30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اس آیَتِ مُبارَکہ کی تفسیر میں کسی کا قول ہے کہ یہاں زبان سے اِقرار کر کے اِیمان لانا مُراد ہے، یعنی انہیں یہ یقین نہیں کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہی تقدیر و تدبیر کا مالِک ہے، چنانچہ وہ اَسباب پر اِعْتِماد کر کے اور اَفعال کی نِسْبَت ان اَسباب کی جانِب کر کے شِرک کے مُرْتکِب ہوتے ہیں۔ حالانکہ مُخْلِصین کے نزدیک اِخْلَاص کی عَلامَت یہ ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے سِوا کوئی مَعْبُود ہے نہ کوئی اس کے سِوا مُعْطِی و مَانِع ہے اور نہ اس کے سِوا کوئی ہِدَایَت دینے والا اور گمراہ کرنے والا ہے۔
بندوں کا ہادی، ضالّ اور معطی ومانع ہونا
عارِفین کے نزدیک یہ سب ایک ہی زمانے اور ایک ہی مُشاہَدے میں ہوتا ہے کہ یہ توحید کی اِبْتِدَا ہے اگرچہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے لوگوں کو بھی ہِدَایَت دینے والا، گمراہ کرنے والا اور مُعْطِی و مَانِع بنایا ہے مگر وہ سب اس کے اِذْن اور اس کی مَشِیَّت و حکْم کے بعد یہ کام کرتے ہیں۔ جیسا کہ اس کا فرمانِ عالیشان ہے:
اَحْسَنُ الْخٰلِقِیْنَؕ(۱۴) (پ ۱۸، المؤمنون: ۱۴) ترجمۂ کنز الایمان:سب سے بہتر بنانے والا ہے۔
ایک مَقام پر ہے:
وَّ هُوَ خَیْرُ الرّٰزِقِیْنَ(۷۲) (پ ۱۸، المؤمنون: ۷۲) ترجمۂ کنز الایمان:سب سے بہتر روزی دینے والا۔
اس لیے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے ہی انہیں اور ان کی تخلیق کو پیدا کیا، انہیں اور ان کے رِزْق کو رِزْق دیا، انہیں ہِدَایَت دی اور انہیں ہِدَایَت کا ذریعہ بنایا، انہیں گمراہ کیا اور دوسروں کی گمراہی کا سَبَب بنایا، اَلْغَرَضْ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی ہِدَایَت پاکر یہ لوگ ہِدَایَت پانے والوں میں شُمار ہوئے اور اس کے انہیں گمراہ کرنے کے اِرادے کے بعد یہ گمراہ ہوئے جیسا کہ اس کے پیدا کرنے سے پیدا ہوئے اور اس کے رِزْق دینے سے رِزْق دئیے گئے، ایسا کیوں نہ ہو کہ گزَشْتَہ آیَتِ مُبارَکہ کی تفسیر میں بات بیان ہو چکی ہے۔ چنانچہ پیدا کرنے کے مُتعلّق ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
وَ اِذْ تَخْلُقُ مِنَ الطِّیْنِ كَهَیْــٴَـةِ الطَّیْرِ بِاِذْنِیْ (پ ۷، المآئدة:۱۱۰)
ترجمۂ کنز الایمان:اور جب تو مِٹّی سے پرند كی سی مُوْرَت میرے حکْم سے بناتا۔
ہِدَایَت دینے کے مُتعلّق فرمانِ باری تعالیٰ ہے:
لَوْ هَدٰىنَا اللّٰهُ لَهَدَیْنٰكُمْؕ- (پ ۱۳، ابراھیم:۲۱) ترجمۂ کنز الایمان:اللہہمیں ہِدَایَت کرتا تو ہم تمہیں کرتے۔
گمراہ کرنے کے مُتعلِّق فرمانِ باری تعالیٰ ہے:
فَاَغْوَیْنٰكُمْ اِنَّا كُنَّا غٰوِیْنَ(۳۲) (پ ۲۳، الصّٰفّٰت: ۳۲) ترجمۂ کنز الایمان:تو ہم نے تمہیں گمراہ کیاکہ ہم خود گمراہ تھے۔
اَلْغَرَضْ مذکورہ باتوں کے مُشاہَدہ سے بندہ شِرکِ خَفی سے دور ہو جاتا ہے اور یہ بات اس کے اس قول کی حقیقت ظاہِر کرتی ہے جو اس نے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رَبُوبِیَّت کی تصدیق کرتے ہوئے کہی:
لَا اِلٰـهَ اِلَّا الله وَحْدَہُ لَا شَرِیْكَ لَهُ ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْـئٍ قَدِیْرٌ
لَا اِلٰـهَ اِلَّا الله ۔ یعنی جس نے دِل سے اسے اپنا مَعْبُودِ حقیقی مان کر یہ کہاکہ وَحْدَہُ لَا شَرِیْكَ لَهُ وہ یکتا ہے اس کا کوئی شریک نہیں،وہ اپنی قُدْرَت و وَحْدَت میں اکیلا ہے، مَخلوق میں سے کوئی بھی اس کی سَلْطَنَت میں اس کا شریک نہیں۔ پھر اپنے قول کو مزید پختہ کرنے کے لیے یہ کہا: لَهُ الْمُلْكُ یعنی جو کچھ اس نے پیدا فرمایا ہے وہ سب کچھ اسی کا ہے، لَهُ الْحَمْدُ یعنی وہ دے یا نہ دے ہر صُورَت میں حَمد اسی کے لیے ہے، وُہی ہر قِسْم کی حَمد کا مُسْتَحِقہے، اس کے عِلاوہ کوئی بھی حَمد کا حَق نہیں رکھتا، وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ۔یعنی وہ تخلیق اور اپنی مَخلوق کے ہر مُعَامَلے پر قُدْرَت رکھتا ہے، لہٰذا قُدْرَت و تخلیق کا مُکَمَّل طور پر مالِک وُہی ہے،وُہی ہے جو اپنی مَخلوق میں جو چاہتا ہے جیسا چاہتا ہے فیصلہ فرماتا ہے۔
واسطوں کی مِثال ایسی ہے جیسا کہ کسی کاریگر کے ہاتھ میں کوئی آلہ و اَوزار ہو۔ کیا آپ نہیں دیکھتے کہ کبھی یہ نہیں کہا جاتا کہ موچی کے چمڑا کاٹنے والے اَوزار (رانپی) نے جُوتا بنایا نہ یہ کہا جاتا ہے کہ کَوڑے نے بندے کو مارا بلکہ یہ کہا جاتا ہے کہ موچی نے جوتا بنایا اور فلاں نے کوڑے کے ساتھ بندے کو مارا۔ اگرچہ یہ دونوں چیزیں فعل کے واقِع ہونے کا واسِطہ ضَرور ہیں مگر یہ صانِع کے ہاتھ میں ایک آلے اور اَوزار کی حَیْثِیَّت رکھتی ہیں۔ اسی طرح مَخلوق بھی ظاہِری چیزوں میں ان اَسباب کو اِخْتِیار کرتی ہے مگر حقیقت یہ ہے:
وَّ اللّٰهُ مِنْ وَّرَآىٕهِمْ مُّحِیْطٌۚ(۲۰)(پ ۳۰، البروج:۲۰)
ترجمۂ کنز الایمان:اور اللہ ان کے پیچھے سے انہیں گھیرے ہوئے ہے۔
یعنی وہی ہر شے پر قُدْرَت رکھتا ہے اور اپنی مَـخْفِی قُدْرَت و مَشِیَّت سے یہ اَفعال سَر اَنْجَام دیتا ہے، کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ لوگ کہتے ہیں کہ حاکِم نے مجھے یہ دیا، اس نے مجھ کو یہ خِلْعَت بخشی۔ اگرچہ حاکِم نے اسے اپنے ہاتھ سے یہ اَشیا نہ دی ہوں (بلکہ اس کے خادِم نے دی ہوں، پھر بھی وہ یہی کہتا ہے کہ حاکِم نے دیں)۔ مگر یہ کہنا دُرُسْت نہ ہو گا کہ حاکِم کے خادِم نے مجھے یہ سب دیا ہے کیونکہ فعل اس کے ہاتھ سے واقِع ہوا اور عَطا کا براہِ راست تعلّق بھی اسی سے تھا، اس لیے کہ یہ بات معلوم ہے کہ خادِم کسی شے کا مالِک ہوتا ہے نہ حاکِم کی مِلْکِیَّت میں اس کی اِجازَت کے بغیر کسی قِسْم کا تَصَرُّف کر سکتا ہے۔ البتہ! یہ ہو سکتا ہے کہ بندے سے جب یہ پوچھا جائے کہ اسے حاکِم نے کس کے ذریعے نوازا ہے؟ یا کس کے ہاتھ یہ چیزیں بھیجی ہیں؟ تا کہ پوچھنے والا جان سکے کہ کونسا خادِم یہ لے کر آیا ،تو اس صُورَت میں یہ جائز ہے کہ کہا جائے کہ فُلاں خادِم کے ہاتھ یہ چیزیں بھیجی گئی ہیں۔ رہی یہ صُورَت کہ مَحْض حاکِم کی عَطا و بَـخْشِشْ کا اِظْہَار مَقْصُود ہو تو بِن کسی کے پوچھے ہی یہ کہہ دے کہ حاکِم نے مجھے اپنے فلاں خادِم کے ذریعے نوازا ہے۔ تو یہ کلام بھی لَغْو ہے اور حاکِم کا نام لینے کے بعد خادِم کا نام لینے کی حاجَت باقی نہ رہی۔ اس لیے کہ مَقْصُود حاکِم کی عَطا کا اِظہار ہے، لہٰذا خادِم کا تذکرہ کرنے کا کوئی فائدہ نہیں کہ جو اس عَطا و بَـخْشِشْ کا سَبَب بنا۔ چنانچہ،
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع