30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
پائی تو اسے اس کے مَقام کی حد پر ہی ٹھہرنے کی تاکید کی اور اس کی کمزوری کو پیشِ نَظَر رکھتے ہوئے بڑا ہی خُوبْصُورَت جواب دیا کہ عُکّاشہ تم سے سَبْقَت لے گیا ہے۔[1] اس لیے کہ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کَرَم فرمانے والے اور سب کے حبیب ہیں۔یہ ایسے ہی ہے کہ ایک عَقْل مند حاکِم جب دوگواہوں میں سے ایک کو کمزورپائے تو کہے کہ ایک گواہ مزید لاؤ اور وہ اس بات کی صراحت نہ فرمائے کہ گواہ مَجْرُوح ہے، کیونکہ اگر وہ گواہ عادِل ہوتا تو وہ اسی کی گواہی قبول کر لیتا اور مزید گواہ لانے کا مُطَالَبہ نہ کرتا۔
یاد رکھئے !مَقامات اپنی طرف آنے والوں کے لیے تنگ نہیں ہوتے اور نہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے مَحبوب، دانائے غُیوب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ان مَقامات پر کسی کو فائز کرنے میں بخیل ہیں، جیسا کہ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے کسی بھی مُعَامَلے میں بُخْل نہ فرمانے کے مُتعلّق فرمانِ باری تعالیٰ ہے:
وَ مَا هُوَ عَلَى الْغَیْبِ بِضَنِیْنٍۚ(۲۴) (پ ۳۰، التکویر:۲۴) ترجمۂ کنز الایمان:اور یہ نبی غیب بتانے میں بخیل نہیں۔
بلکہ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اپنے اس صَحابی میں قوّت کا مُشاہَدہ نہ کیا اور اس میں واضِح کمزوری کو دیکھا کہ وہ اس مَقام کے قَابِل نہیں تو اسے اس مَقام پر فائز نہ فرمایا۔
کئی احادیثِ مُبارَکہ میں زَخْم کو داغ کر عِلاج کرنے کی مُمانَعَت بھی مَرْوِی ہے۔[2] چنانچہ،
دواکو شِفا کا سَبَب ماننا شِرک ہے
مَرْوِی ہے کہ ایک شخص نے اپنے بھائی کا عِلاج کرنا چاہا مگر (آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اسے داغنے کی اِجازَت نہ دی اور)وہ اسی بیماری میں مر گیا تو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِرشَادفرمایا:اگر وہ تَنْدُرُسْت ہو جاتا تو تم کہتے کہ میں نے اسے ٹھیک کر لیا۔ ایسا آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اس لیے فرمایا، کیونکہ آپ جانتے تھے کہ بعض نُفُوس میں یہ وَسْوَسَہ پیدا ہو سکتا ہے کہ شِفا اور نَفْع دَوا سے ہوا ہے اور یہ شِرک ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مُـحَقِّقِین رَحِمَہُمُ اللہ الْمُبِین نے اس خدشے کے پیدا ہونے کی وجہ سے عِلاج مُعَالَجہ کو پسند نہیں کیا۔
حضرت سَیِّدُنا موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام نے بارگاہِ خداوندی میں عَرْض کی: اے میرے رب! دوا اور شِفا کا تعلّق کس سے ہے؟ اِرشَادفرمایا:مجھ سے۔ عَرْض کی: پھر طبیب کیا کرتے ہیں؟ اِرشَادفرمایا: وہ اپنا رِزْق کھاتے ہیں اور میرے بندوں کے دِل بَہْلَاتے ہیں یہاں تک کہ انہیں میری طرف سے شِفا یا موت مل جاتی ہے۔
مُتَوکِّل کے لیے عِلاج نہ کرنا بہتر ہے
حضرت سَیِّدُنا اِمام احمد بن حنبل عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْاَ وّل فرمایا کرتے تھے:مجھے یہ بات پسند ہے کہ جو شخص تَوَکُّل کا عقیدہ رکھے اور اس راہ پر چلنے والا بھی ہو تو اس کےلئے بہتر یہ ہےکہ عِلاج کے مُعَامَلہ میں دوائی وغیرہ اِسْتِعمال نہ کرے۔
ایک مرتبہ حضرت سیِّدُنا عِمران بن حُصَین رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ بیمار ہوگئے، لوگوں نے آپ کو جِسْم پر داغ لگوانے کا مشورہ دیا مگر آپ نے مَنْع کردیا۔ لوگوں کے اِصرار اور حاکِمِ وَقْت زِیاد کے مَـجْبُور کرنے پر آپ نے اپنے جِسْم پر داغ لگوا لیا۔ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ فرمایاکرتے:پہلے میں نُور دیکھا کرتا تھا، آوازیں سنا کرتا تھا، فرشتے مجھے سلام کیا کرتے تھے مگر جب میں نے داغ کے ذریعے عِلاج کیا تو یہ سب چیزیں مجھ سے جُدا ہوگئیں۔
ایک رِوایَت میں ہے کہ فرشتے آپ سے مُلاقات کے لیے آیا کرتے اور آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ ان سے بڑے مَانُوس تھے، مگر داغ لگوانے کے بعد فرمایا کرتے تھے: میں نے کئی مرتبہ جِسْم پر داغ لگوائے مگر خدا کی قَسَم! کچھ فائدہ ہوا نہ اس مَرَض سے چھٹکارا ملا۔ پھر آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ میں توبہ کی تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے فرشتوں کے ساتھ پہلے والے مُعامَلات آپ پر ظاہِر فرما دئیے۔
فَرِشتوں سے ملاقات ایک اِعزازہے
حضرت سیِّدُنا عِمران بن حُصَین رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے حضرت سیِّدُنا مُطَرِّف بن عبداللہ رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کو فرشتوں سے مُلاقات خَتْم ہو جانے کے مُتَعَلّق بتا دیا تھا، پھر (مُعامَلات کی بحالی پر) ان سے فرمایا:کیا آپ نہیں جانتے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے فرشتوں کے مُعامَلات دوبارہ لوٹاکر مجھے پھر سے یہ اِعزاز بَخْش دیا ہے؟(صَاحِبِ کِتاب اِمامِ اَجَلّ حضرت سَیِّدُنا شیخ ابُو طالِب مکّی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں)اگر حضرت سیِّدُنا عِمران بن حُصَین رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کےنزدیک داغ کے ذریعے عِلاج کروانا گناہ نہ ہوتا تو آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ اس پر شَرْمِندہ ہوتے نہ اس سے توبہ کرتے، نیز اگر یہ بات باعِثِ نُقْصَان نہ ہوتی تو فرشتوں کو آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے دُور نہ کیا جاتا۔
سلف صالحین کے عِلاج نہ کروانے سے متعلق چند واقعات
سیِّدُنا ابوبکر صدیق کا عِلاج نہ کروانا
ایک بار امیر المومنین حضرت سیِّدُنا ابوبکر صِدِّیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ بیمار ہوئے تو ان کی خِدْمَت میں عَرْض کی گئی:کیا ہم آپ کے لئے کوئی طبیب بُلْوَائیں؟اِرشَادفرمایا:میراطبیب مجھے دیکھ چکا ہے اور اس نے فرمایا ہے کہ میں جو چاہوں کرلینے والاہوں۔
سیِّدُنا ابو دَرْدَاکا عِلاج نہ کروانا
حضرت سیِّدُنا ابو دَرْدَا رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کی بیماری میں کسی نے عَرْض کی:آپ کو کیا بیماری ہے؟ اِرشَادفرمایا:
مجھے گناہوں کا مَرَض ہے۔عَرْض کی گئی:آپ کیا چاہتے ہیں؟فرمایا:اپنے گناہوں کی مَغْفِرَت۔لوگوں نے عَرْض کی:کیا ہم آپ کے لئے کسی طبیب کو بُلائیں؟فرمایا:طبیب(یعنی رب عَزَّ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع