دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Qoot ul Quloob Jild 2 | قوت القلوب جلد دوم

book_icon
قوت القلوب جلد دوم

کی عِبَادَت کرنے اور راہِ خُدا میں جِہاد کرنے کے لیے ہوتی ہے، یہ اہلِ رِجا اور اہلِ اُنْس و مَحبَّت کی ایک جَمَاعَت کا  طریقہ ہے، لیکن اگر کوئی نفسانی لذّت اور دُنْیَاوِی فوائد کے حُصُول کی خاطِر طویل زِنْدَگی کی اُمِّید رکھے تو یہ بات اس کے زُہْد میں عیب کا باعِث بن جائے گی اور یوں اس کے تَوَکُّل میں بھی عیب سَرایَت کر جائے گا، اس لیے کہ جو بات زُہْد میں کمی کا باعِث بنتی ہے وہ اسی حِساب سے تَوَکُّل میں بھی کمی کا سَبَب بنتی ہے اور اس سے یہ مُراد نہیں کہ جو بات زُہْد میں زِیادَتی کا باعِث بنتی ہے وہ اس حِساب سے تَوَکُّل میں بھی زِیادَتی کا سَبَب بنے، کیونکہ زُہْد خاص تَوَکُّل کے لیے شَرْط ہے مگر تَوَکُّل عام زُہْد کی شرط نہیں۔

زہد اور توکل کا باہمی تعلق

ہر مُتَوکِّل تو یقیناً زاہِد ہوتا ہے مگر ہر زاہِد مَقامِ تَوَکُّل پر فائز نہیں ہوتا۔ اس لیے کہ تَوَکُّل ایک مَقام ہے اور زُہْد ایک حال ہے۔ مَقامات مُقرَّبین کے ہوتے ہیں اور اَحْوَال اَصحابِ یمین کے، البتہ! جسے زُہْد کی حقیقت سے نوازا جاتا ہے اسے لامحالہ تَوَکُّل کی دولت سے بھی مالا مال کیا جاتا ہے، اس لیے کہ اَحْوَال کی حقیقت، ان کا ثابِت رہنا اور اَہلِ اَحْوَال کا اپنے اَحْوَال میں ہمیشہ اِسْتِقَامَت اِخْتِیار کرنا اور ان کے قُلوب کا ان کے اَحْوَال سے ہر صُورَت میں وابَستہ رہنا مَقامات کہلاتا ہے۔

طُولِ اَمَل اور توکل کا باہمی تعلق

 (صَاحِبِ کِتاب اِمامِ اَجَلّ حضرت سَیِّدُنا شیخ ابُو طالِب مکّی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں)جب مُتَوکِّل کے لیے یہ جائز ہے کہ وہ ایک یا دو۲ ماہ کے لیے زِنْدَہ رہنے کی اُمِّید رکھے تو اتنی مُدّت کے لیے اسے ذخیرہ کرنا بھی جائز ہے۔  البتہ!خواص کے نزدیک طُولِ اَمَل (لمبی اُمِّید)اسے تَوَکُّل کی حقیقت سے دُور کر دیتی ہے جبکہ میرے نزدیک بندہ تَوَکُّل کی حَد سے باہَر نہیں نکلتا۔

متوکل کا خوراک جمع کرنا کیسا؟

مُتَوکِّل کے لیے 40 دن سے زائد کی خوراک جَمْع کرنا اچھّا نہیں جیسا کہ اس کے لیے 40 دن سے زیادہ زندہ رہنے کی اُمِّید رکھنا اچھّا نہیں۔ چنانچہ جس شخص کو مَعْلُوم کے پائے جانے پر راحَت ملے وہ اپنے قَلْب کی اِصلاح، نَفْس کے سُکُون اور لوگوں کی طرف مائل نہ ہونے کی غَرَض سے کچھ جَمْع کرے تو اس شخص کا مال (یعنی خوراک)جَمْع کرنا اَفضل ہے۔ اسی طرح جو شخص اپنے گھر والوں کے لیے کچھ جَمْع کرے تاکہ ان کے قُلُوب راحَت پائیں، انہیں اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی رَضا حاصِل ہو اور اس کے ذِمَّہ ان کے جو حُقُوق ہیں وہ ساقِط ہو جائیں  تاکہ وہ اپنے رب کی عِبَادَت کے لیے فارِغ ہو جائے تو ایسے شخص کا مال جَمْع کرنا بھی فضیلت کا باعِث ہے اور اس پر سب کا اِتّفاق ہے۔ اس لیے کہ اس صُورَت میں بندہ اپنے رب کے حکْم کو بجا لانے والا اور اپنی اس رَعِیَّت کا خَیال رکھنے والا شُمار ہوتا ہے کہ جس کے مُتعلِّق اس سے پوچھا جائے گا۔جیسا کہ ایک رِوایَت میں ہے کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے مَحبوب، دانائے غُیوب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اپنے اہلِ بَیْت کے لیے سال بھر کی خوراک کا اِنْتِظام  فرمایا [1]تاکہ یہ سنّت بن جائے۔اُدھر آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حضرت سَیِّدَتُنا اُمِّ اَیْمَن رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہا کو آنے والے کل کے لیے کچھ بچا کر رکھنے سے مَنْع فرمایا، [2]اسی طرح حضرت سَیِّدُنا بلال رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کو بھی کچھ جَمْع کر کے رکھنے سے مَنْع فرمایا [3] تاکہ اہلِ مَقامات اس مُعَامَلے میں ان کی اِقتدا کریں اور خود جب اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے پیارے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اس جَہانِ فانی سے کُوچ فرمایا تو آپ کے پاس صِرف دو۲ چادَریں تھیں۔ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سب سے زیادہ کم اُمِّیدیں باندھنے والے تھے، بلکہ طبعی حاجَت سے فَراغَت کے بعد پانی تک پہنچنے سے پہلے پہلے تَیَمُّم فرما لیتے ، جب عَرْض کی جاتی کہ پانی قریب ہی ہے تو اِرشَادفرماتے: میں پانی تک پہنچنے کی اُمِّید نہیں رکھتا۔ [4]

سال بھر کی خوراک کا انتظام فرمانے کی وجہ

اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے مَحبوب، دانائے غُیوب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے سال بھر کی خوراک کا اِنْتِظام فرمانے کی وجہ یہ تھی کہ اُمَّت اپنی لمبی اُمِّیدوں کی وجہ سے ہلاک نہ ہو جائے، لہٰذا ان کی نجات کے لیے آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے یہ کام کیا۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ ذخیرہ اندوزی میں عارِفین کے مُشاہَدات کے اِعْتِبَار سے وُسْعَت و تنگی پائی جاتی ہے، کیونکہ شَریعَت میں رُخْصَت و عَزِیمت دونوں ہیں۔ دین کی عزیمتیں ان قَوِی لوگوں کے لیے ہیں جو ان کا بوجھ بَرْدَاشْت کرسکتے ہیں اور رخصتیں کمزور لوگوں کے لیے ہیں۔

چار۴ چیزیں اُمُورِ دین میں سے ہیں

حضرت سیِّدُنا ابراہیم خوّاص رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ اَحْوَالِ تَوَکُّل میں بڑی گہری باتیں کیا کرتے تھےاور فرماتے کہ مال کا جَمْع کرنا بندے کو تَوَکُّل کی حَد سے باہَر نِکال دیتا ہے، اس کے باوُجُود چار۴ چیزیں ہمیشہ آپ رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کے پاس رہتیں اور اِرشَادفرمایاکرتے کہ ان چار۴ اَشیا کا پاس ہونا مُتَوکِّل کے حال کو مُکَمَّل کر دیتا ہے کیونکہ یہ اُمُورِ دین میں سے ہیں اور وہ چار۴ چیزیں یہ تھیں: ڈَول ، رَسِّی، سُوئی دَھاگہ اور قینچی۔

طُولِ اَمَل اور قصرِ اَمَل میں مال جمع کرنے والے کی مثال

حضرت سَیِّدُنا سَہْل بن عبداللہ تُسْتَری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی طُولِ اَمَل اور قصرِ اَمَل میں مال جَمْع کرنے والے کی مِثال یوں دیا کرتے تھے کہ جو شخص مال جَمْع کرنا چھوڑ دیتا ہے اس کی مِثال اس شخص کی ہے جو یہ کہے کہ میں اَیْلہ (نامی ایک قریبی جگہ) جانا چاہتا ہوں تو اس سے کہا جائے گا کہ (بطورِ زادِ راہ) اپنے ساتھ ایک روٹی لے لو۔ لیکن اگر وہ کہے کہ میں (اَیلہ سے مزید کچھ دُور واقِع شہر)عَبَّادَان جانا چاہتا ہوں تو اس سے کہا جائے گا کہ دو۲ روٹیاں ساتھ لے لو۔ لیکن اگر وہ کہے کہ میں (اس سے بھی دُور )عَسْکر جانا چاہتا ہوں تو اس سے کہا جائے گا کہ چار۴ روٹیاں لے لو۔ فرماتے ہیں کہ اس طرح اُمِّیدوں کی کمی اور طَوَالَت کے مُطابِق خوراک کا جَمْع کرنا تَرْک کیا جاسکتا ہے۔

اُمِّیدوں سے پیچھا چھڑانے والی ایک عجیب روایت

(صَاحِبِ کِتاب اِمامِ اَجَلّ حضرت سَیِّدُنا شیخ ابُو طالِب مکّی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں)اُمِّیدوں سے پیچھا چھڑانے والی اس سے بھی عجیب رِوایَت میں نے یہ سنی ہے کہ ایک بار (دورانِ سفر)حضرت سَیِّدُنا موسیٰ اور حضرت سَیِّدُنا خضر عَلَیْہِمَا السَّلَام کہیں اِکٹھے ہوئے تو حضرت سَیِّدُنا موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام نے حضرت سَیِّدُنا خضر عَلَیْہِ السَّلَام سے بھوک کا تذکرہ کیا، چنانچہ انہوں نے



[1]………بخارى ،  كتاب النفقات ،  باب حبس نفقة الرجل قوت سنة على اهله وكيف نفقات العيال ، ۳/ ۵۱۳ ، حدیث:  ۵۳۵۷

[2]………نوادر الاصول ، الاصل العاشر ، ۱/ ۵۶ ، حدیث:  ۶۹

[3]………معجم كبير ، ۱/ ۳۴۱ ، حدیث:  ۱۰۲۱

[4]………مسند احمد  ،  مسند عبد اللہ بن العباس ، ۱/ ۶۵۰ ، حدیث:  ۲۷۶۴ ، ۲۷۶۵

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن