30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
پر صَبْر کرے نہ میری قَضا پر راضی ہو اور نہ میری نعمتوں کا شُکْر اَدا کرے تو وہ میرے عِلاوہ کسی اور کو اپنا مَعْبُود بنا لے۔ [1]
عِلاج پر صَبْر کرنا دنیا میں زُہْد اِخْتِیار کرنے کا دروازہ ہے ، یعنی جس قَدْر نفسانی لذّتوں میں کمی ہو گی اسی قَدْر زُہْد میں اِضافہ ہو گا، اس لیے کہ جِسْم کا تعلّق عالَمِ ظاہِر سے ہے اس میں جس قَدْر کمی ہو گی دنیا میں بھی اسی قَدْر کمی ہو گی جبکہ دِل کا تعلّق عالَمِ باطِن سے ہے اس میں جس قَدْر اِضافہ ہو گا آخِرَت میں بھی اسی قَدْر اِضافہ ہو گا۔ نیز یہ بات صَبْر کے حُصُول کا دروزاہ ہے کہ جس قَدْر نُقْصَان ہو اس پر صَبْر کیا جائے۔ جیسا کہ فرمانِ باری تعالیٰ ہے:
وَ لَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَیْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَ الْجُوْ عِ وَ نَقْصٍ مِّنَ الْاَمْوَالِ وَ الْاَنْفُسِ وَ الثَّمَرٰتِؕ-وَ بَشِّرِ الصّٰبِرِیْنَۙ(۱۵۵) (پ ۲، البقرة:۱۵۵)
ترجمۂ کنز الایمان:اور ضَرور ہم تمہیں آزمائیں گے کچھ ڈر اور بھوک سے اور کچھ مالوں اور جانوں اور پھلوں کی کمی سےاور خوشخبری سنا ان صَبْر والوں کو۔
مُراد یہ ہے کہ جانوں کی آزمائش یہ ہو گی کہ انہیں بیماری میں مبتلا کر دیا جائے گا جبکہ مالوں کی آزمائش یہ ہو گی کہ ان میں کمی کر دی جائے گی یا انہیں خَتْم کر دیا جائے گا۔ چنانچہ (صَاحِبِ کِتاب اِمامِ اَجَلّ حضرت سَیِّدُنا شیخ ابُو طالِب مکّی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں)یہی وجہ ہے کہ ہم نے صَبْر کو زُہْد قرار دیا کیونکہ اس کا تعلّق مال سے بھی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ بندہ اس بات سے بھی بے خوف نہیں ہو سکتا کہ وہ جَلْد صِحَّت یاب ہو کر مَعاصی میں مبتلا نہ ہو۔ لہٰذا جب بیماری کا مَخْصُوص وَقْت گزَر جائے گا تو وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے اِذْن سے بغیر دوا کے تَنْدُرُسْت ہو جائے گا۔
حَالَتِ مَرَض میں مریض کو چاہئے کہ وہ توبہ کرے، اپنے گناہوں پر دُکھ کا اِظْہَار کرے، کَثْرَت سے اِسْتِغفار پڑھے، اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا ذِکْر کرے، اُمِّیدوں کو کم کر دے اور موت کو بَہُت زیادہ یاد رکھے۔ چنانچہ،
مَرْوِی ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے پیارے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِرشَاد فرمایا: لذّتوں کو خَتْم کرنے والی موت کا کَثْرَت سے ذِکْر کیا کرو۔[2]
سب سے زیادہ جو شے موت کی یاد دِلاتی ہے اور جس کی آمد پر موت کی تَوَقُّع کی جاتی ہے وہ اَمراض ہیں۔ جیسا کہ ایک قول میں ہے کہ بُخار موت کا قاصِد ہے۔[3] اور فرمانِ باری تعالیٰ ہے:
اَوَ لَا یَرَوْنَ اَنَّهُمْ یُفْتَنُوْنَ فِیْ كُلِّ عَامٍ مَّرَّةً اَوْ مَرَّتَیْنِ (پ۱۱،التوبة:۱۲۶)
ترجمۂ کنز الایمان:کیا انہیں نہیں سوجھتا کہ ہرسال ایک یا دو۲ بار آزمائے جاتے ہیں۔
یہاں ایک قول کے مُطابِق انہیں بیماریوں سے آزمانا مُراد ہے۔ جبکہ ایک قول میں ہے کہ بندہ جب دو۲ مرتبہ بیمار ہو اور پھر بھی توبہ نہ کرے تو مَلکُ الْمَوت عَلَیْہِ السَّلَام اس سے کہتے ہیں:اے غافِل انسان!تیرے پاس میرا ایک کے بعد ایک قاصِد آیا لیکن تو نے کوئی جواب نہ دیا۔
اَسلاف کا مصیبت نہ آنے پر طرزِ عمل
سَلَف صَالِـحِین رَحِمَہُمُ اللہ الْمُبِین پر اگر کسی سال کوئی جانی یا مالی مصیبت نہ آتی تو گھبرا جاتے تھے۔ایک قول میں ہے کہ مومِن کو ہر 40 دن میں کوئی نہ کوئی گھبرادینے والا مُعَامَلہ یا آزمائش ضَرور پہنچتی ہے۔اگر کبھی اتنے دن بغیر کسی مصیبت کے گزَر جاتے تو وہ پریشان ہو جایا کرتے تھے۔ چنانچہ،
بیمار نہ ہونے والی زوجہ کو طلاق دیدی
مَرْوِی ہے کہ حضرت سیِّدُنا عمّار بن یاسِر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے ایک عورت سے نِکاح کیا جو کبھی بیمار نہ ہوتی تھی تو آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے اسے طلاق دے دی۔
سرکار نے بیمار نہ ہونےوالی عورت سے شادی نہ کی
ایک مرتبہ بارگاہِ رِسَالَت میں ایک عورت کے اَوصاف بیان کیے گئے یہاں تک کہ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اس سے نِکاح کا اِرادہ فرما لیا،پھر کسی نے یہ وَصْف بیان کردیاکہ وہ کبھی بیمار نہیں پڑی تو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِرشَاد فرمایا:مجھے اس کی کوئی ضَرورت نہیں۔[4]
بیمار نہ ہونا جہنمی ہونے کی عَلامَت ہے
ایک مرتبہ حُضُور نبی پاک، صاحبِ لَوْلاک صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے دردِ سَر وغیرہ اَمراض کا تذکرہ فرمایا تو ایک شخص نے عَرْض کی:یہ دردِسَر کیا ہوتاہے؟میں اسے نہیں جانتا۔اِرشَادفرمایا:مجھ سے دُور ہوجا! جوکسی جہنمی کو دیکھنا چاہےوہ اسے دیکھ لے۔[5] ایسا اس لیے اِرشَادفرمایا گیا کہ ایک حدیثِ پا ک میں ہے :بُخار ہر مومِن کا حِصّہ ہے جوکہ جہنّم کی آگ سے(اسے پہنچنا)تھا۔[6]
اُمُّ المومنین حضرت سیِّدَتُنا عائشہ صِدِّیْقَہ اور حضرت سیِّدُنا اَنَس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے رِوایَت ہے کہ کسی نے بارگاہِ رِسَالَت میں عَرْض کی:یارسول اللہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! کیا
[1]………معجم کبیر ، ۲۲/ ۳۲۰ ، حدیث: ۸۰۷
تنبیه الغافلین ، باب الصبر علی المصیبة ، ص۱۴۳ ، حدیث: ۳۴۷
[2]………ترمذی ، کتاب صفة القيامة ، باب رقم: ۲۶ ، ۴/ ۲۰۸ ، حدیث: ۲۴۶۸
[3]………موسوعة ابن ابی الدنیا ، کتاب اصلاح المال ، ۷/ ۴۸۰ ، حدیث: ۳۴۹ ، برید: بدله: رائد
[4]………مسند احمد ، مسند انس بن مالك ، ۴/ ۳۱۱ ، حدیث: ۱۲۵۸۱
[5]………مسند احمد ، مسند ابی ھریرة ، ۳/ ۲۲۸ ، حدیث: ۸۴۰۳ ، بتغیر قلیل
[6]………موسوعة ابن ابی الدنیا ، کتاب المرض والکفارات ، ۴/ ۲۷۰ ، حدیث: ۱۶۰ مسند احمد ، حديث ابي امامة ، ۸/ ۲۷۵ ، حدیث: ۲۲۲۲۷
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع