیِّدُنا عبد الرحمٰن بن عوف رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کی رائے کے بعد ہی حَتْمی فیصلہ ہوگا۔

صُبْح کے وَقْت جب حضرت سَیِّدُنا عبد الرحمٰن بن عَوف رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ بھی آپہنچے اور امیر المومنین حضرت سیِّدُنا عُمَر فَارُوق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے اس مسئلہ میں ان کی رائے جاننا چاہی تو انہوں نے کہا:امیر المومنین !اس مسئلہ میں میری رائے وُہی ہےجو میں نے رسولُ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے سنی ہے۔ یہ سن کر امیر المومنین رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرطِ خوشی سے فوراً اَللّٰهُ اَکْبَر کہا ،پھر حضرت سیِّدُنا عبدالرحمٰن بن عوف رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے حدیث بیان کی کہ میں  نے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے پیارے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کو اِرشَاد فرماتے سنا کہ جب  کسی جگہ وبا پھیلنے کی خَبَر سنو تو وہاں نہ جاؤ اور جب کسی جگہ مَوجُود ہو اور وہاں وبا پھیل جائے تو  وہاں سے مَت بھاگو۔[2] حضرت سیِّدُنا عُمَر فَارُوق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ یہ فرمان سن کر بے حد خوش ہوئے اور اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کا شُکْر ادا کیا کہ ان کی رائے حدیثِ پاک کے مُطابِق تھی۔ لہٰذا جابیہ سے ہی لوگوں کے ساتھ واپَس  تشریف لے آئے۔

عِلاج اور ترکِ عِلاج کی ایک اور تمثیل

عِلاج کرنا اور نہ کرنا دونوں جائز ہیں، ان میں سے ایک طریقہ طَاقَت ور اور صَبْر کرنے والوں کا ہے یعنی تَرْکِ عِلاج۔اس کی مِثال کمائی کرنے اور نہ کرنے جیسی ہے۔ یعنی بندے کے لیے اپنی اُس بھوک کے وَقْت کمائی کرنا جائز ہے کہ جو جِسْم کے لیے ایک  بیماری کی حَیْثِیَّت رکھتی ہے، تاکہ بندہ روٹی کے ذریعے دوا لینے میں جَلْدی کرے،اس صُورَت میں اس کا تَوَکُّل مَعْیُوب نہیں سمجھا جاتا، کیونکہ یہ اَمر مُباح ہے اور اس کا حکْم بھی دیا گیا ہے۔ چنانچہ،

کمائی کرنے میں نیتیں

٭۔۔۔۔اگر بندے نے کمائی کرنے میں یہ نِیَّت کر لی کہ وہ طَاعَت و عِبَادَت پر قوّت حاصِل کر سکے، راہِ خُدا میں سَعی و کوشِش کر سکے اور نیکی و تقویٰ کے کاموں پر مُعَاوَنَت کرسکے تو یہ بہتر ہے۔

٭۔۔۔۔اگر کمائی کرنے میں اس کی نِیَّت یہ ہو کہ وہ نفسانی شَہْوَت کی تسکین کی خاطِر کھائے، نفسانی لذّت حاصِل کر سکے تو اس کا تَوَکُّل نہ صِرف کم ہوجائے گا بلکہ اسے حقیقتِ تَوَکُّل سے بھی خارِج کر دے گا۔ یہ طریقہ دنیا کے حُصُول کا ہے اگرچہ یہ بھی مُباح ہے۔

٭۔۔۔۔اگر کمائی سے مَقْصُود مال کی کَثْرَت اور جَمْع و مَنْع کی حِرْص ہو تو بندہ اپنی کمائی کے سَبَب اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی مُخالَفَت کرنے کی وجہ سے گناہ گار ہو گا اور یہ نفسانی خواہش کی تکمیل کا بَہُت بڑا ذریعہ ہے۔

کس کے لیے کمائی نہ کرنا افضل ہے؟

اگر کسی شخص نے کمائی کرنا چھوڑ دی اور بھوک پر صَبْر سے کام لیا اور قِلَّت و فَقْر پر راضی رہا تو اس کا رِزْق وَقْت آنے پر اس کے پاس (خود ہی کسی طرح)پہنچ جائے گا۔ اگرچہ وہ بَہُت تھوڑا ہی ہو اور کثیر نہ ہو، مگر یہ شخص بہترین صَبْر،حُسْنِ رَضا، سُکُونِ نَفْس اور اِطمینانِ قَلْب کا مُحتَاج رہے گا، اگر یہ باتیں پائی گئیں تو یہی تَوَکُّل ہے اور وہ اپنے حُسْنِ یقین کی بِنا پر کمائی نہ کرنے پر فضیلت کا حَق دار ہو گا کیونکہ اسے اپنے رازِق پر بھروسا ہے، وہ بہتر کام میں مَشْغُول ہے اور نَفْع مند اُخْرَوِی کام کر رہا ہے۔

کس کے لیے کمائی کرنا افضل ہے؟

 



[1]………معجم اوسط ، ۵/ ۳۸۱ ، حدیث:  ۷۶۷۶  ، بتغیر

[2]………مسلم ،  کتاب السلام ، باب الطاعون  والطیرة والكهانة ونحوها ، ص۱۲۱۷ ،  حديث:  ۲۲۱۹

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن