30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حضرت سَیِّدُنا ابو محمد سَہْل تُسْتَری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی سے عَرْض کی گئی: بندے کے لیے تَوَکُّل کب دُرُسْت ہوتا ہے؟ اِرشَادفرمایا: جب اس کے جِسْم میں کوئی تکلیف پیدا ہو اور اس کے مال میں کمی واقِع ہو جائے مگر وہ اس کی طرف تَوَجُّہ دے نہ اس پر غم زدہ ہو، بلکہ اپنے حال میں مَشْغُول رہے اور اَحْکامِ خداوندی کی بجاآوری کو پیشِ نَظَر رکھے۔
حضرت سَیِّدُنا ابراہیم خوَّاص رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ جو کہ مُتَاَخِّرِین میں سے مُتَوکِّلین کے اِمام ہیں، اِرشَاد فرماتے ہیں:تین۳ مَقامات پر زادِ راہ ساتھ رکھنا آدابِ تَوَکُّل میں سے ہے: مَسْجِد میں بیٹھنا، کشتی میں سوار ہونا اور قافلے کے ساتھ سَفَر کرنا۔
حضرت سَیِّدُنا سُفْیَان ثَوری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں:
٭…جب عالِم کا کوئی ذریعہ مَعاش نہ ہو تو وہ تاریکی کا نُمائندہ بن جاتا ہے۔
٭…جب عابِد کا کوئی ذریعہ مَعاش نہ ہو تو وہ اپنے دین کو بیچ کر کھاتا ہے ۔
٭…اور جاہِل کے پاس ذریعہ مَعاش نہ ہو تو وہ فاسِقوں کا سفیر بن جاتا ہے۔
لوگوں کی تین۳ اَقسام
حضرت سَیِّدُنا یحییٰ بن مُعاذ رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں: لوگ تین۳ طرح کے ہیں:
(1 ) ۔۔۔۔وہ لوگ جن کی فِکْرِ آخِرَت انہیں دُنْیَاوِی مَعاش سے غافِل کر دیتی ہے، یہ کامیاب ہونے والوں کا دَرَجَہ ہے۔
(2 ) ۔۔۔۔وہ لوگ جن کی دُنْیَاوِی مَعاش فِکْرِ آخِرَت کی خاطِر ہوتی ہے، یہ نجات پانے والوں کا حال ہے۔
(3 ) ۔۔۔۔وہ لوگ جن کی دُنْیَاوِی مَعاش انہیں فِکْرِ آخِرَت سے غافِل کر دیتی ہے، یہ ہَلاک ہونے والوں کی صِفَت ہے۔
فرمانِ شیرِخدا اور اس کی وضاحت
امیر المومنین حضرت سَیِّدُناعلی المرتضیٰ شیرِ خدا کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمسے مروی ہے کہ رِزْق دو۲ طرح کا ہوتا ہے:
٭… ایک رِزْق وہ ہے جو تمہیں تلاش کرتا ہے۔
٭…اور دوسرا رِزْق وہ ہے جسے تم تلاش کرتے ہو۔
کسی عالِم نے امیر المومنین رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کے اس فرمان کی وَضَاحَت کچھ یوں کی ہے کہ وہ رِزْق جو تمہیں تلاش کرتا ہے اس سے مُراد تمہاری غِذا و خوراک ہے اور وہ رِزْق جسے تم تلاش کرتے ہو اس سے مُراد تملیک کا رِزْق ہے یعنی وہ رِزْق جو خوراک سے زائد طَلَب کیا جاتا ہے۔
توکل کے تین۳ مقام
حضرت سَیِّدُنا ابو یَعْقُوب سُوسِی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی تَوَکُّل میں ایک خاص مَقام کے حامِل ہیں، آپ رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ اِرشَادفرماتے ہیں:(تَوَکُّل میں تین۳ مَقام ہیں)عام، خاص عام اور خَاصُ الخاص۔ چنانچہ،
(1 ) ۔۔۔۔جو شخص اَسباب میں داخِل ہو کر عِلْم کا اِسْتِعمال کرے اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ پر تَوَکُّل بھی رکھے مگر یقین میں پختہ نہ ہو تو یہ مَقام عام ہے۔
(2 ) ۔۔۔۔جس نے اَسباب کو چھوڑ کر اللہ عَزَّ وَجَلَّ پر تَوَکُّل کیا اور یقین میں بھی پختہ ہو تو یہ مَقام خاص عام ہے۔
(3 ) ۔۔۔۔جس نے یقین کے پائے جانے کی بنا پر اَسباب سے دُوری اِخْتِیار کی ، پھر اَسباب میں داخِل ہو کر دوسروں کی خاطِر تَصَرُّف کیا تو یہ مَقام خَاصُ الْخَاص ہے۔
دوسروں کی خاطِر اسباب اِختیار کرنے والے
یہ طبقہ اُولیٰ کے صحابہ کِرام یعنی عَشْرَۂ مُبَشَّرہ عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان وغیرہ کا وَصْف ہے۔ یقین نے انہیں دنیا سے دُور کیا تو عِلْم نے انہیں دوسروں کی خاطِر اَسباب اِخْتِیار کرنے پر مجبور کر دیا اور یوں عِلْم کے سَبَب انہوں نے یقین کی حقیقت کا اِحاطہ کر لیا۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت سَیِّدُنا خَوَّاص رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ نے اِرشَاد فرمایا کہ خواص [1] کا دوسروں کی خاطِر اَسباب اِخْتِیار کرنا ان پر دوسروں کے اَحْوَال وارِد کرتا ہے اور یوں انہیں ان کا رِزْق پہنچانے والا بنا دیا جاتا ہے، لہٰذا وہ ان کی خاطِر اَسباب میں تَصَرُّف کرنے لگتے ہیں حالانکہ وہ ان اَسباب سے کوئی تعلّق نہیں رکھتے۔
حضرت سَیِّدُنا جنید بغدادی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْہَادِی کے شیخ حضرت سَیِّدُنا ابو جعفر حدّاد عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْجَوَّاد کا شُمار بھی مُتَوکِّلین میں ہوتا ہے، آپ رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں :میں نے 20 سال تک اپنا تَوَکُّل چھپائے رکھا اور بازار سے بھی جُدا نہ ہوا، میں روزانہ ایک دینار یا 10دِرْہَم کماتا مگر رات ایک دانِق (یعنی دِرْہَم کے چھٹے حصّہ)کے ساتھ بَسَر کرتا نہ قِیراط [2] سے راحَت پاتا، بلکہ اتنا بھی نہ بچتا کہ حَمّام چلا جاتا اور رات ہونے سے پہلے پہلے سب کچھ خود سے جُدا کر دیتا۔
شیخ کی مَوجُودَگی میں کلام کرنا
حضرت سَیِّدُنا جنید بغدادی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْہَادِی اپنے شیخ حضرت سَیِّدُنا ابو جعفر حدّاد عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْجَوَّاد کی مَوجُودَگی میں تَوَکُّل کے بارے میں کوئی کلام نہ کیا کرتے تھے، بلکہ اِرشَاد فرماتے :مجھے اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے حَیا آتی ہے کہ میں ان (یعنی اپنے شیخ سَیِّدُنا ابو جعفر حدّاد عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْجَوَّاد) کی مَوجُودَگی میں تَوَکُّل کے مُتَعَلّق کلام کروں۔
[1]………خَواص اصل میں خاص کی جَمْع ہے ، چنانچہ اُردو لُغَت میں ہے کہ خَواص سے مُراد وہ لوگ ہیں جنہیں عِلْم و فَضْل یا اَثَر و اِقْتِدار وغیرہ کی بنا پر عام لوگوں سے اِمْتِیَازحاصِل ہو ، خاص لوگ یا بندے (جو عوام سے ممتاز ہوں )۔ (اردو لغت ، ۸/ ۷۳۶)
[2]………عمومًا دینار کے بیسویں حصّے کو قیراط کہا جاتا ہے مگر شام والے چالیسویں حصّے کو ، بعض اور علاقوں میں دینار کے چھٹے حصّے کو قیراط کہتے ہیں ۔ (مرآة المناجیح ، ۲/ ۴۶۸)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع