30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اسی طرح عارِفین رَحِمَہُمُ اللہ الْمُبِین کے نزدیک روٹی بندے کو سیر کرتی ہے نہ پانی اسے سیراب کرتا ہے، جیسا کہ مال کا ہونا بندے کو غنی کرتا ہے نہ اس کا نہ ہونا اسے فقیر بناتا ہے، اس لیے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہی کھِلانے اور پِلانے والا ہے اور وُہی بندے کو سَیر ہونے اور سیراب ہونے کی نِعْمَت عَطا فرماتا ہے جیسا کہ وُہی ہے جو اپنے بندے کو جس شے سے چاہتا ہے اور جیسے چاہتا ہے غنی و مُحتَاج بناتا ہے۔ کھانے پینے کی چیزوں میں سَیری و سیرابی بھی اسی کی پیدا کردہ ہیں جیسا کہ اس نے اپنی حِکْمَت و رَحْمَت سے نَفْس میں غِنا و محتاجی ڈال رکھی ہے،اسی طرح بھوک اور پیاس کا پیدا کرنے والا بھی اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہی ہے، وُہی بھوک و پیاس کے وَقْت کھانا اور پانی عَطا فرماتا ہے جس سے بھوک و پیاس خَتْم ہوتی ہے۔ جیسا کہ وُہی دن پر رات کو اور رات پر دن کو بھیجتا ہے تو ان میں سے ہر ایک دوسرے پر غالِب آکر اسے خَتْم کر دیتا ہے۔
مُوَحِّدِین کے نزدیک ان سب باتوں کی حَیْثِیَّت یَکْسَاں ہے، خواہ دِن ہو یا رات، بیماری ہو یا اس سے شِفا کا ذریعہ بننے والی دوائیاں کہ ان میں کوئی شے اپنی ضِد پر غالِب آکر اسے خَتْم کردے ، کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ یہ سب کچھ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے اِذْن سے ہے۔ عوام میں ان باتوں میں شِرک چکنے پَتّھر پر چلنے والی چیونٹی کی رفتار سے بھی مَـخْفِی ہوتا ہے، جبکہ اہلِ یقین اور صحیح توحید والے ان سب باتوں سے بَری ہیں۔ یہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے دَرْج ذیل فرمانِ عالیشان کی دو۲ صورتوں میں سے ایک صُورَت ہے۔ چنانچہ اِرشَاد ہوتا ہے:
الَّذِیْۤ اَعْطٰى كُلَّ شَیْءٍ خَلْقَهٗ ثُمَّ هَدٰى(۵۰) (پ ۱۶، طٰه: ۵۰)
ترجمۂ کنز الایمان:جس نے ہر چیز کو اس کے لائق صُورَت دی پھر راہ دکھائی۔
مُراد یہ ہے کہ ہر رنگ اور جِنْس کو اس کی فطرت عَطا کی، یعنی ہر شے کو نَفْع و نُقْصَان کے لِـحَاظ سے اس کی صُورَت اور اَوصاف عَطا کئے۔
حُصُولِ عِلاج میں نیَّت کے اعتبار سے لوگوں کی اقسام
اگر مریض عِلاج کے ذریعے جَلْد صِحَّت یابی چاہے اور وہ صِحَّت یاب بھی ہو جائے تو یہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قَضا و قَدَر کی وجہ سے ہے کہ اس نے اسے جَلْدی صِحَّت عَطا فرما دی ہے۔
اگر وہ عِلاج کروانے اور جَلْد صِحَّت یاب ہونے میں یہ نِیَّتیں بھی کر لے کہ وہ اپنے رب کی فرمانبرداری کرے گا اور اس کے اَحْکام کو بجالائے گا تو یہ بات اس کے لیے مزید اَجْر و ثواب کا باعِث ہو گی اور اس کے مَقامِ تَوَکُّل میں بھی کوئی کمی نہ ہو گی۔
اگر اس نے عِلاج اس غَرَض سے کروایا کہ جسمانی طور پر صِحَّت مند ہو جائے اور عَافِـیَّت پاکر نعمتوں سے خُوب لُطْف اندوز ہو سکے تو یہ دنیا کے دروازوں میں سے ایک دروازہ ہے اور یوں وہ مُباح دُنْیَاوِی اَشیا میں داخِل ہو جائے گا مگر تَوَکُّل کی فضیلت نہ پاسکے گا۔ دُنْیَاوِی زِنْدَگی اور نعمتوں سے بندہ جس قَدْر کم بے رَغْبَت ہوگا اسی قَدْر اس میں تَوَکُّل بھی کم پایا جائے گا۔
اگر جَلْد صِحَّت یابی پانے سے مَقْصُود یہ ہو کہ نفسانی خواہشات کے حُصُول کی خاطِر اس کا نَفْس قَوِی ہوجائے اور وہ اپنے رب کی نافرمانی کر سکے تو وہ گناہ گار ہو گا کیونکہ اس کی نِیَّت بُری ہے اور وہ بُرائی کا عَزْم رکھتا ہے۔ یہ شخص مُباح دنیا کے حُصُول سے مَـمْنُوع دنیا کے حُصُول کی طرف چلا گیا ہے اور یہ بات اسے تَوَکُّل کی حَد بلکہ اِبْتِدَا سے ہی نِکال باہَر کرے گی۔ یہ بات قَابِلِ مَذمَّت دنیا کے دروازوں میں سے ایک ہے۔
اگر جَلْد صِحَّت یابی میں اس کی نِیَّت یہ ہو کہ کاروبارِ حَیات میں تَصَرُّف کر سکے اور کمائی کرے تاکہ خَرْچ کرنے کے ساتھ ساتھ کچھ مال جَمْع بھی کر لے تو اس کا مُعامَلہ مَـحَلِ نَظَر ہو گا۔ چنانچہ اگر اس نے بَقَدْرِ ضَرورت کمانے کی کوشِش کی تاکہ اپنے کمزور اہل و عَیال پر خَرْچ کر سکے اور اپنی کوئی ضَرورت و حاجَت پوری کر سکے یا کسی کا حَق ادا ہو سکے تو اس کا تعلّق پہلے گِروہ سے ہو گا اور یہ بھی آخِرَت کے دروازوں میں سے ایک دروازہ ہے اور اس پر اسے اَجْر دیا جائے گا اور وہ تَوَکُّل کی حَد سے بھی خارِج نہ ہو گا۔ لیكن اگر وه مَحْض مال كی کَثْرَت اور لوگوں پر اپنی بڑائی ظاہِر کرنے کے لیے کمانے کی کوشِش کرے اور یہ پَروا نہ کرے کہ مال کہاں سے کما رہا ہے اور کہاں خَرْچ کر رہا ہے تو اس کا تعلّق تیسری قِسْم کے لوگوں سے ہو گا، یعنی یہ گناہ گار ہو گا اور یہ دنیا کا سب سے بڑا دروازہ ہے جو بارگاہِ خداوندی سے دُور کر دینے والا ہے۔
(صَاحِبِ کِتاب اِمامِ اَجَلّ حضرت سَیِّدُنا شیخ ابُو طالِب مکّی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں)یہ نیتیں عام لوگوں کی ہیں جو وہ عِلاج میں کرتے ہیں، ان میں سے بعض اَچھّی اور بعض بُری ہیں۔جبکہ مُتَوکِّل اگر عِلاج کا اِہتِمام نہ کرے بلکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کو فیصلے کے سامنے سرِ تسلیم خَم کر دے، اس کے حکْم کے تحت سُکُون مَحْسُوس کرے، اس کے اِخْتِیارپر راضی رہے ، اس لیے کہ اسے یہ یقین ہوتا ہے کہ بیماری کا ایک وَقْت مُعَیَّن ہے جب وہ وَقْت پورا ہوگا تو وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے اِذْن سے صِحَّت مند ہو جائے گا اور وہ دن 20 دن بعد آئےگا۔چنانچہ وہ صَبْر کرتا اور راضی رہتا ہے اور اپنے آپ کو مزید 10 دن تکلیف بَرْدَاشْت کرنے پر اُبھارتا ہے تاکہ قَضائے باری تعالیٰ پر نَفْس راضی رہے اور اس کی طرف سے آنے والی آزمائش پر صَبْر کرے، اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے جو کچھ اس کے لیے پسند فرمایا ہے اس پر حُسْنِ ظَن رکھے اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قَضا کو بُرا نہ جانے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ پر حُسْنِ ظَن کی ایک صُورَت یہ بھی ہے کہ اس کی قَضا پر کسی بھی صُورَت میں کوئی تُہْمَت نہ لگائی جائے۔ چنانچہ،
اسی مَفہوم میں نَصّ مَرْوِی ہے کہ ایک شخص نے عَرْض کی: یا رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! مجھے کچھ وَصیَّت فرمائیے۔ تو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِرشَاد فرمایا:اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے جو فیصلہ تیرے خِلاف لکھا ہے اس میں اس پر کوئی تُہْمَت مت لگاؤ۔ [1]اس سے بھی سَخْت رِوایَت وہ حَدِیْثِ قُدْسِی ہے جس میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ اِرشَاد فرماتا ہے:جو شخص میری آزمائش
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع