30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سرورِ کائنات ، فَخْرِ مَوجُودات صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فُقَرا کے نُفُوس کو پاک کرنے اور ان کا رُخ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی طرف کرنے کے لیے انہیں کچھ دینے میں اس بات کو شَرْط قرار دیا ہے کہ و ہ خود کچھ مانگیں نہ کسی کی طرف اس غَرَض کے لیے دیکھیں۔اس لیے کہ کسی فقیر شخص کے مانگنے میں ذِلَّت اور دنیا کی حِرْص پائی جاتی ہے اور جب وہ بندوں کی طرف اپنی حاجَت برآری کے لیے دیکھتا ہے تو اس کے دل میں اُس شے کا طَمَع پیدا ہوتا ہے جو طَمَع کے قابِل نہیں ہوتی، نیز اس کی نِگاہ کا مرکز غیرُ الله بن جاتا ہے، گویا وه گھر میں دروازے سے داخِل نہیں ہوا(یعنی اس نے غَلَط راہ اِخْتِیار کی ہے)۔ جیسا کہ دو۲ جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَر صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عِبْرَت نشان ہے:لوگوں سے مانگنا فَوَاحِش (یعنی بُری باتوں) میں سے ہے، اس کے عِلاوہ کسی فُحْش بات کو جائز قرار نہیں دیا گیا۔ [1]
سرکارِ مدینہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ نصیحت نشان ہے:جو غِنا چاہتا ہے اللہ عَزَّ وَجَلَّ اسے غنی کر دیتا ہے،جو پاک دامَنی چاہتا ہے اللہ عَزَّ وَجَلَّ اسے عِفَّت و پاک دامَنی عَطا فرماتا ہے [2]اور جو اپنے نَفْس پر سوال کا دروازہ کھولتا ہے تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس پر فَقْرکا دروازہ کھول دیتا ہے(یعنی پھر وہ مانگتا ہی رہتا ہے)۔[3]
سچّے فُقَرا کو ہدیہ و تُحفہ قبول کرنے کی اِجازَت دی گئی ہے، اس لیے کہ جب انہوں نے اپنے تزکیہ نَفْس اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے فَضْل کی خاطِر دوسروں سے مانگنا اور ان کی طرف دیکھنا چھوڑا تو اس کے بدلے میں ان کے لیے ہدیہ و تُحفہ قبول کرنا مُسْتَحَب بنا دیاگیا۔جیسا کہ اَہْلِ بَیْت کے لیے مالِ غنیمت میں سے خُمْس لینا تو جائز ہے مگر ان کی عَظَمَت و شَرافَت اور فضیلت کے باعِث صَدَقَہ ان پر حَرام ہے۔
حضرت سَیِّدُنا احمد بن حنبل عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْاَ وّل نے حضرت سَیِّدُنا ابو بکر مَرْوَزِی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی کو کسی (مزدور)فقیر کو کچھ رَقَم دینے کا حکْم اِرشَاد فرمایا جو اس کی اُجْرَت سے زائد تھی مگر اس نے قبول نہ کی۔ لیکن جب وہ مڑ کر چل دیا تو آپ رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ نے سَیِّدُنا مَرْوَزِی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی سے اِرشَادفرمایا:اس کے پیچھے جا کر اسے یہ دے آؤ، اب یہ یقیناً لے لے گا۔ چنانچہ انہوں نے اسے جا لیا اور رَقَم پیش کی تو اس نے قبول کرلی،واپَس آکر انہوں نے حضرت سَیِّدُنا احمد بن حنبل عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْاَ وّل سے اس بارے میں عَرْض کی کہ اس نے پہلے اِنکار کر دیا تھا، پھر دوسری بار پیش کرنے پر کیوں قبول کی؟تو آپ رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ نے اِرشَادفرمایا:پہلی بار اس کی نِگاہیں اس رَقَم کی طرف مائل ہو گئی تھیں چنانچہ اس نے قبول کرنے سے اِنکار کر دیا اور ایسا کر کے اس نے اچھّا کیا مگر جب واپَس مڑ کر چلا اور اس کا نَفْس اس رَقَم سے مَایُوس ہو گیا تو بعد میں اس لیے اس نے رَقَم لے لی۔
حضرت سَیِّدُنا ابراہیم خوّاص رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ خود کو جب کسی بندے کی عَطا کی طرف مائل پاتے یا آپ رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ اس بات کا خَدْشَہ مَحْسُوس کرتے کہ نَفْس اس کا عَادِی ہو جائے گا تو آپ رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کچھ بھی قبول نہ کرتے، بلکہ اِرشَادفرماتے:صُوفی پیشہ وَر نہیں ہوتا۔
یہ سب باتیں اس صُورَت میں اَچھّی ہیں جب بندہ اکیلا ہو اور شادی شُدہ نہ ہو۔ البتہ! جو شخص بال بچوں والا ہو اس کے لیے اس مُعَامَلے میں گنجائش ہے اور اس کے اپنے اَہْل و عَیال کے لیے کسی سے کوئی چیز لینے میں کوئی حَرَج نہیں جیسا کہ وہ دوسروں کے لیے لے لیتا ہے، اس لیے کہ اس کے اَہْل و عَیال اس کے پاس اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے عَیال ہیں اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے انہیں اس کے سُپُردکر کے ان کے رِزْق کو اس کے ہاتھ پر جاری فرمایا ہے، اب اگر اس نے ان کی خاطِر رِزْق تلاش کیا اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے ان کے جو حُقُوق اس پر لازِم کیے ہیں ان کی ادائیگی کے لیے کوشِش کی تو اس کے حال میں کوئی کمی نہ ہو گی بلکہ ایسا کرنا اس کے حال میں اِضافے کا باعِث بنے گا ۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے مَحبوب، دانائے غُیوب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حضرت سَیِّدُنا سَعْد بِن رَبیع اَنصاری اور حضرت سَیِّدُنا عَبْدُ الرَّحْمٰن بن عَوف رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا کے درمیان مُواخَات قائم فرمائی تو حضرت سَیِّدُنا سَعد رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے اپنے مُہاجِر بھائی یعنی حضرت سَیِّدُنا عبد الرحمٰن بن عوف رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے عَرْض کی: میں آپ کو اپنے مال اور اہل میں نِصْف کا حصّے دار بناتا ہوں۔ مگر حضرت سَیِّدُنا عبد الرحمٰن بن عَوف رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا:(اے میرے بھائی!)اللہ عَزَّ وَجَلَّ آپ کو آپ کے اہل اور مال میں بَرَکتوں سے نوازے، مجھے آپ بازار کا راستہ بتا دیجئے۔[4]
(صَاحِبِ کِتاب اِمامِ اَجَلّ حضرت سَیِّدُنا شیخ ابُو طالِب مکّی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں) حضرت سَیِّدُنا عبد الرحمٰن بن عوف رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے اس دن کام کیا اور شام کو گھی اور کچھ پنیر لے کر واپَس آئے۔ اگر بازاروں میں کام کرنا تَوَکُّل میں کمی کا باعِث بنتا تو آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کبھی ایسا نہ کرتے تاکہ ان کے تَوَکُّل میں کوئی کمی نہ ہو، حالانکہ آپ مُتَوکِّلین کے اِمام بھی ہیں۔چنانچہ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے نَفْس کو مَشَقَّت میں ڈالنا پسند کیا اور عَیْش والی زِنْدَگی پسند نہ کی۔ جیسا کہ سرورِ کائنات ، فَخْرِ مَوجُودات صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حضرت سَیِّدُنا مُعاذ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے اِرشَاد فرمایا: نعمتوں سے بھرپور زِنْدَگی سے بچنا! کیونکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے بندے نعمتوں سے لُطْف اندوز ہونے والے نہیں ہوتے۔ [5]
[1]………الحاوی للفتاوى ، كتاب الادب والرقاق ، آخر العجاجة الزرنبية في السلالسة الزينبية ، ۲/ ۴۲
[2]………نسائی ، کتاب الزکاة ، باب من الملحف ، ص۴۲۷ ، حدیث: ۲۵۹۲
[3]………ترمذی ، کتاب الزھد ، باب ما جاء مثل الدنیا مثل اربعة نفر ، ۴/ ۱۴۵ ، حدیث: ۲۳۳۲
[4]………مسند بزار ، مسند انس ، ۱۳/ ۲۸۸ ، حدیث: ۶۸۶۳
بخاری ، کتاب البیوع ، باب ما جاء فی قول اللہ: فاذا قضیت الصلاة…الخ ، ۲/ ۴ ، حدیث: ۲۰۴۹
[5]………مسند احمد ، حدیث معاذ بن جبل ، ۸/ ۲۵۷ ، حدیث: ۲۲۱۶۶
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع