30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
دم اور دوا کا تعلّق تقدیر سے ہے
بارگاہِ رِسَالَت میں کسی نے سوال کیا:کیا دَم اور دَوا تقدیر کا فیصلہ بَدَل سکتے ہیں؟ اِرشَادفرمایا:ان کا تعلّق بھی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی تقدیر سے ہی ہے۔[1]
ایک مَشْہُوررِوایَت میں ہے کہ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِرشَاد فرمایا:میں ملائکہ کے جس گِروہ کے پاس سے گزرا اُس نے مجھے یہی کہا: اپنی اُمَّت کو پچھنے لگانے کا حکْم دیجئے۔[2] ایک رِوایَت میں ہے کہ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ایسا کرنے کا حکْم دیتے ہوئے اِرشَادفرمایا: (چاند کی )17،19اور21تاریخ کو پچھنے لگوایا کرو کہیں خون جَوش مار کر تمہیں ہلاک نہ کردے۔[3]
مخصوص دنوں میں خون کا جوش مارنا حجاز کے ساتھ خاص ہے
(صَاحِبِ کِتاب اِمامِ اَجَلّ حضرت سَیِّدُنا شیخ ابُو طالِب مکّی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں) خُون کے مَخْصُوص دنوں میں جوش مارنے کا ذِکْر اس بات کی دلیل ہے کہ اِنہی مَخْصُوص اَیَّام میں پچھنے لگوائے جائیں مگر میں سمجھتا ہوں کہ یہ حکْم اہلِ حِجاز کے ساتھ خاص ہے کیونکہ وہاں گرْمی شدید ہوتی ہے، جیسا کہ امیر المومنین حضرت سَیِّدُنا عُمَر فَارُوق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کا دھوپ میں پڑے ہوئے پانی کے مُتعلِّق فرمان ہے کہ اس سے بَرَص پیدا ہوتی ہے، مگر میں نے سنا ہے کہ یہ خاص حِجاز کی سرزمین میں ہوتا ہے۔
سَلَف صَالِـحِین رَحِمَہُمُ اللہ الْمُبِین ہر ماہ میں ایک بار پچھنے لگواتے یہاں تک کہ ان کی عمر 40 سال سے تَجاوُز کر جاتی اور وہ عام طور پر ہر ماہ کے آخِر میں پچھنے لگوانا مُسْتَحَب سمجھتے تھے۔ ایک رِوایَت میں ہے کہ جس نے چاند کی 17 تاریخ بَرَوز مَنگل پچھنے لگوائے تو یہ اس کے لئے سال بھر کی بیماری کا عِلاج ہے۔[4]
اہلِ بَیْت سے مَرْوِی ایک رِوایَت میں ہے کہ حُضُور نبی پاک، صاحبِ لَوْلاک صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہررات سُرمَہ لگاتے، ہرمہینہ پچھنے لگواتےاور ہر سال دَوا پیا کرتے۔[5]
عِلاج کروانا رخصت ہےعزیمت نہیں
عِلاج مُعَالجے کا اِہتِمام کرنا وُسْعَت و رُخْصَت ہے جبکہ اسے تَرْک کرنا تنگی و عَزِیمت ہے اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ پسند فرماتا ہے کہ اس کی رُخْصَت پر بھی اسی طرح عَمَل کیا جائے جیسا کہ اس کی عزیمتوں پر عَمَل کیا جاتا ہے۔[6] چنانچہ اس کا فرمانِ عالیشان ہے:
وَ مَا جَعَلَ عَلَیْكُمْ فِی الدِّیْنِ مِنْ حَرَجٍؕ- (پ ۱۷، الحج:۷۸)
ترجمۂ کنز الایمان:اور تم پر دین میں کچھ تنگی نہ رکھی۔
عِلاج کی دو۲ فضیلتیں
بعض اوقات عِلاج مُعَالَجہ کرنے والا عِلاج کرنے کی وجہ سے دو۲ صورتوں میں فضیلت حاصِل کر لیتا ہے۔
وہ سُنّت کی پَیروی کی نِیَّت کر لےاور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی دی ہوئی رُخْصَت پر عَمَل کرکے دِیْنِ حَنِیف کی دی ہوئی وُسْعَت کو قبول کر لے۔ جیسا کہ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نےکئی صَحابۂ کِرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کو عِلاج اور پرہیز کا حکْم اِرشَاد فرمایا۔[7] بعض (یعنی حضرت سیِّدُنا سَعْد بِن مُعاذ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ )کی رَگ سے خود فاسِد خون نِکالا اور بعض (یعنی حضرت سیِّدُنا سَعْد بِن زرارہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ) کا جِسْم داغ کر عِلاج فرمایا۔[8]
امیر المومنین حضرت سیِّدُنا علیُّ المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کی دُکھتی آنکھوں کو دیکھ کر اِرشَادفرمایا: کھجور مَت کھاؤ۔بلکہ جَو کے آٹے میں پکےہوئے ساگ کی جانِب اِشارہ کر کے فرمایا:اسے کھاؤ،یہ تمہارے لئے زیادہ بہتر ہے۔[9]
مَرْوِی ہے کہ کئی مرتبہ سَرکارِ دو۲ عالَم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے بچھو وغیرہ کے کاٹنے کا عِلاج بھی کروایا۔[10]ایک رِوایَت میں ہے کہ جب وَحِی نازِل ہوتی توسَرمبارک میں کچھ تکلیف مَحْسُوس ہوتی،لہٰذا آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اپنے سرِ اَقْدَس میں مہندی لگوایا کرتے۔[11]اور ایک رِوایَت میں ہے کہ جب کبھی زَخْم لاحِق ہوتا تو اس پر مہندی لگاتے ۔[12] حالانکہ
[1]………ترمذی ، کتاب الطب ، باب ما جاء فی الرقی والادوية ، ۴/ ۱۶ ، حدیث: ۲۰۷۲
[2]………ابن ماجه ، کتاب الطب ، باب الحجامة ، ۴/ ۱۰۸ ، حدیث: ۳۴۷۹
[3]………ابن ماجه ، کتاب الطب ، باب فی اي الايام يحتجم؟ ، ۴/ ۱۱۰ ، حدیث: ۳۴۸۶ بتغیرقلیل
مسند بزار ، مسند ابن عباس ، ۱۱/ ۱۷۷ ، حدیث: ۴۹۱۷
[4]………معجم كبير ، ۲۰/ ۲۱۵ ، حدیث: ۴۹۹
[5]………الکامل لابن عدی ، ۴/ ۵۰۴ ، الرقم: ۸۵۰: سیف بن محمد ابن اخت سفیان الثوری کوفی
[6]………صحيح ابن حبان ، كتاب البر والاحسان ، باب ما جاء فی الطاعات وثوابها ، ۱/ ۲۸۴ ، حدیث: ۳۵۵
[7]………ابن ماجه ، کتاب الطب ، باب ما انزل اللہ داءالا انزل له شفاء ، ۴/ ۸۷ ، حدیث: ۳۴۳۶
ترمذی ، کتاب الطب ، باب ما جاء فی الحمیة ، ۴/ ۳ ، حدیث: ۲۰۴۳
[8]………مسلم ، کتاب السلام ، باب لکل داء دواء ...الخ ، ص۱۲۱۰ ، ۱۲۱۱ ، حدیث: ۲۲۰۸ ، ۲۲۰۷
[9]………ترمذی ، کتاب الطب ، باب ما جاء فی الحمیة ، ۴/ $&'); container.innerHTML = innerHTML; }
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع