30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حضرت سیِّدُنا سُفْیَان ثَوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کےپا س 50 دِینار تھے جن سے آپ رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ تِجَارَت کیا کرتے تھے، پھر بعد میں آپ رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ نے تمام دِینار لے کر انہیں اپنے بھائیوں میں تقسیم کردیا اور کاروبار تَرْک کر دیا۔ایک قول کے مُطابِق آپ نے ایسا اس وَقْت کیا جب آپ کے گھر والےفوت ہوگئے۔
اہل و عیال کے لیے ترکِ کسب کی جائز صورت
کسی کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ اپنے اہل وعَیال کے حال کو اپنا حال بنا لے، البتہ! اگر ان کی پسند بھی اس کی پسند جیسی ہو جائے تو کوئی حَرَج نہیں، یعنی وہ بھی فَقْرپر صَبْر کریں اور اس کی فضیلت سے اسی طرح آگاہ ہوں جیسا کہ وہ آگاہ ہے تو اس وَقْت اس کےلیے جائز ہے وہ انہیں بھی اپنے طریقے پر چلائے،اس صُورَت میں اس پر اپنے اہل و عَیال کی خاطِر کمائی کرنے کا حکْم ساقِط ہو جائے گا۔اس لیے کہ اب وہ بھی حال میں اس کی مِثل ہو گئے ہیں اور انہوں نے اپنے حُقوق کا مُطالَبہ خود ساقِط کر دیا ہے۔ سَلَف صالحین رَحِمَہُمُ اللہ الْمُبِین کی ایک جَمَاعَت نے ایسا ہی کیا ہے۔
بعض عارِفین رَحِمَہُمُ اللہ الْمُبِین غیر مَعْلُوم کو مَعْلُوم سے اَفضل قرار دیتے اور تَرْکِ کَسْب کو اَفضل نہ سمجھتے، کیونکہ یہ بھی ایک مَعْلُوم ہے۔ چنانچہ یہ لوگ مَعْلُوم کے پائے جانے پر دل کے سُکُون کو مَرَض شُمار کرتے اور اگر غیر مَعْلُوم کے پائے جانے پر بھی دل پُر سُکُون رہے، فِکْر و سوچ کو یکسوئی ملے اور مَعْدُوم کے حال میں طَمَع نہ رہے تو یہ مَقام فضیلت کا ہے۔
(صَاحِبِ کِتاب اِمامِ اَجَلّ حضرت سَیِّدُنا شیخ ابُو طالِب مکّی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں)اس مَقام کی وَضَاحَت میرے نزدیک یہ ہے کہ صِرف مَعْلُوم کا نہ ہونا فضیلت کا باعِث نہیں جیسا کہ کاروبار چھوڑ کر مَحْض بیٹھ جانا فضیلت کا باعِث نہیں، بلکہ بندے کو اپنے مَقام کے حال کے اِعْتِبَار سے فضیلت حاصِل ہوتی ہے،لہٰذا صاحبِ مَعْلُوم اپنی بہترین مَعْرِفَت اور مَضْبُوط یقین کی بنا پر اس شخص سے اَفضل ہے جس کے پاس مَعْلُوم نہ ہو۔ البتہ! مَقام و مَرتبے کے مُطابِق مَعْلُوم کے پائے جانے پر اِطمینانِ نَفْس اور سُکُونِ قَلْب فِی الْحَال مَرَض شُمار نہ ہو گا، بلکہ یہ کوئی ایسا مَقام نہیں جس کی وجہ سے اسے کوئی رِفْعَت ملے اور نہ یہ کوئی ایسا حال ہے کہ اس کے سَبَب اسے کوئی فضیلت ملے۔ چنانچہ میرے اور سب کے نزدیک مَخلوق میں طَمَع اور بَقَدْرِ كِفَایَت مَعْلُوم کے پائے جانے پر قلبی اِنْتِشَار نُقْصَان دہ ہے۔ جبکہ مَخلوق میں طَمَع کا نہ ہونا اور مَعْلُوم کے نہ پائے جانے پر قَلْب کو یکسوئی حاصِل ہونا ایک جَمَاعَت کے نزدیک اَفضل اور اعلیٰ دَرَجَہ ہے۔
مَرْوِی ہے کہ دو۲ جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَر صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حضرت سَیِّدُنا خالِد بن ولید رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کے دو۲ صاحبزادوں سے اِرشَاد فرمایا: جب تک تم دونوں کے سَر حَرَکَت میں ہیں رِزْق سے مایُوس مَت ہونا، اس لیے کہ انسان کو اس کی ماں جنتی ہے تو وہ سرخ ہوتا ہے، اس پر چھلکا نہیں ہوتا، پھر اس کے بعد اللہ عَزَّ وَجَلَّ اسے رِزْق دیتا ہے۔ [1]
رزق آخر بندے تک پہنچ ہی جاتا ہے
ایك شخص كو محبوب ربِّ داور، شفیعِ روزِ مَحشر صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ایك كھجور عَطا كی اور اِرشَاد فرمایا: اگر تو اس كے پاس نہ آتا تو یہ تیرے پاس آجاتی۔ [2] ایک قول میں ہے کہ اگر بندہ اپنے رِزْق سے بھاگے تو وہ اسے پکڑ لیتا ہے جیسا کہ اگر وہ موت سے بھاگے تو وہ اسے آلیتی ہے۔ [3]
رِزْق اس وَقْت تک بندے کو نہیں چھوڑتا جب تک کہ اس کے سامنے موت کا فرشتہ ظاہِر نہیں ہوتا، چنانچہ اس وَقْت اس کا دُنْیَاوِی رِزْق خَتْم ہو جاتا ہے اور اُخْرَوِی رِزْق شُروع ہو جاتا ہے، یوں اس کے اُخْرَوِی رِزْق کی اِبْتِدَا اور دُنْیَاوِی رِزْق کی اِنتِہا ہوتی ہے مگر اُخْرَوِی رِزْق کی کوئی اِنتِہا نہیں۔
رزق اس کے ذِمَّہ ہے جس نے پیدا کیا
حضرت سَیِّدُنا سَہْل بن عبداللہ تُسْتَری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں کہ اگر کوئی بندہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے یہ دُعا مانگے کہ وہ اسے رِزْق نہ دے تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس کی یہ دُعا قبول نہیں فرماتا بلکہ اس سے اِرشَاد فرماتا ہے: اے جاہِل! میں نے تجھے پیدا کیا ہے اور یہ ضَروری ہے کہ تجھے ہمیشہ رِزْق بھی دیتا رہوں۔
کسی شے میں ہونے والی خرابی کو اس کا بنانے والا ہی درست کرتا ہے
ایک مرتبہ حضرت سَیِّدُنا سَہْل بن عبداللہ تُسْتَری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی سے قُوت (یعنی غِذا) کے مُتَعَلِّق چند سوالات پوچھے گئے۔ چنانچہ،
عَرْض کی گئی :قُوت (یعنی غِذا) سے کیا مُراد ہے؟تو اِرشَادفرمایا:(اس سے مُراد اس ذات کا ذکر ہے جو) هُوَ الْحَيُّ الَّذِیْ لَا يَمُوْتُ۔یعنی وہی زِندہ ہے جسے موت نہیں۔
عَرْض کی گئی: ہم نے آپ سے (موت کے مُتَعَلِّق نہیں بلکہ) قِوام (یعنی بَقائے حَیات کے لیے ضَروری روزی) کے بارے میں سوال کیا ہے۔اِرشَاد فرمایا: قِوام تو عِلْم ہے(کہ جس سے اُخْرَوِی حَیات کی بَقا کے لیے نیک اَعمال کیے جاتے ہیں)۔
عَرْض کی گئی: ہم نے جِسْم کی غِذا کے مُتَعَلِّق پوچھا ہے۔ اِرشَاد فرمایا:غِذا تو ذکِرِْ خُداوندی کا نام ہے۔
عَرْض کی گئی: ہم نے جِسْم کی کھائی جانے والی خوراک کے مُتَعَلّق سوال کیا ہے۔ اِرشَاد فرمایا:تمہیں کیا ہے
کہ اپنے جِسْم کی فِکْر میں مبتلا ہو؟ اسے چھوڑدو!اس لیے کہ جوپہلے اس کا والی تھا بعد میں بھی وہی اس کا والی ہو گا۔ کیونکہ جب جِسْم پر کوئی بیماری آتی ہے تو اس کو بنانے والی ہستی کی طرف ہی رُجُوع کیا جاتا ہے، کیا تم نے نہیں دیکھا کہ جب کسی شے میں کوئی خرابی پیدا ہو جائے تو اسے اس کے بنانے والے (یعنی کاریگر)کے پاس لے جاتے ہیں یہاں تک کہ وہ اسے دُور کر دیتا ہے۔
مزید اِرشَادفرماتے ہیں کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ اپنے خواص بندوں کو فاقے میں مبتلا کرکے انہیں مَخلوق کا حاجَت مند بنا دیتا ہے تاکہ وہ ان میں طَمَع رکھیں اور مَخلوق کے دل میں یہ بات ڈال دیتا
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع