30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
نَماز پڑھ رہا ہے یا بیماری کے سَبَب نیک اَعمال کی طَاقَت نہیں رکھتا مگر کھڑے ہو کر نَماز پڑھنے اور دیگر نیک اَعمال کرنے کی خاطِر عِلاج کا اِہتِمام کر رہا ہے تو اس پر تَعَجُّب کا اِظْہَار فرماتے اور اِرشَادفرماتے: جسمانی قوّت حاصِل کرنےاورکھڑے ہوکر نَماز پڑھنے کےلئے عِلاج کروانے سے بہتر ہے کہ یہ رَضائے اِلٰہی پر راضی رہےاور بیٹھ کرنَماز پڑھے۔
ضَرور پوچھا جائے گا کہ تم نے یہ دوا کیوں اِسْتِعمال کی؟
جب آپ رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہسے دوا اِسْتِعمال کرنے کے مُتَعَلّق پوچھا جاتا تو اِرشَادفرماتے:ہر وہ شخص جو دَوا اِسْتِعمال کرے تو اس کے لیے ایسا کرنا جائز ہے کیونکہ دَوا اِسْتِعمال کرنے میں کمزور یقین والوں کے لئے گنجائش ہے، البتہ جو لوگ دَوا اِسْتِعمال نہیں کرتے وہ اَفضل ہیں، کیونکہ جو بھی دَوا اِسْتِعمال کی جائے اگرچہ ٹھنڈا پانی ہو اس کے مُتَعَلِّق ضَرور پوچھا جائے گا کہ تم نے یہ دَوا کیوں اِسْتِعمال کی؟ اور جو اِسْتِعمال نہ کرے گا اس سے کوئی سوال نہ ہوگا۔آپ رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ جس نے ٹھنڈا پانی بھی دَوا کے طور پر اِسْتِعمال کیا اس سے اس کے مُتَعَلّق پوچھا جائے گا۔
حضرت سَیِّدُنا ابو محمد سَہْل تُسْتَری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی کے قول کی حقیقت یہ ہے کہ آپ رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کے نزدیک اَفضل عَمَل یہ ہے کہ بندہ اپنی قوّت و طَاقَت کو کمزور کرے یہاں تک کہ اس کا نَفْس رَضائے خُداوندی کے حُصُول کے لیے ذرّہ برابر کوئی (غَلَط)حَرَکَت نہ کرے، اس لیے کہ قُلُوب کا ذرّہ بھر عَمَل مثلاً تَوَکُّل، صَبْر اور رَضا ظاہِری اَعمال کے پہاڑ برابر اَعمال سے اَفضل ہوتا ہے۔ یہ اہلِ بصرہ کا مَذْھَب ہے کہ وہ طویل بھوک کے ذریعے اپنی قوّت کو خَتْم کر دیتے تاکہ ان کے نَفْس کمزور ہو سکیں، اس لیے کہ وہ سمجھتے تھے کہ نَفْس کی قوّت میں اس کی شہوات کی قوّت اور صِفات کا غَلَبہ پایا جاتا ہے،جس سے گناہ، ہوائے نَفْس کی کَثْرَت، طولِ رَغْبَت ، دنیا کی حِرْص اور زِنْدَگی سے مَحبَّت پیدا ہوتی ہے۔
حضرت سَیِّدُنا ابو محمد سَہْل تُسْتَری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی اِرشَاد فرماتے ہیں:جب اللہ عَزَّ وَجَلَّ نَفْس پر اس جگہ سے بیماریاں نازِل کرتا ہے جہاں سے اسے گمان تک نہیں ہوتا تو وہ ان بیماریوں سے شِفا پانے کے لیے کوئی عِلاج نہیں کرتا، اس لیے کہ بیماری کمزوری کی اِنْتِہا کا نام ہے اور یہ شَہْوَت کو خَتْم کرنے کا انتہائی بہتر طریقہ ہے۔ آپ رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ یہ بھی فرمایا کرتے تھے کہ اَجْسَام کی بیماریاں رَحْمَت اور دِلوں کی بیماریاں سزا ہیں۔ ایک مرتبہ اِرشَاد فرمایا: جسمانی اَمراض صِدِّیْقِین کے لیے اور قلبی اَمراض مُنَافِقِین کے لیے ہیں۔
حضرت سَیِّدُنا ابن مَسْعُود رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں:تو مومِن کو پائے گا کہ اس کا دِل خوب صِحَّت مند اور جِسْم بَہُت کمزور ہو گا جبکہ مُنافِق کو پائے گا کہ اس کا جِسْم خوب صِحَّت مند اور دِل بَہُت زیادہ کمزور ہو گا۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے مَحبوب، دانائے غُیوب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے: کیا تم آوارہ گدھوں کی طرح بننا چاہتے ہو کہ کبھی بیمار پڑو نہ کبھی تمہیں کوئی تکلیف آئے؟[1]
مومن کا جسمانی یا مالی مصیبت کا شِکار رہنا
مَنْقُول ہے کہ مومِن کبھی جسمانی بیماری یا مالی قِلَّت سے خالی نہیں ہوتا۔ ایک قول میں ہے کہ وہ کسی کے غَلَبہ یا ذِلَّت سے خالی نہیں ہوتا۔
بندہ اگر عِلاج نہ کروائے تو اسے کئی نیک اَعمال کی توفیق حاصِل ہوتی ہے:
وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی طرف سے آنے والی اِبْتِلا و آزمائش پر صَبْر کرنے کی ،اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قَضا پر راضی رہنے کی اور اس کے حکْم کے سامنے سر جھکانے کی نِیَّت کر لیتا ہے۔کیونکہ وہ یقین رکھنے والوں میں سے ہے کہ یہ باتیں اس کے رب کے نزدیک اچھّی ہیں اور اس لیے بھی کہ وہ اس مُعَامَلے میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی حِکْمَت اور آخِرَت میں اس کا بہتر ہونا خوب جانتا ہے کہ وُہی حکیم و علیم رب ہے ۔
اس کا رب اس سے اچھّی طرح آگاہ ہے، اس پر اس کی نگاہِ کَرَم ہے،وہ اس کا مُنْتَخَب بندہ ہے، یہی وجہ ہے کہ اس نے اسے بیماریوں میں مبتلا کر کے مَعاصی کا شِکار ہونے سے باندھ رکھا ہے جیسا کہ حَدِیْثِ قُدْسِی میں ہے کہ فَقْر میرا قید خانہ اور بیماری میری قید ہے، میں اپنی مَخلوق میں سے جسے پسند کرتا ہوں اس قید خانے میں بند کر دیتا ہوں ، لہٰذا اگر میرا بندہ عِلاج کر کے عَافِـیَّت پالے تو وہ اس بات سے بے خوف نہیں ہو سکتا کہ اس کا نَفْس قَوِی ہو جائے اور یوں اس کی نفسانی خواہشات اسے فَساد میں مبتلا کر دیں، اس لیے کہ مَعاصی کا تعلّق عَافِـیَّت سے ہے، چنانچہ سال بھر بیمار رہنا ایک گناہ کرنے سے زیادہ بہتر ہے۔
گناہ سے بڑھ کر کوئی بیماری نہیں
ایک شخص کی (کافی عرصہ بعد)کسی عارِف سے مُلاقات ہوئی تو عارِف نے اس سے پوچھا:مجھ سے جُدا ہوکر کیسےرہے؟عَرْض کی:صحیح سَلامَت رہا۔تو اس عارِف نے اِرشَاد فرمایا:اگر تم نے (اس عرصے میں)اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی نافرمانی نہیں کی توواقعی سلامتی کے ساتھ رہے اور اگر نافرمانی کرچکے ہوتو بھلا گناہ سے بڑھ کر بھی کوئی بیماری ہو سکتی ہے ،کیونکہ جو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی نافرمانی کرے اس کے لئے کوئی سلامتی نہیں۔
امیر المومنین حضرت سیِّدُنا علیُّ المرتضٰی کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے عِید کے دِن عِراق کی ایک نَـبَطی قوم کو زیب و زِیْنَت اِخْتِیار کرتے دیکھ کر دَرْیَافْت فرمایا:ان لوگوں نے یہ کیا
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع