30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سکو گے کہ یہ اپنے نبی کی صحبت میں رہے ہیں اور انہوں نے اپنے ربّ عَزَّ وَجَلَّکے کلام کو نازِل ہوتے ہوئے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔ البتہ!ان کے بعد ایسے لوگ آئیں گے جن سے تم اپنی حاجات یقیناً پوری کر لو گے۔چنانچہ جب تابعین کا زمانہ آیا تو اس نے دوبارہ اپنے لشکر بھیجے مگر وہ پھر خائِب و خاسِر پریشان حال لوٹے تو ابلیس لعین نے پوچھا:اب کیا ہوا؟بولے: ہم نے ان سے بڑھ کر عجیب لوگ نہیں دیکھے، ہم ان سے چھوٹے چھوٹے گناہ کرانے میں تو کامیاب ہو گئے تھے مگر جب دن کا اِخْتِتام ہونے لگا تو یہ اِسْتِغْفار کرنے لگے اور دن کے اوقات میں انہوں نے جو بُرائیاں کی تھیں وہ بھی نیکیوں میں بدل گئیں۔ شیطان نے پھر انہیں تسلی دیتے ہوئے کہا: تم ان سے بھی کچھ حاصِل نہ کر سکو گے، کیونکہ یہ توحید کے سچّے اور اپنے نبی کی سنّتوں پر عَمَل کرنے والے ہیں۔ البتہ!ان کے بعد ایسے لوگ آئیں گے جن سے تم اپنی آنکھوں کو ٹھنڈا کرو گے، تم ان سے کھیلو گے، ان کی خواہشات کی لگام تھام کر جدھر چاہو گے انہیں چَلاتے رہو گے۔ اگر وہ اِسْتِغْفار بھی کریں گے تو انہیں مَغْفرت کی نوید نہ ملے گی، بلکہ وہ توبہ ہی نہ کریں گے کہ ان کی بُرائیاں نیکیوں میں بدل جائیں۔راوی فرماتے ہیں کہ پس قَرْنِ اَوّل (یعنی پہلی صدی ہجری)کے بعد ایسے لوگ پیدا ہوئے کہ جب شیطان لعین نے ان میں نفسانی خواہشات کے جال پھیلائے اور ان کے سامنے خِلافِ سنّت نئی نئی باتوں کو بنا سنوار کر پیش کیا تو انہوں نے ان نئی باتوں کو جائز سمجھتے ہوئے دین کا حصّہ بنا لیا۔ یہ ایسے لوگ ہیں جو ان بِدْعَتوں کا شِکار ہونے کی مُعافی طَلَب کرتے ہیں نہ بارگاہِ خُداوندی میں حاضِر ہو کر توبہ کرتے ہیں۔ پس اس طرح دشمن (یعنی ابلیس اور اس کے لشکر) ان پر غالِب آ گئے اور اب وہ جدھر چاہتے ہیں انہیں لے جاتے ہیں۔
حضرت سَیِّدُنا ابن عباس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں کہ گمراہی کی بھی ایک حلاوَت ہوتی ہے جو گمراہ لوگوں کے دِل ہی محسوس کرتے ہیں۔ چنانچہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا فرمانِ عالیشان ہے:
(1) اِتَّخَذُوْا دِیْنَهُمْ لَعِبًا وَّ لَهْوًا(پ۷، الانعام:۷۰)
ترجمۂ کنز الایمان:جنہوں نے اپنا دین ہنسی کھیل بنالیا۔
(2) اَفَمَنْ زُیِّنَ لَهٗ سُوْٓءُ عَمَلِهٖ فَرَاٰهُ حَسَنًاؕ- (پ۲۲، فاطر:۸)
ترجمۂ کنز الایمان:تو کیا وہ جس کی نِگاہ میں اس کا بُرا کام آراستہ کیا گیا کہ اس نے اسے بَھلا سمجھا ہِدَایَت والے کی طرح ہوجائے گا۔
(3) اَفَمَنْ كَانَ عَلٰى بَیِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّهٖ وَ یَتْلُوْهُ شَاهِدٌ مِّنْهُ (پ۱۲، ھود:۱۷)
ترجمۂ کنز الایمان:تو کیا وہ جو اپنے رب کی طرف سے روشن دلیل پر ہو اور اس پر اللہ کی طرف سے گواہ آئے۔
عِلْم وہی ہے جوسَلَف صالحین رَحِمَہُمُ اللہ الْمُبِین اور ان کےپیروکاروں کے پاس تھا، چنانچہ انہی لوگوں کے نقشِ قَدَم پر چلا جاتا ہے اور انہی کی ہِدَایَت بھری باتوں کو مَشْعَلِ راہ بنایا جاتا ہے۔ سَلَف صالحین رَحِمَہُمُ اللہ الْمُبِین میں صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کا نام سرفہرست ہے، انہیں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رضا اور سکینہ کی دولت میسر تھی۔ ان کے بعد سَلَف صالحین رَحِمَہُمُ اللہ الْمُبِین میں تابعین عظام کا نام آتا ہے کہ جنہوں نے صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کی خوب پیروی کی اور زُہد و تقویٰ کے پیکر بن گئے۔
(صاحِبِ کِتاب اِمامِ اَجَلّ حضرت سَیِّدُنا شیخ ابُو طالِب مکّی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں)عالِم وہی ہے جو لوگوں کو وہی حالَت اپنانے کی دَعْوَت دے جو اس کی اپنی ہے یہاں تک کہ وہ سب اسی جیسے ہو جائیں۔ یعنی اس بندۂ خدا کی دنیا سے کنارہ کشی دیکھ کر لوگ بھی دنیا سے کنارہ کش ہو جائیں۔ چنانچہ،
حضرت سَیِّدُنا ذُوالنُّون مِصری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں کہ اس بندے کے پاس بیٹھو جس کا عِلْم تم سے باتیں کرے اور اس کے پاس مت بیٹھو جس کی زبان تم سے باتیں کرے۔
حضرت سَیِّدُنا حَسَن بصری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرمایا کرتے :عَمَل سے لوگوں کو وعظ و نصیحت کرو، صِرف زبان سے وعظ مت کرو۔
حضرت سَیِّدُنا سہل تُسْتَرِی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی کا قول ہے کہ عِلْم عَمَل کو پکارتا ہے، اگر وہ جواب دے تو رُک جاتا ہے ورنہ کوچ کر جاتا ہے۔
سرورِ کائنات صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے بھی اس مفہوم پر دلالت کرنے والی ایک رِوایَت میں ہے کہ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے عرض کی گئی:ہمارا بہترین ساتھی و ہم نشین کون ہے؟اِرشَاد فرمایا:جسے دیکھتے ہی تم اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا ذکر کرنے لگو، جس کا بولنا تمہارے عِلْم میں اِضافہ کرے اور جس کا عَمَل تمہیں آخِرَت کی یاد دلائے۔[1]
دنیا کے طلب گار عالم کی ہم نشینی بہت بُری ہے
اُس عالِم کی ہم نشینی بَہُت بُری ہے جو دنیا کا طالِب ہو اور دنیا داروں کی مِثْل ہونا چاہے کہ وہ اسے دیکھ کر اپنی حالَت پر رشک کریں(یعنی وہ یہ سمجھیں کہ ایسا دین دار ہونے سے ہمارا دنیا دار ہونا ہی بہتر ہے)۔ ایسا عالِم لوگوں کو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی طرف نہیں بلاتا بلکہ اپنی طرف بلاتا ہے۔ نیز یہ دنیاداروں(کی عنایات) کا حریص ہوتا ہے مگر وہ لوگ اسے کوئی اَہَمِیَّت نہیں دیتے۔
حقیقی عُلَمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہ ُ السَّلَام ہی اَنبیائے کرام عَلَیْہِمُ السَّلَام کے وارِث ہیں،یہی لوگ متقی و پرہیزگار ہیں، دنیا کی فُضُولیات سے بچتے ہیں،عِلْمِ یقین و قدرت کی ترجمانی کرتے ہیں، رائے اور نفسانی خواہش سے کلام کرتے ہیں نہ شبہات و آرا کے مُتَعَلِّق کوئی کلام کرتےہیں۔ ان عُلَمائے ربانیین رَحِمَہُمُ اللہ الْمُبِین کا سلسلہ کسی کے کہنے سے خَتْم ہو گا نہ کسی باطِل کے چاہنے والے جاہِل کی باتوں سے۔ چنانچہ،
حضرت سَیِّدُنا عبداللہ بن عَمْرو رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے مروی ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے پیارے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عِبْرَت نشان ہے:اس اُمّت کے ابتدائی لوگ زُہد و یقین کے باعِث بچ گئے مگر بعد والے بخل اور جھوٹی اُمّیدوں کے سَبَب ہلاک و برباد ہو جائیں گے۔[2]
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع