30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کَسْب اس شخص کے لیے نُقْصَان دہ نہیں جس کا تَوَکُّل دُرُسْت ہو اور اس شخص کے لیے بھی نُقْصَان دہ نہیں جسے اس کے مَقام و مرتبے سے گرائے نہ اس کے حال میں کسی قِسْم کی کمی کا باعِث بنے۔ چنانچہ،
فرمانِ باری تعالیٰ ہے:
وَ جَعَلْنَا النَّهَارَ مَعَاشًا۪(۱۱) (پ۳۰،النبا:۱۱) ترجمۂ کنز الایمان:اور دن کو روزگار کے لئے بنایا ۔
ایک مَقام پر اِرشَاد ہوتا ہے:
وَ جَعَلْنَا لَكُمْ فِیْهَا مَعَایِشَؕ-قَلِیْلًا مَّا تَشْكُرُوْنَ۠(۱۰) (پ۸،الاعراف:۱۰)
ٔ کنز الایمان:اورتمہارے لئے اس میں زِنْدَگی کے اَسباب بنائے بَہُت ہی کم شُکْر کرتے ہو ۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے پیارے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے:سب سےزیادہ پاکیزہ کھانا وہ ہے جو آدَمی اپنے ہاتھ کی کمائی اوردھوکا و خِیانَت سے پاک تِجَارَت سے کھائے۔[1]
سَلَف صالحین رَحِمَہُمُ اللہ الْمُبِین اپنے ہاتھ سے کام کرنے والے کو تاجِر سے زیادہ اور تاجِر کو بیکار اور فارِغ شخص سے زیادہ پسند کرتے تھے۔جیسا کہ حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن مَسْعُود رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں: میں یہ پسند نہیں کرتا کہ کوئی شخص فارِغ رہے،یعنی اپنے دُنْیَاوِی مُعامَلات میں مَصروف ہو نہ آخِرَت کے مُعامَلات میں مشغول ہو۔
(صَاحِبِ کِتاب اِمامِ اَجَلّ حضرت سَیِّدُنا شیخ ابُو طالِب مکّی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں)حضرت سَیِّدُنا عبداللہ بن مَسْعُود رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے یہ بات اس لیے فرمائی کہ تَوَکُّل اِیمان کی شَرْط اور اِسلام کا وَصْف ہے۔ جیسا کہ فرمانِ باری تعالیٰ ہے:
اِنْ كُنْتُمْ اٰمَنْتُمْ بِاللّٰهِ فَعَلَیْهِ تَوَكَّلُوْۤا اِنْ كُنْتُمْ مُّسْلِمِیْنَ(۸۴) (پ ۱۱، یونس:۸۴)
ترجمۂ کنز الایمان:اگر تم اللہ پر اِیمان لائے تو اسی پر بھروسا کرو اگر اِسلام رکھتے ہو۔
اس آیَتِ مُبارَکہ میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ پر اِیمان لانے اور اِسلام لانے میں تَوَکُّل کو شَرْط ٹھہرایا گیا ہے، چنانچہ اگر مُتَوکِّل کا حال یہ ہو کہ جو مُیَسَّر آئے اس میں تَصَرُّف کر لے اور اَسباب میں داخِل ہو جائے:
٭…مگر اس تَصَرُّف میں اس کی نِگاہیں مُسبِّبُ الاَسْبَاب عَزَّ وَجَلَّپر مَرْکُوز رہیں۔
٭…وہ اس پر اِعْتِماد کرتا ہو۔
٭…اس کا اپنی ہر حَرَکَت (کی تکمیل)میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ پر کامِل یقین ہو۔
٭…پروردگار اسے جس حَالَت میں رکھے، اس میں اپنے پروردگار کو ہی اپنا سَبَب جانے ۔
٭… ہر اس حَالَت میں زِنْدَگی بَسَر کرے جس میں اس کا پروردگار اسے رکھے اور اس کے لیے زِنْدَگی گزارنے کا سَبَب بنا دے۔
٭…وہ اس بات سے بھی خُوب آگاہ ہو کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اَشیا کو اپنی مَخلوق کے لیے نَفْع بخش بنایا اور انہیں اپنی حِکْمَت کے خزانے اور رِزْق کی کنجیاں قرار دیا ہے۔
٭…اسے قَلْب کی یَکْسُوئی حاصِل ہو۔ ٭… اس کی سوچیں مُنْتَشِر نہ ہوں۔
٭… وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے مَحبوب، دانائے غُیوب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی سنّتوں کی پَیروی کرنے والا اور آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے صَحابہ و بُزرگانِ دین کے نقشِ پَا پر چلنے والا ہو۔
٭…وہ عَیْش ونعمتوں سے بھرپور زِنْدَگی کو چھوڑ چکا ہو۔
جس شخص میں مذکورہ باتیں پائی جائیں وہ کَسْب و تَصَرُّف میں اس شخص سے اَفضل ہے جس کے تَوَکُّل میں کوئی خرابی آئے اور وہ اس کے پاس ہی ٹھہر جائے۔
ترکِ کسب میں آفت کے نزول کے وقت کیا کرے؟
کسی عالِم کے مُتعلّق مَرْوِی ہے کہ انہوں نے 40 سال تک کوئی کام کاج نہ کیا پھر ایک بار انہیں پاؤں سے (چکّی چَلا کر)آٹا پیستے دیکھا گیا تو عَرْض کی گئی:آپ نے تو کام کاج چھوڑ دیا تھا، اب یہ کمائی کیوں کرنے لگے؟ اِرشَاد فرمایا: اے شخص! جب ہم تَوَکُّل کی عزّت سے دُور ہوئے تو دوسروں کے پاس مَوجُود مال کی طرف دیکھنے کی ذِلَّت پر صَبْر نہ کر سکے۔
(صَاحِبِ کِتاب اِمامِ اَجَلّ حضرت سَیِّدُنا شیخ ابُو طالِب مکّی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں)ہر وہ شخص جس پر تَرْکِ کَسْب کی صُورَت میں کسی آفَت کا نُزول ہو تو اسے چاہئے کہ کوئی پیشہ اِخْتِیار کر لے مگر جو شخص مَقامِ یقین پر فائز ہو وہ اس آفَت کا ڈَٹ کر مُقابَلہ کرے اور کَسْب میں مَصروف نہ ہو۔
کسب کیوں بہتر اور توکل کس کے لیے جائز و افضل ہے؟
کَسْب مَخلوق کی جانِب دیکھنے اور ان میں طَمَع رکھنے یا مانگنے کا عادِی بن جانے سے بہتر ہے کہ کسی راستے پر چلنے والا شخص آخِر مَنْزِل تک پہنچ ہی جاتا ہے اگرچہ راستہ طویل ہی ہو۔تَوَکُّل
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع