30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حضرت سَیِّدُنا فَضَالَہ بِن عُبَید رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ مِصر کے گَوَرْنَر تھے، ایک بار آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کو پراگندہ بال، پریشان حال اور ننگے پاؤں دیکھا گیا تو عَرْض کی گئی:آپ اس حَالَت میں کیوں ہیں؟ اِرشَادفرمایا: اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے رسول صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ہمیں آرام دہ زِنْدَگی بَسَر کرنے سے مَنْع فرمایا اور حکْم اِرشَادفرمایا کہ بعض اَوقات ہم ننگے پاؤں بھی چَلا کریں۔ [1]
حضرت سَیِّدُنا عبد الرحمٰن بن عَوف رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے اپنے اَنصاری بھائی کے اِیثار پر اس بات کو ترجیح دی کہ جس سے آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ اپنے بھائی کے حَق کی دیکھ بھال سے بَری ہو جائیں۔ کیونکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ اِیثار کو پسند فرماتا ہے اور اس نے اِیثار کرنے والوں کے اَوصَاف بھی بیان کئے ہیں۔
حقوق کی ادائیگی میں کچھ پروا نہ کرنا
حضرت سَیِّدُناعبد الرحمٰن بن عوف رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے بھی بُلَند مرتبے والے، اِماموں کے اِمام یعنی امیر المومنین حضرت سیِّدُنا ابو بکر صِدِّیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ جب خلیفہ بنے تو آپ نے کپڑوں کی گٹھڑی بَغَل میں دبائی اور بازار میں جا کر بیچنے کے لیے آوازیں لگانے لگے، خِلافت کا اہل ہونے کی بنا پر یہ مُعَامَلہ ان کے کامِل حال پر دَلَالَت کرتا ہے، یہاں تک کہ صحابَۂ کِرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان جَمْع ہو گئے اور انہوں نے آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کے اس طرح تِجَارَت میں مَشْغُول ہونے کو اچھّا نہ جانا تو آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے ان سے فرمایا: مجھے میرے اہل و عَیال سے غافِل نہ کرو، اگر میں ان کا حَق ادا نہ کر سکا تو دیگر لوگوں کے حُقُوق کو ان سے زیادہ ضائع کرنے والا بن جاؤں گا۔ (مگر صحابہ نہ مانے) بلکہ انہوں نے آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کے لیے ایک عام مسلمان گھرانے کے برابر وَظِیفہ مُقَرَّر کر دیا ، نہ اس سے زیادہ نہ کچھ کم، جب تمام لوگ اس بات پر راضی ہو گئے اور سب کا اِتّفاق ہوگیا تو آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے مسلمانوں کے مَصَالح میں مَصروفیَّت کے سَبَب تِجَارَت تَرْک کر دی۔
دیکھا آپ نے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے امیر المومنین حضرت سَیِّدُنا ابو بکر صِدِّیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ پر ان کے اہل و عَیال کے جو حُقُوق لازِم کئے تھے،انہوں نے کس طرح ان کی ادائیگی کو ترجیح دی ؟ اور اپنے مرتبے کی بُلَندی کے باوُجُود اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رَضا کے حُصُول کے لیے تَوَاضُع سے کام لیا اور اپنی نِگاہوں میں مَخلوق کو کوئی اَہَمِیَّت نہ دی، یہاں تک کہ تمام مسلمانوں نے اس بات کو اَچھّا نہ جانا (اور ماہانہ وَظیفہ مُقَرَّر کر دیا)توایک نئے حکْم کی وجہ سے تِجَارَت تَرْک کی ۔
توکل کا تعلّق کب تک کسی حکم سے قائم رہتا ہے؟
یاد رکھئے کہ تَوَکُّل کا تعلّق پہلے حکْم کے ساتھ اس وَقْت تک برقرار رہتا ہے جب تک کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ بندے کے لیے کوئی اور راہ نہ کھول دے، (اور جب کوئی دوسری راہ کھل جائے تو) اس پر دوسری راہ کو اپنانا لازِم ہوجاتا ہے۔
اہل و عیال کی ضروریات پوری کرنا
سَلَف صالحین رَحِمَہُمُ اللہ الْمُبِین میں سے ایک عالِم کے پاس لوگ جمع ہو جاتے تا کہ وہ انہیں وَعظ کریں تو وہ فرمایا کرتے: اگر مجھے یہ معلوم ہو کہ میرے اہل و عَیال کو سبزی کی ضَرورت ہے تو میں تمہیں وَعظ نہ کروں۔
(صَاحِبِ کِتاب اِمامِ اَجَلّ حضرت سَیِّدُنا شیخ ابُو طالِب مکّی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں)یہ قول اس بات کی دلیل ہے کہ نفسانی خواہشات کو پسند کرنے والے لوگ اپنے کام نہ کرنے کا عُذْر اور اپنے نَفْس (کی تَن آسانی)کے لیے یہ دلیل دیتے ہیں کہ مُتَوکِّلین کام کرنا پسند نہیں کرتے۔(چنانچہ ضَرورت اس اَمْر کی ہے کہ) عُلَمائے کِرام دین کی باتیں خوب کھول کر اور عِلْم کی حقیقت کو دلائل کے ساتھ خُوب واضِح کریں۔
کَسْب اور اَسبابِ کَسْب ہی وہ راستے ہیں جن کے ذریعے اللہ عَزَّ وَجَلَّ اپنی عَطاؤں کی بارِش اور رِزق سے نوازتا ہے، یہ دونوں یعنی کَسْب اور اسبابِ کَسْب بذاتِ خود کسی کو نوازتے ہیں نہ رِزْق پہنچاتے ہیں، ان کی حَیْثِیَّت وُہی ہے جو لوگوں میں سے کسی واسطہ بننے والے شخص کی ہوتی ہے۔ چنانچہ،
٭…اَسباب کا اِسْتِعمال کرنے والا مُتَوکِّل شخص اس بات کا یقین رکھتا ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہی اسے (اپنی نعمتوں سے) نوازنے والا اور (اپنی حِکْمَت کی بنا پر)نعمتوں کو روکنے والا ہے۔
٭…اسے یہ بھی یقین ہوتا ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہی مُسبِّبُ الاَسْبَاب اور رازِق ہے، وُہی اَوّل،وُہی آخر ہے،وُہی دلوں کو ایک حَالَت سے دوسری حَالَت میں پھیرتا ہے۔
٭…اس کے دل کی نِگاہیں رِزْق بانٹنے والے کے مُشاہَدے میں مَصروف رہتی ہیں۔
٭…اس کا نَفْس قِسْمَت پر مطمئن ہوتا ہے۔
٭…دل قَناعَت کرنے والا اور جو کچھ قِسْمَت میں لکھ دیا گیا ہے اس پر راضی رہتا ہے۔
٭…جِسْم اس مَعْلُوم شے میں مُتَحَرِّک رہتا ہے جس کی جانِب اس کی تَوَجُّہ مَبْذول کرائی گئی اور جسے اس کا سَبَب بنایا گیا ۔
٭…وہ اپنے مَقام و مَرتبے اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی مَشِیَّت کو خوب جانتا ہے۔
٭… اپنے حال پر اور جن باتوں کی تکمیل کا اس سے مُطَالَبہ کیا گیا اور جو اس پر لازِم کی گئیں وہ ہر حال میں ان کی ادائیگی پر راضی رہتا ہے۔
مُتَوکِّل کے لیے عیب کا باعث باتیں
دَرْج ذیل باتیں مُتَوکِّل کے لیے عیب کا باعِث بنتی اور اسے تَوَکُّل کی حَد سے باہَر نِکال دیتی ہیں:
٭۔۔۔۔کَثْرَتِ مال کے حُصُول کے لیے شُبْہَات والی کمائی کرنا ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع