30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مَرْوِی ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے پیارے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ایک شخص کو کھجور دیتے ہوئے اِرشَاد فرمایا: اسے لے لو، اگر تم اس کے پاس نہ آتے تو یہ تمہارے پاس آجاتی۔ [1] اس سے بھی معلوم ہوا کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے مَحبوب، دانائے غُیوب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے یہ اِرشَاد نہ فرمایا کہ یہ کھجور لے کر کوئی شخص تمہارے پاس آجاتا۔ اس لیے کہ اس کے تذکرے کی کوئی حاجَت نہ تھی۔
اسی طرح جب ایک شخص نے (توبہ کرتے ہوئے)یہ کہا کہ میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ میں توبہ کرتا ہوں نہ کہ حضرت محمد صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ میں۔[2] تو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِرشَادفرمایا:
اس نے حَقدار کا حَق پہچان لیا۔[3]
اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اَسباب کا ذِکْر فرمایا تاکہ اَسْما کا تعلّق ان کے ساتھ قائم ہو اور ان اَسْما پر ثواب و عِقَاب کے اَحْکام نافِذ ہوں، یہ مُناسِب نہ تھا کہ ان کا تذکرہ نہ کیا جاتا، ورنہ اَحْکام اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی جانِب لوٹتے حالانکہ وُہی ہر شے کو پیدا کرنے والا اور ہر شے پر موت وارِد ہونے کے بعد اسے دوبارہ زندہ کرنے والا ہے۔ (لہٰذا یاد رکھئے) حاکِم حکْم دیتا ہے اور مَحْکُوم پر اس کے اَحْکام نافِذ ہوتے ہیں ، یہی وہ سَبَب ہے جو مُردوں اور زندوں کے مَقام و مرتبہ کو ظاہِر کرتا ہے تاکہ کوئی یہ نہ سمجھ بیٹھے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ حاکِم کے بجائے مَحْکُوم ہے اور نہ کوئی یہ سمجھے کہ وہ آمِر (حکْم دینے والے)کے بجائے مَامُور (حکْم بجا لانے والا)ہے۔
(صَاحِبِ کِتاب اِمامِ اَجَلّ حضرت سَیِّدُنا شیخ ابُو طالِب مکّی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں) معلوم ہوا اَحْکام مَحْکُوم ومَامُور پر نافِذ ہوتے ہیں۔چنانچہ فرمانِ باری تعالیٰ ہے:
مَا عِنْدَكُمْ یَنْفَدُ وَ مَا عِنْدَ اللّٰهِ بَاقٍؕ-(پ ۱۴، النحل:۹۶)
ترجمۂ کنز الایمان:جو تمہارے پاس ہے ہو چکے گا اور جو اللہ کے پاس ہے ہمیشہ رہنے والا ہے۔
معلوم ہوا سب کچھ اس کے پاس اور اس کے خزانے میں ہے، البتہ! اس نے دنیا کی نِسْبَت ہماری طرف کر دی تاکہ ہم پر اَحْکام نافِذ ہوں اور ہم اس سے بے رَغْبَت ہو جائیں، جبکہ آخِرَت کی خُصُوصِیَّت اور فضیلت کی وجہ سے اس کی نِسْبَت اپنی جانِب کی تاکہ ہم اس میں رَغْبَت رکھیں۔
حضرت سَیِّدُنا عیسیٰعَلَیْہِ السَّلَام کی خَبَر دیتے ہوئے اِرشَاد فرمایا:
وَ اِذْ تَخْلُقُ مِنَ الطِّیْنِ (پ ۷، المآئدة:۱۱۰) ترجمۂ کنز الایمان:اور جب تو مِٹّی سے مُورَت بناتا۔
ایک مَقام پر اِرشَادفرمایا:
وَّ ارْزُقُوْهُمْ فِیْهَا (پ ۴، النسآء:۵) ترجمۂ کنز الایمان:اور انہیں اس میں سے کھِلاؤ۔
پہلی آیَتِ مُبارَکہ میں بندے کو خالِق کہا گیا کیونکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس کے ہاتھ پر تخلیق کا فعل جارِی کرتا ہے اور دوسری آیَتِ مُبارَکہ میں انہیں رِزْق دینے والا کہا گیا ہے کیونکہ بندوں کے ہاتھ پر ان کے گھر والوں کا رِزْق جارِی ہوتا ہے۔ چنانچہ (صَاحِبِ کِتاب اِمامِ اَجَلّ حضرت سَیِّدُنا شیخ ابُو طالِب مکّی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں) میرے نزدیک یہ بات ایسے ہی ہے جیسا کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا حضرت سَیِّدَتُنا مریم رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہاسے یہ اِرشَاد فرمانا ہے:( وَ هُزِّیْۤ اِلَیْكِ بِجِذْعِ النَّخْلَةِ تُسٰقِطْ عَلَیْكِ رُطَبًا جَنِیًّا٘(۲۵) (پ ۱۶، مریم:۲۵) ترجمۂ کنز الایمان:اور کھجور کی جَڑ پکڑ کر اپنی طرف ہِلا تجھ پر تازِی پکّی کھجوریں گریں گی۔ )حالانکہ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہا جانتی تھیں کہ محض ان کے ہِلانے سے کھجوریں نہ گریں گی اور نہ ان کا دَرَخْت کو ہِلانا کچھ اَثَر رکھے گا، مگر اللہ عَزَّ وَجَلَّ چونکہ ان کی کَرَامَت کا اِظْہَار چاہتا تھا لہٰذا اس نے ان کے ہاتھ کو آلہ بنا دیا۔
پانی کے دونوں چشمے کیسے پھوٹے؟
اسی کی مِثل فرمانِ باری تعالیٰ ہے:
اُرْكُضْ بِرِجْلِكَۚ-هٰذَا مُغْتَسَلٌۢ بَارِدٌ وَّ شَرَابٌ(۴۲)(پ ۲۳، ص:۴۲)
ترجمۂ کنز الایمان:ہم نے فرمایا زمین پر اپنا پاؤں مار یہ ہے ٹھنڈا چشمہ نہانے اور پینے کو۔
چنانچہ دو۲ چشمے پھوٹے، ان میں سے ایک سے حضرت سَیِّدُنا یعقوب عَلَیْہِ السَّلَام نے پانی پیا اور دوسرے سے غُسْل فرمایا، مگر ان دونوں چشموں کو ظاہِر کرنے میں آپ عَلَیْہِ السَّلَام کے پاؤں مُبَارَک کا عَمَل دخل نہ تھا۔
[1]………صحیح ابن حبان ، کتاب الزکاة ، باب ما جاء في الحرص وما يتعلق به ، ۵/ ۹۸ ، حدیث: ۳۲۲۹
[2]………بَظاہِر اس رِوایَت سے یہ بات سمجھ میں آرہی ہے کہ توبہ صِرف بارگاہِ خداوندی میں کرنی چاہئے ، حالانکہ ایسا نہیں کیونکہ دیگر روایات سے بارگاہِ خداوندی کے عِلاوہ بارگاہِ رسالت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممیں بھی توبہ کرنا ثابِت ہے۔ جیسا کہ مفسرشہیر ، حکیم الامت مفتی احمدیارخان نعیمی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی مراٰۃ المناجیح ، جلد6 ، ص197پر ایک حدیث پاک کے جزاَ تُوْبُ اِلَی اللّٰهِ وَاِلٰی رَسُوْلِهٖکے تحت فرماتے ہیں : توبہ اوردوسری عِبادات میں اللہ(عَزَّ وَجَلَّ)کے ساتھ حُضور(صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم)کوراضی کرنے کی نِیَّت کرنا بالکل جائزہے۔ربّ تعالیٰ فرماتاہے: وَ اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗۤ اَحَقُّ اَنْ یُّرْضُوْهُ (پ۱۰ ، التوبة: ۶۲ ، ترجمۂ کنزالایمان: اور اللہ ورسول کاحَق زائد تھا کہ اسے راضی کرتے۔)اور فرماتا ہے: وَ مَنْ یَّخْرُ جْ مِنْۢ بَیْتِهٖ مُهَاجِرًا اِلَى اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ (پ۵ ، النسآء: ۱۰۰ ، ترجمۂ کنزالایمان: اور جو اپنے گھرسے نکلا اللہورسول کی طرف ہجرت کرتا۔)$&'); container.innerHTML = innerHTML; }
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع