30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
عَرْض کی: بیٹھ جائیے۔ وہ بیٹھ گئے تو آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے کچھ پڑھا، اتنے میں ایک ہَرَن بھاگتا ہوا آیا اور ان دونوں ہستیوں کے درمیان کھڑا ہو گیا، پھر اچانک اس کے دو۲ برابر برابر ٹکڑے ہوگئے،جو آدھا ٹکڑا حضرت سَیِّدُنا خضر عَلَیْہِ السَّلَام کے سامنے گِرا وہ بھُنا ہوا تھا جبکہ حضرت سَیِّدُنا موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام کے سامنے گرنے والا ٹکڑا کچا تھا، حضرت سَیِّدُنا خضر عَلَیْہِ السَّلَام نے اپنا بھُنا ہوا حِصّہ لے کر کھانا شروع کر دیا اور حضرت سَیِّدُنا موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام سے عَرْض کی:اٹھئے!آگ جلا کر اپنے حصّے کو پکا لیجئے۔ چنانچہ حضرت سَیِّدُنا موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام نے اپنا حِصّہ بھُون کر کھایا، پھر پوچھا:یہ آدھا حِصّہ جو آپ کی طرف گرا تھا بھنا ہوا کیوں تھا؟ عَرْض کی: اس لیے کہ دنیا میں مجھے کوئی اُمِّید باقی نہیں۔
اسی بِنا پر کہا جاتا ہے کہ ذخیرہ اندوزی زاہِدین کے فضائل میں اسی قَدْر کمی کا باعِث بنتی ہے جس قَدْر وہ حقیقتِ زُہْد میں کمی کرتی ہے۔
حضرت سَیِّدُنا شَہر بِن حَوشَب رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ حضرت سَیِّدُنا ابو اُمَامَہ بَاہِلی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے روایَت کرتے ہیں کہ ایک شخص کا اِنتقال ہوا تو دو۲ جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَر صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حضرت سیِّدُنا علیُّ المرتضٰی کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم اور حضرت سیِّدُنا اُسامہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کو اسے غُسْل دینے کا حکْم اِرشَاد فرمایا۔ دونوں حضرات نے اسے غُسْل دیا اور اسی کی چادَر سے کَفَن پہنایا۔ جب اسے دَفْنا چکے تو مدینے کے تاجدار، بے کسوں کے مدد گار صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِرشَاد فرمایا:اسے قِیامَت کے دن یوں اُٹھایا جائے گاکہ اس کاچہرہ چودہویں کے چاند کی طرح چمکتاہوگا اور اگر اس میں ایک عادَت نہ ہوتی تو اس کا چہرہ سُورَج کی طرح روشن ہوتا۔صَحابۂ کِرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے عَرْض کی:یارسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! وہ عادَت کیا تھی؟ اِرشَادفرمایا:یہ شخص بَہُت زیادہ روزے رکھنے والا، رات رات بھر عِبَادَت کرنے والا اور کَثْرَت سے ذِکْرِ الٰہی کرنے والا تھامگر جب سردی آتی تو گرْمیوں کے کپڑے (اگلی گرْمیوں کے لئے) جَمْع کرلیتا اور جب گرمی آتی تو سَرْدِیوں کے کپڑے (اگلی سَرْدِیوں کے لئے) جَمْع کر لیتا تھا۔ پھر اِرشَادفرمایا:جو چیزتمہیں سب سے کم دی گئی ہے وہ یقین اور صَبْر کی عَزِیمت ہے اور جسے ان میں سے کچھ حِصّہ مِل جائے تو وہ یہ پَروا نہیں کرتا کہ اس سے کس قَدْر رات کی عِبَادَت اور دن کا روزہ رہ گیا ہے۔
فقیر کے پاس کسی بھی شے کا جوڑا ہونا عیب ہے
ایک عارِف فرماتے ہیں کہ میں نے خواب میں دیکھا گویا قِیامَت قائم ہو گئی ہے اور لوگ گِروہ دَر گِروہ مُـخْتَلِف طَبْقَات میں جنّت کی طرف جا رہے ہیں، میں نے ایک طبقے کی طرف دیکھا جو اپنی حَالَت کے اِعْتِبَار سے سب سے زیادہ اَچھّی صُورَت میں بُلَند دَرَجات پر فائز تھا اور بڑی تیزی سے جارہا تھا، میں نے سوچا کہ یہ سب سے بہتر گِروہ ہے میں بھی ان میں سے ہی ہوں گا۔ چنانچہ جب میں نے ان کی طرف قَدَم بڑھائے اور راستے میں ان کے ساتھ شریک ہونے لگا تو ان کے گِرد مَوجُود فرشتوں نے مجھے روک دیا اور کہنے لگے کہ اپنی جگہ کھڑے رہیے یہاں تک کہ آپ کے ساتھی آجائیں اور آپ ان کے ساتھ شامِل ہو جائیں۔ میں نے کہا: تم مجھے ان میں شامِل ہونے سے کیوں روک رہے ہو؟ انہوں نے جواب دیا: یہ ان لوگوں کا راستہ ہے جن کے پاس صِرف ایک قمیص تھی اور اس کے عِلاوہ باقی چیزیں بھی ایک ایک ہی تھیں جبکہ آپ کے پاس دو۲ قمیصیں ہیں اور اسی طرح ہر شے کی تعداد دو۲ دو۲ ہے۔ فرماتے ہیں کہ اس کے فوراً بعد میری آنکھ کھلی تو میں رو رہا تھا اور غم میں مبتلا تھا، لہٰذا میں نے اپنے نَفْس پر یہ بات لازِم کر لی کہ ہر شے میں سے صِرف ایک ایک ہی کا مالِک رہوں گا۔
حضرت سَیِّدُنا حُذَیفَہ مَرْعَشِی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں کہ میں 40 چالیس تک صِرف ایک ہی قمیص کا مالِک رہا۔ سَلَف صَالِـحِین رَحِمَہُمُ اللہ الْمُبِین کی ایک کثیر تعداد ایسی تھی کہ جب وہ نیا کپڑا یا کوئی چیز حاصِل کرتے تو پہلے سے مَوجُود کپڑے یا چیز کو صَدَقَہ کر دیتے اور ایک ہی شے کو کئی اَشیا کے لیے اِسْتِعمال کیا کرتے۔ یہ سب باتیں زُہْد کی حقیقت میں شامِل ہیں اور مُتَوکِّلین کے فضائل میں سے ہیں۔
حقیقی فقیر کے لیے مال جمع کرنا عیب ہے
ایک مَشْہُور رِوایَت میں ہے کہ اَصحابِ صُفّہ میں سے کسی صَحابی کا اِنْتِقَال ہوا اور کَفَن کےلئے کپڑا نہ مل سکا تو مدینے کے تاجدار صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِرشَادفرمایا:اس کے کپڑوں کی تلاشی لو۔ راوی فرماتے ہیں: ہم نے تلاشی لی تو تہہ بند سے دو۲ دِینار ملے۔یہ دیکھ کر آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِرشَادفرمایا:یہ دونوں داغ ہیں۔[1]حالانکہ اس صَحابی کے عِلاوہ بَہُت سے مسلمان فوت ہوئے اور انہوں نے اپنے پیچھے کثیر مال چھوڑا مگر آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ان کے مُتَعَلّق یہ اِرشَادنہ فرمایا، کیونکہ ان کا حال زُہْد کا تھا اور ان پر فَقْر ظاہِر تھا، لہٰذا ان کے مال جَمْع کرنے کو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے عَیب قرار دیا۔
مُتَوکِّل کے لیے عِلاج کرنے اور نہ کرنے کا بیان
عِلاج معالجہ توکل کے منافی نہیں
عِلاج مُعَالَجہ بندے کے تَوَکُّل میں کمی کا باعِث نہیں بنتا، اس لیے کہ سرورِ کائنات ، فَخْرِ مَوجُودات صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے خود اس بات کا حکْم دیا ہے اور اس میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی حِکْمَت کی خَبَر دی ہے۔ چنانچہ،
مَرْوِی ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے پیارے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِرشَادفرمایا:کوئی بیماری ایسی نہیں جس کی دَوا نہ ہو،اس کی پہچان وُہی رکھتا ہے جو اسے جانتا ہے اور نہ جاننے والا وُہی ہے جو پہچان نہیں رکھتا،البتہ! موت کی کوئی دَوا نہیں۔[2]
ایک رِوایَت میں ہے کہ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِرشَادفرمایا: اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے بندو! (بیمار ہو جاؤ تو)عِلاج کیا کرو۔ [3]
[1]………مصنف عبد الرزاق ، كتاب الصلاة ، باب الوضوء فی المسجد ، ۱/ ۳۱۷ ، حدیث: ۱۶۵۱
مسند احمد ، مسند عبد اللہ بن مسعود ، ۲/ ۷۰ ، حدیث: ۳۸۴۳
[2]………معجم اوسط ، ۱/ ۴۲۶ ، حدیث: ۱۵۶۴ مصنف ابن ابی شیبة ، کتاب الطب ، باب من رخص فی الدواء والطب ، ۵/ ۴۲۱ ، حدیث: ۵
[3]………ابن ماجه ، کتاب الطب ، باب ما انزل اللہداءالا انزل له شفاء ، ۴/ ۸۷ ، حدیث: ۳۴۳۶
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع