دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Qoot ul Quloob Jild 2 | قوت القلوب جلد دوم

book_icon
قوت القلوب جلد دوم

مُراد ہے؟اِرشَاد فرمایا: اگر تجھ پر کوئی مکھی بھی گرے تو جان لینا کہ یہ میں نے گرائی ہے، لہٰذا مجھ سے ہی سوال کرنا کہ میں اسے تجھ سے دُور کروں۔ عَرْض کی: اور مَـخْفِی لُطْف سے کیا مُراد ہے؟ اِرشَادفرمایا:اگر گھن لگا ہوا لوبیا تیرے پاس آئے تو جان لینا کہ میں نے تجھے اس کے ذریعے یاد کیا ہے۔

عام مومنین کے عقائد اور ان کا طرزِ عَمَل

(صَاحِبِ کِتاب اِمامِ اَجَلّ حضرت سَیِّدُنا شیخ ابُو طالِب مکّی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں)ہم نے جو یہ ذِکْر کیا ہے کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ ہی مُعْطِی، مَانِع ، ضَارّ اور نَافِع  ہے اور وُہی خالِق و رازِق ہے کہ جیسے چاہتا ہے، جب چاہتا ہے اور جسے چاہتا ہے نوازتا ہے ، تو یہ بات عام مومنین کے عقائد و عِلْم میں ہے مگر ان میں سے بعض لوگ ایسے ہیں جو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی حِکْمَت جانتے ہیں نہ حاکِم عَزَّ  وَجَلَّکی مَعْرِفَت رکھتے ہیں بلکہ ان باتوں کو اپنی عادات کی جانِب منسوب کرنے لگتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ ان کا رِزْق انہیں ان کی عادات کے مُطابِق  ملے یا اس ذریعے سے ملے جس کو  ان کی عقلیں پسند کریں، یعنی وہ یہ پسند کرتے ہیں کہ انہیں ان کا رِزق عزّت و فخر، طُولِ اَمَل اور تکبُّر  کےساتھ ملے اور ذِلَّت  کے ساتھ، عاجِز جان کر اور ان کے فقیر و مسکین ہونے کی بنا پر نہ ملے ۔ یہ لوگ اپنے اُمُورکو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے سُپُرد کرتے ہیں نہ اس کی تدبیر و تقدیر پر راضی رہتے ہیں کہ وہ انہیں جیسے چاہے رِزْق دے اور جس کے ہاتھوں چاہے دے، لہٰذا وہ اس سلسلے میں مومنین کے اَخلاق اپنانے کے بجائے جابِر لوگوں کے اَخلاق اپنانے کو ترجیح دیتے ہیں، اس لیے کہ وہ مُشاہَدۂ یقین سے دُور ہیں اور ان پر ان کا نَفْس غالِب آچکا ہوتا ہے، یہ بات جاننے کے باوُجُود کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ ہی تمام مَخلوق اور زمین کا مالِک ہے اور اسی کے لیے حَمد و سَلْطَنَت ہے، ان کے نُفُوس اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کو چھوڑ کو دوسروں سے اپنی اُمِّیدیں باندھتے ہیں اور ان میں طَمَع رکھتے ہیں، بعض اَوقات مَضْبُوط حَقائق کی بنا پر فِطری طور پر ان میں اِضْطِرَاب پیدا ہوتا ہے مگر ان کے دل مطمئن نہیں ہوتے بلکہ مَصائب و فاقے کا شِکار ہو کر وہ مزید پریشان ہوجاتے ہیں اور اپنے خالِق کی خاطِر صَبْر اِخْتِیار نہیں کرتے، چنانچہ اَسباب دیکھتے ہیں تو  ان کی زبانوں پر مَدْح و خوشی کے تَرانے جاری ہو جاتے ہیں اور اگر کچھ نہ ملے تو مَذمَّت  و غم سے بھرپور باتیں کرتے ہیں، کیونکہ وہ غافِل ہیں اور انہیں اپنے عِلْم کا مُشاہَدہ حاصِل نہیں، جو ان کے توحید میں ناقِص ہونے اور ان کے یقین کے کمزور ہونے کی دلیل ہے۔ ان کی مَعْرِفَت سنی سنائی باتوں پر مُشْتَمِل ہوتی ہے اور وہ مُشاہَدہ کی مَعْرِفَت سے ناآشنا ہوتے ہیں۔

اہلِ یقین کا طرزِ عَمَل  

اہلِ یقین بھی عام مومنین کی طرح اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے عِلْم اور اس کی قُدْرَت کو تسلیم کرتے ہیں، اس کی حِکْمَت کے جارِی ہونے اور مَخلوق پر ثواب و عِقَاب کے اَحْکام نافِذ ہونے کی وجہ سے واسِطوں اور اَسباب کو بھی مانتے ہیں ، مگر وہ حُسْنِ یقین، قوّتِ مُشاہَدہ، صَبْر جمیل اور حقیقتِ رَضا پانے کی وجہ سے عام مومنین سے بَرتَر ہیں،مصیبتوں اور فاقوں کے نُزول کے وَقْت ان کے دِل پُرسُکُون اور نُفُوس مطمئن رہتے ہیں، وہ اِبتلا و آزمائش میں ثابِت قَدَم رہتے ہیں، اس لیے کہ انہیں مُشاہَدۂ باری تعالیٰ حاصِل ہوتا ہے اور وہ یقین رکھتے ہیں کہ وُہی جیسے چاہتا ہے مَخلوق کی تدبیر فرماتا ہے، چنانچہ وہ مَقامِ یقین پر فائز ہوجاتے ہیں اور ان کا حال تَوَکُّل اور نصیب رَضائے خداوندی  ٹھہرتا ہے، یہ لوگ مَعانی کے حقائق سے نِکَل کر ان کے عُموم میں داخِل ہو جاتے ہیں۔

عام مومنین و اہل یقین کے دَرَجات میں فرق

عام مومنین فَرْض تَوَکُّل میں اَہْلِ یقین کے ساتھ شامِل ہیں، مگر اَہْلِ یقین ان سے آگے بڑھ کر ان سے بُلَند دَرَجات حاصِل کر لیتے ہیں اور یوں وہ تَوَکُّل کی فضیلت کے باعِث بُلَند مرتبہ پر فائز ہوجاتے ہیں جبکہ عام مومنین اپنے مَقام پر ٹھہرے رہتے ہیں اور یوں اپنے یقین میں ٹھہراؤ اور اَسباب کے حِجاب میں ہونے کی وجہ سے بُلَندیوں پر فائز ہونے سے مَحْرُوم رہتے ہیں۔ جیسا کہ فرمانِ باری تعالیٰ ہے:

وَ یُؤْتِ كُلَّ ذِیْ فَضْلٍ فَضْلَهٗؕ- (پ ۱۱، ھود:۳)                      ترجمۂ کنز الایمان:اور ہر فضیلت والے کو اس کا فَضْل پہنچائے گا۔

ایک مَقام پر اِرشَادہوتا ہے:

هُمْ  دَرَجٰتٌ  عِنْدَ  اللّٰهؕ-وَ  اللّٰهُ  بَصِیْرٌۢ  بِمَا  یَعْمَلُوْنَ(۱۶۳)(پ ۴، اٰل عمران:۱۶۳)                      

ترجمۂ کنز الایمان:وہ اللہ کے یہاں دَرَجَہ دَرَجَہ ہیں اور اللہ ان کے کام دیکھتا ہے۔ 

کسی عالِم کا قول ہے کہ عام لوگوں پر اَسباب کا حِجاب پڑا ہوا ہے وہ بَس اسے ہی دیکھتے رہتے ہیں جبکہ خواص پر اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے اپنا آپ ظاہِر فرما کر اَسباب کو ان سے دُور کر دیا ہے، وہ اب اَسباب کو دیکھتےہوئے بھی نہیں دیکھ رہے ہوتے۔

یقین ظاہِر کرنے والی تین۳ چیزیں

حضرت سَیِّدُنا سَری سَقْطی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں: تین۳ چیزوں سے یقین ظاہِر ہوتا ہے:

(1 ) ۔۔۔۔مَقاماتِ ہَلاکَت میں حَق پر قائم رہنے سے ۔

(2 ) ۔۔۔۔نُزولِ آزمائش کے وَقْت اَحْکامِ الٰہی کو تسلیم کرنے سے۔

(3 ) ۔۔۔۔زَوالِ نِعْمَت کے وَقْت قَضائے الٰہی پر راضی رہنے سے۔

اِیمان کامِل کرنے والی تین۳ باتیں

حضرت سَیِّدُنا یُوسُف بن اَسباط رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں: مَنْقُول ہے جس میں تین۳ باتیں ہوں اس کا اِیمان کامِل ہوتا ہے:

(1 ) ۔۔۔۔جب راضی ہو تو اس کی رَضا مندی اسے باطِل کی طرف نہ لے جائے۔

(2 ) ۔۔۔۔جب غَضَب ناک ہو تو اس کا غَضَب اسے حَق سے رُوگردانی کی طرف نہ لے جائے۔

(3 ) ۔۔۔۔جب کسی شے پر قادِر ہو تو وہ شے نہ لے جو اس کی نہیں۔

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن