دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Qoot ul Quloob Jild 2 | قوت القلوب جلد دوم

book_icon
قوت القلوب جلد دوم

اللہ کے سوا ہر شے باطِل ہے

لَبِید نے اپنے شِعْر میں اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے سِوا ہر شے کی نفی کچھ یوں کی:

اَلَا کُلُّ شَیْءٍ مَا خَلَا اللّٰهَ بَاطِلُ                                               ترجمہ:جان لو!اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے سِوا ہر چیز فناہونے والی ہے۔

اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے پیارے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے جب  یہ شِعْر پڑھا تو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اس کی تصدیق فرمائی۔ ایک رِوایَت میں ہے کہ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِرشَاد فرمایا: شاعِر کی یہ بات سب سے سچی ہے: اَلَا کُلُّ شَیْءٍ مَّا خَلَا اللّٰهَ بَاطِلُ۔حالانکہ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو معلوم تھا کہ اَشیا میں واسطے اور اَسباب حَق اور سچ ہیں، پھر بھی آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے مذکورہ فرمان کے باوُجُود اَسباب کو اِخْتِیار کرنے سے مَنْع نہ فرمایا، تاکہ توحید کو ترجیح دی جائے اور مُتَوحِّد کی توحید کا اِظْہَار ہو سکے۔ حالانکہ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا زمانہ انبیا و رُسُل کو جھٹلانے اور آسمانی کتابوں کو نہ ماننے کے قریب کا دَور تھا، جب اَشیا کو ان کے مَعْدُوم ہونے کے بعد وُجُود کی دولت ملی اور وُجُود پانے کے بعد پھر ایک وَقْت ایسا آئے گا کہ وہ مَعْدُوم ہو جائیں گی تو گویا یہ اَشیا اس باطِل کے مُشَابِہ ہیں جس کی اِبْتِدَا میں کوئی حقیقت تھی نہ اِخْتِتام میں اس کا کوئی نِشان ہو گا۔ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ ہی اَوّل و آخِر اور اَزَلی و اَبَدِی ہے، وہی حَق ہے اور اس کے سِوا کوئی بھی اس جیسا نہیں۔ 

اسباب کا مسبب کے مقابل ہونا

جب اَسباب واسِطہ ہونے کے اِعْتِبَار سے مُسَبِّبُ الاَسْبَاب عَزَّ  وَجَلَّکے مُقابِل ہوں تو ان کی مِثال یوں دی جاسکتی ہے کہ قرآن میں اللہ عَزَّ  وَجَلَّ یوں فرماتا ہے، حالانکہ آپ اس کے بعد حضرت سَیِّدُنا نُوح عَلَیْہِ السَّلَام کا قول ذِکْر کریں یا حضرت سَیِّدُنا یُوسُف عَلَیْہِ السَّلَام کا یا کسی اور نبی کا۔ دونوں باتیں دُرُسْت ہیں۔ چنانچہ جب آپ یہ کہتے ہیں کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے اِرشَادفرمایا تو اس سے مُراد یہ ہو گی کہ اس نے یہ بات سب سے پہلے کہی، وہ اپنے اَوصَاف کے اِعْتِبَار سے یہ بات کہنے والا اور اپنے عِلْم کی خَبَر دینے والا ہے، اس کا کلام وَقْت کے ساتھ خاص ہے نہ کسی جگہ میں مَحْدُود و حادِث۔ لیکن اگر آپ یہ کہتے ہیں کہ ”حضرت سَیِّدُنا صَالِح عَلَیْہِ السَّلَام نے اِرشَاد فرمایا“ یا کہتے ہیں کہ ”حضرت سَیِّدُنا شعیب عَلَیْہِ السَّلَام نے یہ اِرشَاد فرمایا“ تو اس سے مُراد یہ ہو گی کہ یہ حَضْرات اس بات کو دوسری بار کرنے کا واسِطہ بنے ہیں اور ان کا یہ کلام حُدُوثِ اَوقات و ظُہُورِ اَسباب کی وجہ سے ہے، اسی طرح واسطوں کے مُعَامَلہ میں اَسباب کی بھی حَیْثِیَّت ہے ، یعنی یہ ثَانَوِی حَیْثِیَّت کے حامِل ہیں جبکہ اَوّل و مُبْدِی اللہ عَزَّ  وَجَلَّ ہی ہے۔

صفاتِ باری تعالیٰ میں شِرک کاشُبہ

یہی وجہ ہے کہ بِدْعَتی لوگوں پر ایک شُبہ وارِد ہوا (کہ وہ اپنی جَہَالَت کے باعِث صِفاتِ باری تعالیٰ میں شِرک کر بیٹھے)۔ چنانچہ وہ کہنے لگے کہ قرآن بھی مَخلوق ہے۔وہ اس شُبہ میں مبتلا نہ ہوتے مگر انہوں نے احکم الحاکمین اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے قول سے قبل مَخلوق کا قول تسلیم کیا اور ثابِت کیا کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے قول سے پہلے  قِیْلاً  یعنی مَنْقُول ہے،مَحْذُوف ہے۔ (ایسا انہوں نے اس لیے کیا)کیونکہ وہ کلام کے قدیم ہونے کونہ مانتے تھے، لہٰذا وہ اپنی جَہَالَت کے باعِث جس بات سے بھاگ رہے تھے اس سے بھی بڑی مصیبت کا شِکار ہو گئے، کیونکہ وہ اپنے گمان کے مُطابِق اس بات سے بھاگ رہے تھے کہ کہیں وہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے قدیم ہونے کے ساتھ ساتھ کسی اور کو بھی قدیم نہ مان لیں، مگر وہ اپنے زُعْمِ باطِل کی وجہ سے اس مصیبت کا شِکار ہو گئے کہ انہوں نے پہلے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے کلام کاحادِث ہونا ثابِت کیا ،پھر اس کے قدیم ہونے کو حادِث قرار دیدیا۔ حالانکہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ ان باتوں سے بُلَند و بَرتَر ہے جو ظالِم و مُلْحِد لوگ اس کے اَسْمائے حسنیٰ و صِفاتِ حَمیدہ کے مُتَعَلِّق کرتے ہیں اور صُبْح و شام اسی کی پاکیزگی ہے۔ وہ لوگ اپنی جَہَالَت کے باعِث یہ نہ جان پائے کہ ان کا قول اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے قول کے بعد ہے، گویا ان کا قول اس کے قول سے پیدا ہوا اور وُہی اس قول میں اوّل ہے اس اِعْتِبَار سے کہ وُہی عِلم و قِدَم میں اَوّل ہے اور یہ لوگ اس قول میں ثانَوِی حَیْثِیَّت رکھتے ہیں اس لِـحَاظ سے کہ ان کے اَفعال حادِث ہیں۔

اَسمائے باری تعالیٰ میں شِرک کا شُبہ

یقین کی کمزوری کے باعِث غافلین بھی شُبہ کا شِکار ہو گئے، اس لیے کہ انہوں نے رِزْق دینے اور نہ دینے والوں کو فعل میں اوّل سمجھ لیا، اس طرح کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے ان لوگوں کے ہاتھ میں انہیں رِزْق دینے یا نہ دینے کے حکْم کو ظاہِر فرمایا تو وہ انہیں ہی مُعْطِی و مَانِع سمجھنے لگے، کیونکہ (وہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کو واحِد و یکتا ماننے میں دَرَجَۂ کَمال پر فائز نہ تھے بلکہ) ان کی توحید میں کمی تھی، لہٰذا انہوں نے اَسْمائے باری تعالیٰ میں شِرک کیا جیسا کہ پہلے بیان ہوا ہے کہ بدعتی لوگوں نے صِفاتِ باری تعالیٰ میں شِرک کیا کہ وہ علمِ باری تعالیٰ کے اَزَلی ہونے کا مُشاہَدہ نہ کر سکے جیسا کہ کجی والے لوگ وَحْدَتِ باری تعالیٰ کی حقیقت کا مُشاہَدہ نہ کر سکے، مگر یاد رکھئے جن کے دِلوں میں کجی اور کھوٹ ہے ان کا شِرک ایک ایسی گمراہی ہے جو انہیں مِلَّت سے خارِج کر دیتی ہے ، یعنی یہ شِرکِ جَلی ہے جبکہ کمزور یقین والوں کا شِرک مِلَّت سے غَفْلَت اور جَہَالَت کا باعِث ہے ،کیونکہ یہ شِرکِ خَفی ہے۔

ایک حِکایَت میں ہے کہ ایک عالِمِ ربّانی قُدِّسَ  سِرُّہُ النّوْرَانِی  نے کسی شخص کے پیچھے نماز پڑھی، جب اِمام نے فَراغَت کے بعد انہیں نا مُناسِب لِباس میں دیکھا تو پوچھا: حضرت!کھانا کہاں سے کھاتے ہیں؟ اِرشَادفرمایا: ٹھہرو! پہلے میں نے جو نماز تمہارے پیچھے ادا کی ہے اسے دوبارہ پڑھ لوں، پھر تمہیں جواب دوں گا (کہ میں کہاں سے کھاتا ہوں)۔

اسی مَفہوم میں ایک واقعہ یہ مَنْقُول ہے کہ ایک شخص مَسْجِد میں اِعتِکاف بیٹھ گیا، اس کا کوئی ذریعہ مَعاش بھی نہ تھا تو اس سے مَسْجِد میں نَماز پڑھانے والے اِمام صَاحِب نے کہا:اگر تو کچھ کمائی کر کے زِنْدَگی گزارے تو یہ تیرے لیے زیادہ بہتر ہے۔ مگر اس شخص نے کوئی جواب نہ دیا، دوسرے وَقْت میں اِمام صَاحِب نے دوبارہ اس سے یہی بات کہی تو وہ شخص بولا: مَسْجِد کے پڑوس میں رہنے والے ایک یہودی نے مجھے روزانہ دو۲ روٹیاں دینے کی ضَمَانَت دی ہے ، مجھے وُہی کافی ہیں اس لیے مجھے کام کاج کی حاجَت نہیں۔ اِمام مَسْجِد بولے: اگر وہ اپنی ضَمَانَت میں سچا ہے تو تیرا مَسْجِد میں اِعتِکاف کرنا تیرے لیے اچھّا ہے۔ اس پر وہ شخص بولا:جناب! اگر آپ مسلمانوں کے اِمام نہ ہوتے کہ جو ان کے اور اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے درمیان واسِطہ ہے تو یہ آپ کے لیے زیادہ بہتر تھا۔ اس لیے کہ آپ اپنی توحید میں کامِل نہیں۔

فطانت کا لطف اور مخفی لطف

اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے اپنے ایک صِدّیق کو اِلْہَام فرمایا:میری خاطِر فَطَانَت کا اور مَـخْفِی لُطْف اِخْتِیار کر، کیونکہ میں اسے پسند کرتا ہوں۔ عَرْض کی: اے میرے رب! فَطَانَت کے لُطْف سے کیا

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن