30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سب سے زیادہ تَوَکُّل رکھنے والے اور سب سے زیادہ قَوِی تھے۔
(صَاحِبِ کِتاب اِمامِ اَجَلّ حضرت سَیِّدُنا شیخ ابُو طالِب مکّی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں)اگر کوئی شخص یہ اِعْتِراض کرے کہ دو۲ جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَر صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے عِلاج مُعَالَجہ کا اِہتِمام دوسروں کی خاطِر فرمایا تھا تاکہ یہ آپ کی سُنّت بن جائے تو ہم اسے کہیں گے کہ ہم سرورِ کائنات صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی سُنّت سے اِعراض کر سکتے ہیں نہ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خواہش سے بے رغبتی کا مُظاہَرہ کر سکتے ہیں، اس لیے کہ ایسا آپ نے ہمارے لیے کیا، لہٰذا ہم اس کا اِنکار نہیں کر سکتے تاکہ کوئی آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے فعل کو لَغْو قرار نہ دیدے اور یوں شَرْع میں طَعْن کرنے لگے اور تَوَکُّل کی حقیقت کے گُمان میں سُنّت سے ہی منہ موڑ لے۔
یاد رکھئے! اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے پیارے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ظاہِر ی اَفعال اس لیے ہیں کہ لوگ ان پر عَمَل کریں۔ مثلاً ایک بار آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے سَخْت گرْمی کے مَوْسَم میں دَورانِ سَفَر روزہ رکھ لیا، سرِ اَقْدَس پر پانی ڈالتے[1] اور دَرَخْت کے سائے میں رہتے تاکہ پانی سے ٹھنڈک حاصِل کرنے کی یہ رُخْصَت روزہ دار کے لیے سُنّت بن جائے، لیکن جب آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے عَرْض کی گئی کہ بَہُت سے لوگوں نے بھی روزہ رکھا ہوا ہے مگر وہ تکلیف میں ہیں تو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے پانی کا ایک پیالہ منگوایا اور پانی پی لیا (یعنی روزہ اِفطارکرلیا) تو دیگر کئی لوگوں نے بھی روزہ اِفطار کر لیا۔ اس طرح اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے مَحبوب، دانائے غُیوب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے لوگوں کی خاطِر اپنا حال تَرْک کر دیا، پھر جب یہ عَرْض کی گئی کہ بعض لوگوں نے روزہ اِفطار نہیں کیا تو اِرشَاد فرمایا :یہ لوگ نافرمان ہیں۔ [2]
عِلاج کرنے والے کو دوسری فضیلت یہ حاصِل ہوتی ہے کہ وہ جَلْدی جَلْدی صِحَّت یاب ہونا پسند کرتا ہے تاکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی عِبَادَت کر سکے، اپنے رب کی بَنْدَگی بجا لائے اور اس کے اَحْکام کی بجاآوری کی کوشِش کرے۔ کیونکہ بیماریاں عَمَل میں رُکاوَٹ پیدا کرتی اور نَفْس کو اَعمالِ آخِرَت میں مَشْغُول ہونے سے روکتی ہیں۔
پہلے عِلاج سے اِنکار پھر اِقرار
مَنْقُول ہے کہ ایک مرتبہ حضرت سیِّدُنا موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام بیمار ہو گئے تو بنی اِسرائیل آپ عَلَیْہِ السَّلَام کے پاس (عِیادَت کے لیے)حاضِر ہوئے اور انہوں نے مَرَض پہچان کر عَرْض کی:اگر فُلاں دَوائی سے عِلاج کروائیں گے تو صِحَّت یاب ہوجائیں گے۔اِرشَاد فرمایا:میں عِلاج نہیں کرواؤں گا،اللہ عَزَّ وَجَلَّ مجھے عِلاج کے بغیر ہی شِفا دیدے گا۔ مگر مَرَض بڑھتا گیا تو لوگوں نےپھر عَرْض کی:فُلاں دَوا اس مَرَض کے لئے آزْمُودَہ اور مَشْہُور ہے، اس سے عِلاج کریں گے تو صِحَّت یاب ہو جائیں گے۔ آپ نے پھر وُہی جواب دیا کہ میں عِلاج نہیں کرواؤں گا۔ اس طرح مَرَض دائمی شکل اِخْتِیارکر گیا تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے وَحِی فرمائی:میری عز ّت وجلال کی قَسَم! میں شِفا نہ دوں گا جب تک کہ اس دوائی سے عِلاج نہ کروائیں گے جس کے مُتَعَلّق لوگوں نے آپ کو کہاہے۔ چنانچہ آپ نے لوگوں سے فرمایا:جس دوائی کا ذِکْر تم نے کیا تھا اس سے میرا عِلاج کرو۔انہوں نے عِلاج کیا تو آپ صِحَّت یاب ہوگئے،مگر اطمینانِ قلبی حاصِل نہ ہوا۔ لہٰذا اللہ عَزَّ وَجَلَّ نےوَحِی فرمائی:آپ اپنے تَوَکُّل کے ذریعے میری حِکْمَت (یعنی طریقَۂ کار) کوبدلنا چاہتے ہیں! میرے عِلاوہ کون ہے جوجڑی بوٹیوں میں فوائد رکھتاہے؟
انڈوں میں بھی شِفا ہے
مَرْوِی ہےکہ انبیائے کِرام عَلَیْہِمُ السَّلَام میں سے کسی نبی نے بارگاہِ اِلٰہی میں بیماری میں مبتلا ہونے کی فریاد کی تو حکْم اِرشَاد ہوا: اَنڈے کھائیں۔
اِسی طرح مَرْوِی ہے کہ کسی نبی نے بارگاہِ الٰہی میں کمزوری کا ذِکْر کیا تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے وَحِی فرمائی:گوشت کو دودھ کے ساتھ ملاکر کھائیں کہ ان دونوں میں طَاقَت ہے[3]۔[4]
حضرت سَیِّدُنا وَھْبْ بِن مُنَبِّہ رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ ایک بادشاہ کسی بیماری میں مبتلا ہو گیا، وہ بادشاہ اپنی رَعَایا کے لیے نیک سِیْرَت تھا تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اپنے نبی حضرت سَیِّدُنا شَعْیَا عَلَیْہِ السَّلَام کو وَحِی فرمائی کہ اس بادشاہ سے فرمائیے کہ وہ اِنجیر کا پانی پئے، اس لیے کہ اس میں اس کی بیماری کی شِفا ہے۔ [5]
خوبصورت اولاد کے حُصُول کا نسخۂ کیمیا
اس سے بھی عجیب رِوایَت یہ ہے کہ ایک قوم نے اپنے نبی کی خِدْمَت میں بَدصُورَت اولاد پیدا ہونے کی شِکایَت کی تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے وَحِی فرمائی کہ انہیں حکْم دیجئے اپنی حامِلہ عورتوں کوبِہی دانہ[6] کھلائیں تاکہ اولاد خُوبْصُورَت پیدا ہو۔چنانچہ وہ لوگ اپنی عورتوں کوحَالَتِ حَـمْل میں بِہی دانہ اور بچے کی پیدائش کے بعد کھجور کھلایا کرتے ۔جبکہ بِہی دانہ حَـمْل کے تیسرے چوتھے مہینے میں کھلانا چاہئے۔
قَوِی لوگوں کے لیے افضل کیا ہے؟
ان سب باتوں کے باوُجُود قَوِی لوگوں کے لیے اَفضل یہی ہے کہ وہ عِلاج نہ کریں، یہ بات دین کے عزائم میں سے ہے اور اُوْلُو الْعَزْم صِدِّیْقِین کا طریقہ ہے، کیونکہ دین پر چلنے کے دو۲ راستے ہیں:
[1]………ابو داود ، کتاب الصوم ، باب الصائم یصب علیه الماء…الخ ، ۲/ ۴۵۰ ، حدیث: ۲۳۶۵
[2]………مسلم ، کتاب الصیام ، باب جواز الصوم والفطر فی شھر رمضان…الخ ، ص۵۶۳ ، حدیث: ۱۱۱۴
ترمذی ، کتاب الصوم ، باب ما جاء فی كراهية الصوم في السفر ، ۲/ ۱۶۸ ، حدیث: ۷۱۰
[3]………مصنف ابن ابی شیبة ، كتاب الطب ، باب دواء الضعف ، ۵/ ۴۶۸ ، حديث: ۳
[4]………یہاں کچھ عبارت کا ترجمہ نہیں دیا گیا ، اس کی عربی عبارت کتاب کے آخر میں دے دی گئی ہے۔
[5]………تفسیر طبری ، سورة الاسراء ، تحت الآية: ۴ ، ۸/ ۲۱ ، حدیث: ۲۲۰۵۸ ، بتغیر قلیل
[6]………ایک پھل کا نام جو ناشپاتی اور سیب کے مشابہ ہے۔(لغت)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع