30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بدمذہب اور مَاوَرَائے عَقْل (یعنی عَقْل سے بالاتر)باتیں کرنے والے لوگوں نے جب بھی مسلمانوں کو راہِ حَق سے ہٹانے اور دین سے بے بہرہ کرنے کی کوشش کی اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے ان کا ردّ کرنے کے لیے عُلَمائے رَبّانیین رَحِمَہُمُ اللہ الْمُبِین کو پیدا فرما کر انہیں عِلْمِ یقین کی دولت سے نوازا۔ چنانچہ ،
سرورِ کائنات صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ان عُلَمائے رَبّانیین رَحِمَہُمُ اللہ الْمُبِین کے عِلْم و عَدْل کی گواہی دیتے ہوئے اِرشَاد فرمایا:بعد والوں میں ایسے عادِل اور نیک بندے یہ عِلْم حاصِل کریں گے جو ٭۔۔۔غُلُو کرنے والوں کی تحریف ٭۔۔۔باطِل پرستوں کی اس عِلْم میں شامِل کی گئی ناحَق باتوں اور ٭۔۔۔جاہِلوں کی غَلَط تاویلوں سے اسے پاک کریں گے۔[1]
٭۔۔۔۔۔حدیثِ مُبارَکہ میں جن غُلُو کرنے والوں کا تذکرہ ہوا ہے ان سے مُراد ماوَرَاءُ العقل اور چِکنی چُپْڑی باتیں کرنے والے لوگ ہیں کیونکہ یہ لوگ عِلْم کی حُدود سے تَجاوُز کر چکے ہیں، انہوں نے راہِ عِلْم کے نُقُوش مِٹا کر اَحْکام کو ہی خَتْم کر دیا ہے۔
٭۔۔۔۔۔باطِل پرست لوگ وہ ہیں جو لوگوں کو اپنی اِیجاد کردہ بِدْعَت کی طرف بلاتے ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے حق کو مِٹانے اور اس پر غالِب آنے کے لیے باطِل باتوں کے ذریعے اہلِ حَق سے جھگڑا کیا۔ جھوٹے دعوے کئے اور اپنی رائے اور نفسانی خواہش کے ذریعے نئی نئی باتیں ایجاد کیں۔
٭۔۔۔۔۔جاہِلین سے مُراد وہ لوگ ہیں جو عِلْمی غَرائب سن کر ماننے سے اِنکار کر دیتے ہیں اور ظاہِری عَقْل پر پرکھتے ہوئے انہیں جھوٹا قرار دیتے ہیں۔ چنانچہ فرمانِ مُصْطَفٰے ہے: بعض عُلوم مخفی خزانوں کی طرح ہوتے ہیں جنہیں صِرف اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی مَعْرِفَت رکھنے والے ہی جانتے ہیں، جب وہ اس عِلْم کی بات کرتے ہیں تو صِرف وہی لوگ اس سے لاعلمی کا اِظْہَار کرتے ہیں جو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے مُعامَلے میں دھوکے میں مبتلا ہوتے ہیں۔[2]
لہٰذا کسی ایسے بندے کو حقیر نہ جانو جسے اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے عِلْم کی دولت سے نوازا ہو۔ اس لیے کہ جب اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اسے عِلْم کی دولت عطا فرمائی تو اب وہ حقیر نہیں رہا۔
باطل پرستوں اور علمائے ربانیین کا طریقہ
جو شخص اپنی رائے یا عَقْل کے مُطابِق اَحادِیثِ مُبارَکہ کی تاویل کرے یا ایسی باتیں کرے جو سَلَف صالحین رَحِمَہُمُ اللہ الْمُبِین سے منقول نہ ہوں یا ان سے منقول اَقوال کے برعکس مَفہوم بیان کرے تو ایسا شخص جان بوجھ کر باطِل کو چاہنے والا ہے۔ جن بندوں کو عُلَمائے رَبَّانِیِّیْن رَحِمَہُمُ اللہ الْمُبِین ہونے کا شَرَف حاصِل ہو ان کا طریقہ یہ ہے کہ وہ عِلْمِ یقین کے ذریعے عقلی عُلوم کا اور عِلْمِ اَحادِیث کے ذریعے عِلْمِ رائے کا ردّ کرتے ہیں اور آثار و اَخبار بیان کرنے والوں کی روایات کو دلائل کے ساتھ نہ صِرف ثابِت کرتے ہیں بلکہ ان سے مروی روایات کی ایسی تفصیل و تفسیر بیان کرتے ہیں کہ جس سے (بسا اَوقات)وہ راوی بھی آگاہ نہ ہوتے تھے، کیونکہ انہیں اس سلسلے میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی تائید حاصِل ہوتی ہے۔ وہ اس طرح کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ انہیں مُشاہَدہ کی دولت عطا فرماتا ہے، ان کے دلوں کو نُورِ ایمان سے مُنَوّر فرما کر انہیں ایسی قُوّتِ گویائی عطا فرماتا ہے جس سے وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے بارے میں وہی باتیں بتاتے ہیں جو انہیں بتائی جاتی ہیں۔ چنانچہ،
اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا فرمانِ عالیشان ہے:
(1) ذٰلِكَ فَضْلُ اللّٰهِ یُؤْتِیْهِ مَنْ یَّشَآءُؕ-(پ۲۸، الجمعة:۴)
(2) وَ جَعَلْنَا مِنْهُمْ اَىٕمَّةً یَّهْدُوْنَ بِاَمْرِنَا لَمَّا صَبَرُوْا۫ؕ-وَ كَانُوْا بِاٰیٰتِنَا یُوْقِنُوْنَ(۲۴)(پ۲۱، السجدۃ:۲۴)
ترجمۂ کنز الایمان:اور ہم نے ان میں سے کچھ اِمام بنائے کہ ہمارے حکم سے بتاتے جب کہ انہوں نے صبر کیا اور وہ ہماری آیتوں پر یقین لاتے تھے۔
ایک عالِم فرماتے ہیں کہ جس بارے میں سَلَف صالحین رَحِمَہُمُ اللہ الْمُبِین نے کلام کیا ہو اس کے مُتَعَلّق خاموش رہنا ظُلْم ہے اور جس کے مُتَعَلِّق سَلَف صالحین رَحِمَہُمُ اللہ الْمُبِین خاموش ہوں اس بارے میں کلام کرنا تکلّف ہے۔ ایک عالِم فرماتے ہیں کہ حَق بات بڑی بھاری ہوتی ہے جس نے اس کی حُدُود پار کرنے کی کوشش کی اس نے ظُلْم کیا اور جس نے کوشش کی مگر باز آ گیا وہ عاجِز ہے اور جو حَق کے ساتھ کھڑا رہا اسے یہی کافی ہے۔
امیر المومنین حضرت سَیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمسے منقول ہے:تم پر لازِم ہے کہ ایسا درمیانہ راستہ اِخْتِیار کرو کہ جو اس راستے سے آگے بڑھ جانے والے ہیں وہ واپس اس مَقام پر لوٹ آئیں اور جو پیچھے آنے والے ہیں وہ وہاں تک پہنچ جائیں۔[3]
سَلَف صالحین رَحِمَہُمُ اللہ الْمُبِین کا یہی طریقہ رہا ہے کہ وہ کسی بدمذہب کی اس کے منکر ہونے کی وجہ سے کوئی بات نہیں سنتے تھے۔ البتہ!اس کی بِدْعَت پر گہری نظر رکھتے اور مُناظَرہ ومُجادَلہ سے اس کا خوب ردّ فرماتے اور اس سلسلے میں ہمیشہ آثار وسُنَن سے دلائل دیتے۔
(یہاں صاحِبِ کتاب اِمامِ اَجَلّ حضرت سَیِّدُنا شیخ ابُو طالِب مکّی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی عام لوگوں کو مُخاطِب کر کے فرماتے ہیں کہ پس تمہیں بھی اَسلاف کی سنّت پر عَمَل کرتے ہوئے یہ دیکھنا چاہئے کہ)اگر وہ بدمذہب حَق بات مان لے تو تمہارا دینی بھائی ہے اور تم پر اس کی دوستی لازِم ہے اور اگر وہ بِدْعَت سے رُجُوع نہ کرے اور حق بات ماننے سے اِنکار کر دے تو پھر تم پر لازِم ہے کہ اس کے انکار کی وجہ سے اس سے قطع تعلّق کر لو کیونکہ اس کا بدمذہب ہونا نہ صِرف معلوم ہو چکا ہے بلکہ یہ بھی ثابِت ہو چکا ہے کہ وہ دشمنِ دین ہے اور اس نے راہِ خُدا کوچھوڑ دیا ہے۔ جان لیجئے کہ یہ راہِ اِعْتِدال ایسی ہے جسے ہمارے زمانے میں صِرف انہی لوگوں نے اِخْتِیار کر رکھا ہے جو اس کی فضیلت اور سَلَف صالحین رَحِمَہُمُ اللہ الْمُبِین کے طریقے سے واقِف ہیں۔
شیطان کا اپنے چیلوں کو تسلی دینا
ابلیس لعین کے مُتَعَلّق مروی ہے کہ اس نے دَورِ صحابہ میں اپنے لشکروں کو (شَر پھیلانے کے لیے) بھیجا مگر جب وہ پریشان حال واپس لوٹے تو اس نے پوچھا: تمہیں کیا ہوا؟وہ بولے کہ ہم نے ان جیسے لوگ نہیں دیکھے، ہمیں ان سے کچھ حاصِل نہیں ہوا بلکہ انہوں نے تو ہمیں تھکا دیا ہے۔ ان کی یہ بات سن کر ابلیس لعین نے انہیں تسلی دیتے ہوئے کہا:تم ان پر غالِب نہ آ
[1]………مشکاة المصابیح ، کتاب العلم ، الفصل الثالث ، ۱/ ۶۷ ، حدیث: ۲۴۸
[2]………جمع الجوامع ، قسم الاقوال ، حرف الھمزة ، ۳/ ۱۴۲ ، حدیث: ۷۸۶۷ ، بتغیرٍقلیلٍ
[3]………الجامع لاحکام القرآن للقرطبی ، البقرة ، تحت الایة: ۱۴۳ ، الجزء الثانی ، ۱/ ۱۱۷
مصنف لابن ابی شیبة ، کتاب الزھد ، کلام علی بن ابی طالب ، ۸/ ۱۵۵ ، حدیث: ۴
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع