30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اسی شخص کے لیے جائز ہے جو اپنے پروردگار پر بھروسا کر کے بیٹھ رہے اور اس کے کَرَم کو دیکھتا رہے، بلکہ ایسے شخص کے لیے تَوَکُّل اَفضل ہے جو اپنے تَوَکُّل میں دُرُسْت ہو یعنی اس کا دِل مَخلوق کی یاد سے خالی اور خالِق کی یاد میں مَشْغُول ہو، یہ قُرْبِ خداوندی کے حُصُول کا (بڑا آسان) راستہ ہے اور اس راستے پر چلنے والا ہی مُقرَّب کہلاتا ہے۔
البتہ!جو شخص (بَظَاہَر تَوَکُّل کا دامَن تھام کر)کَسْب کو چھوڑ دے لیکن
٭…مَخلوق کے مال میں طَمَع رکھے ٭…نَفْس کی آسُودَگی چاہے
٭…لوگوں سے مانگنا پسند کرے اور ٭…نفسانی خواہش کی پَیروی کرے
تو ایسا شخص تَوَکُّل کے راستے پر نہیں بلکہ وہ جس راستے پر چل رہا ہے وہ راستہ اسے مَنْزِل سے قریب لے جائے گا نہ اس سے دُور، اس لیے کہ وہ شخص راہِ حَق پر ثابِت قَدَم رکھنے والے اُصولوں اور قوانین کی خِلاف وَرْزِی کرنے والا ہے۔
کما کر کھانا مانگنے سے بہتر ہے
مَرْوِی ہے کہ حُضور نبی پاک، صاحبِ لَوْلاک صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِرشَاد فرمایا: تم میں سے کسی کا اپنا کلہاڑا اور رسی لے کر لکڑیاں کاٹنے کے لیے پہاڑ پر جانا تاکہ کچھ (کما کر) کھائے اور صَدَقَہ بھی کرے اس شخص سے بہتر ہے جو لوگوں کے سامنے دستِ سوال دراز کرے اور وہ چاہے اسے کچھ دیں یا نہ دیں۔ [1]
ایک رِوایَت میں ہے کہ دو۲ جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَر صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِرشَاد فرمایا:
لوگوں سے مُسْتَغْنِیہو جاؤ، خواہ مِسْوَاک چَبا کر ہی ہو۔ [2]
سرورِ کائنات ، فَخْرِ مَوجُودات صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے:جو شخص مجھے ایک وَصْف کی ضَمَانَت دے میں اسے جنّت کی ضَمَانَت دیتا ہوں، (اور وہ وَصْف یہ ہے کہ) وہ لوگوں کے سامنے دَسْتِ سوال دراز نہ کرے۔ [3]
ہمارے ایک عالِم فرماتے ہیں کہ جو شخص کَسْب کو پسند نہ کرے تو گویا اس نے سُنّت پر طَعْن کیا اور جو کچھ کمانے کے بجائے ویسے ہی بیٹھ جائے تو گویا اس نے توحید پر اِعْتِراض کیا۔
مزید فرماتے ہیں کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اپنے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو لوگوں کے پاس بھیجا تو اس وَقْت بھی آج کی طرح کئی قِسْم کے لوگ تھے:٭۔۔۔۔۔ ان میں سے بعض تاجِر تھے تو بعض کاریگر اور بعض کچھ بھی نہ کرتے تھے٭۔۔۔۔۔ بعض لوگوں کے سامنے دستِ سوال دراز کرنے والے بھی تھے اور بعض ایسے بھی تھے جو لوگوں سے کچھ نہ مانگتے تھے۔
آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے کسی تاجِر کو تِجَارَت تَرْک کرنے کا حکْم اِرشَاد فرمایا نہ کسی کام کاج چھوڑ کر بیٹھ جانے والے شخص کوکمائی کرنے اور محنت مَزْدُوری کرنے کا حکْم دیا۔ بلکہ مانگنے والے کسی شخص کو دستِ سوال دراز کرنے سے بھی نہیں روکا، البتہ!آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے انہیں ان کے تمام اَحْوَال میں اِیمان و یقین کو پیشِ نظر رکھنے کی دَعْوَت دی اور ان کے تدبیر والے مُعامَلات کو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے رَحْم و کَرَم پر چھوڑ دیا۔ چنانچہ ہر ایک نے اپنے حال کے مُطابِق عَمَل کیا۔
کسی مُتَوکِّل کا قول ہے کہ جو شخص بھوک پر تین۳ دن تک صَبْر نہیں کر سکتا مجھے ڈر ہے کہ جب وہ کمائی کا کوئی ذریعہ پائے گا تو کام کاج چھوڑنے پر مزید قُدْرَت نہ رکھ پائے گا۔
مزید اِرشَاد فرماتے ہیں کہ جس نے (کَسْب کے)اَسباب کو تو خَتْم کر دیا مگر اس وجہ سے اس کا دل کمزور ہو جائے یا اس کا دل اَسباب کی عَدَم مَوجُودَگی سے زیادہ ان کی مَوجُودَگی سے راحَت پائے تو ایسے شخص کے لیے کَسْب چھوڑ کر بیٹھ جانا دُرُسْت نہیں، اس لیے کہ اس صُورَت میں وہ غَیْرُ الله کا مُنْتَظِر رہے گا۔
ایك عالِم فرماتے ہیں کہ جو شخص نو۹ دن تک فاقے کا شِکار ہو اور پھر اس کے دِل میں مَخلوق میں طَمَع کا خَیال پیدا ہو یا وہ کسی بندے کی طرف مائل ہو تو ایسے شخص کے لیے بازار (میں کمائی کرنا)مَسْجِد (میں بیٹھ کر عِبَادَت کرنے)سے اَفضل ہے۔
حضرت سَیِّدُنا ابو سلیمان دارانی قُدِّسَ سِرُّہُ النّوْرَانِی فرماتے ہیں کہ اس شخص میں کوئی خیر نہیں جو (بَظَاہِر تَوَکُّل کر کے) گھر میں بیٹھ جائے مگر اس کا دل دروازے کی دستک پر لگا رہے کہ کب کوئی کسی سَبَب سے دروازے پر دستک دے(یعنی کوئی کچھ لے کر آئے)۔
ہمارے ایک عالِم فرماتے ہیں کہ جب کسی بندے کے نزدیک سَبَب کا پایا جانا اور نہ پایا جانا یَکْسَاں حَیْثِیَّت اِخْتِیار کر جائیں۔ بلکہ سَبَب کے نہ پائے جانے پر اس کا دِل زیادہ مطمئن ہو اور یہ بات اسے اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے غافِل کرے نہ اس کی سوچوں میں اِنتشار کا باعِث بنے تو ایسے شخص کے لیے کَسْب نہ کرنا اور (اپنے رب پر تَوَکُّل کر کے) بیٹھ جانا اَفضل ہے تاکہ وہ اپنے حال میں مشغول رہے اور زادِ آخِرَت جَمْع کرتا رہے۔ اس شخص کا تَوَکُّل میں مَقام دُرُسْت ہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع