دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Qoot ul Quloob Jild 2 | قوت القلوب جلد دوم

book_icon
قوت القلوب جلد دوم

طریقہ اپنایاہواہے؟لوگوں نے عَرْض کی:اے امیر المومنین !یہ ان لوگوں کی عِید کا دن ہے۔ یہ سُن کر اِرشَاد فرمایا:ہروہ دن جس میں اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی نافرمانی نہ ہو وہ ہمارے لئے عید کا دن ہے۔

عافیت و مالداری بھی گناہ کا سَبَب ہیں

فرمانِ باری تعالیٰ ہے:

وَ  عَصَیْتُمْ  مِّنْۢ  بَعْدِ  مَاۤ  اَرٰىكُمْ  مَّا  تُحِبُّوْنَؕ- (پ ۴، اٰل عمران:۱۵۲)                   

ترجمۂ کنز الایمان:اور نافرمانی کی بعد اس کے کہ اللہ تمہیں دِکھا چکا تمہاری خوشی کی بات۔

ایک قول کے مُطابِق یہاں خوشی کی بات سے مُراد عَافِـیَّـتیںاور مال داری ہے۔

فرعون کےخدائی کا دعویٰ کرنے کی وجہ

فِرْعَون نے جو یہ کہا تھا کہ (اَنَا رَبُّكُمُ الْاَعْلٰى٘ۖ(۲۴) (پ ۳۰، النزعت:۲۴)  ترجمۂ کنز الایمان:میں تمہارا سب سے اونچا رب ہوں۔)تو اس کی وجہ یہ تھی  کہ وہ طویل عرصہ تک صِحَّت مند رہا،400 سال تک اس کے سر میں دَرْد ہوا نہ کبھی بُخار ہوا اور نہ کبھی کسی رَگ میں تکلیف ہوئی۔چنانچہ وہ خُدائی کا دعویٰ کر بیٹھا، حالانکہ اگر روزانہ اس کے آدھے سر میں دَرْد ہوتا یا وہ بُخار کی تَپِش میں مبتلا ہوتا تو خُدائی کا دعویٰ کرنے کی اسے کبھی فُرْصَت نہ ملتی۔

تندرستی کے باعث نافرمانی کی وجہ

(صَاحِبِ کِتاب اِمامِ اَجَلّ حضرت سَیِّدُنا شیخ ابُو طالِب مکّی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں)یاد رکھئے! انسان جس طرح مال کے ذریعے نافرمانی کرتا ہے اسی طرح صِحَّت و تَنْدُرُسْتی کے باعِث بھی نافرمانی کا مُرْتکِب ہوتا ہے، اس لیے کہ صِحَّت و عَافِـیَّت کی وجہ سے وہ کسی کو خاطِر میں نہیں لاتا جیسا کہ مال کی وجہ سے وہ کسی کی پَروا نہیں کرتا، حالانکہ ان میں سے ہر ایک میں فتنہ و آزمائش ہے۔ چنانچہ فرمانِ باری تعالیٰ ہے:

كَلَّاۤ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَیَطْغٰۤىۙ(۶) اَنْ رَّاٰهُ اسْتَغْنٰىؕ(۷) (پ۳۰،العلق:۶، ۷)  

ترجمۂ کنز الایمان:ہاں ہاں بےشک آدمی سرکشی کرتا ہے اس پر کہ اپنے آپ کو غنی سمجھ لیا۔

اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے پیارے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے: دو۲ نعمتیں ایسی ہیں جن میں بَہُت سے لوگ دھوکے میں مبتلا ہوجاتے ہیں: صِحَّت و تَنْدُرُسْتی اور فَراغَت۔ [1]

صِحَّت و عَافِـیَّت کی حَالَت میں گناہوں سے مَحْفُوظ رہنا ایک دوسری نِعْمَت ہے جیسا کہ حَالَتِ غِنا میں گناہوں سے مَحْفُوظ رہنا نِعْمَت دَر نِعْمَت ہے اور یہ دَرْج ذیل آیَتِ مُبارَکہ کی دو۲ صورتوں میں سے ایک صُورَت ہے۔ چنانچہ فرمانِ باری تعالیٰ ہے:

اَذْهَبْتُمْ طَیِّبٰتِكُمْ فِیْ حَیَاتِكُمُ الدُّنْیَا (پ ۲۶، الاحقاف:۲۰)

ترجمۂ کنز الایمان:تم اپنے حِصّہ کی پاک چیزیں اپنی دنیا ہی کی زِنْدَگی میں فنا کر چکے۔

بیماریوں کا دوسرا فائدہ

بیماریاں گناہوں کو مِٹاتی ہیں، لیکن جب بندہ بیماری کو بُرا جانتا ہے تو اس پر اس کے گناہ کَثْرَت سے باقی  رہ جاتے ہیں۔

بخار کی وجہ سے کوئی گناہ باقی نہیں رہتا

اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے مَحبوب، دانائے غُیوب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے:بندہ بُخار اور تَپِش میں پڑا رہتا ہے یہاں تک کہ زمین پر چلتا ہے تو اس پر کوئی گناہ باقی نہیں رہتا۔[2]

سال بھر کے گناہوں کا کفارہ

ایک رِوایَت میں ہے کہ دو۲ جَہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَر صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِرشَاد فرمایا: ایک دن کا بُخار سال بھر کے گناہوں کا کفّارَہ ہے۔[3]

سال بھر کے گناہوں کا کفارہ ہونے کی وجہ

(صَاحِبِ کِتاب اِمامِ اَجَلّ حضرت سَیِّدُنا شیخ ابُو طالِب مکّی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں)اس رِوایَت کی تاویل میں جو سب سے بہترین بات میں نے سنی ہے وہ یہ ہے کہ ایک دِن کے بُخار کا سال بھر کے گناہوں کا کفّارہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ ایک دِن کا بُخار سال بھر کی قوّت خَتْم کر دیتا ہے اور ایک قول میں ہےکہ انسان کے 360 جوڑ ہوتے ہیں[4] اور ایک دِن کا بُخار ہر جوڑ پر اَثَر انداز ہوتا ہے[5] لہٰذا ہر جوڑ (کا بُخار)ایک دِن کا کفّارہ بن جاتاہے۔

بخار میں مبتلا رہنے کی تمنا

جب سرکارِ مدینہ، قرارِ قلب وسینہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے یہ اِرشَادفرمایا کہ بُخار گناہوں کا کفّارہ ہے۔[6]  تو حضرت سیِّدُنا زید بن ثابِت رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے بارگاہِ خُداوندی میں ہمیشہ بُخار میں  مبتلا رہنے کی دُعا کی۔ چنانچہ اِنْتِقَال فرمانے تک آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ پر بُخار کی کَیْفِیَّت طارِی رہی۔اَنصار کی ایک جَمَاعَت سے بھی ایسا ہی قول مَرْوِی ہے کہ انہوں نے بھی



[1]………بخاری ،  کتاب الرقاق  ،  باب ماجاء فی الرقاق ...الخ ، ۴/ ۲۲۲ ، حدیث:  ۶۴۱۲

[2]………مسند ابی يعلى ، مسند ابی هريرة ، ۵/ ۳۶۲ ، حدیث:  ۶۱۲۴ ، مفھوماً

[3]………موسوعة ابن ابی الدنیا ،  کتاب المرض والکفارات ، الجزء الاول ، ۴/ ۲۳۹ ، حدیث:  ۵۰

[4]………ابو داود ،  کتاب الادب ،  باب فی اماطةالاذیعنالطریق ،  ۴/  ۴۶۱ ،  حدیث:  ۵۲۴۲

[5]………مصنف ابن ابی شیبة ، کتابالجنائز ، بابماقالوافیثوابالحمیوالمرض ،  ۳/  ۱۱۹ ،  حدیث:  ۱۸

[6]………موسوعة ابن ابی الدنیا ،  کتاب المرض والکفارات ، الجزء الاول ، ۴/ ۲۳۹ ، حدیث:  ۵۰

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن