30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
فرماتا ہے اور فرشتہ ویسے ہی بنا دیتا ہے۔[1]
ایک رِوایَت میں ہے کہ فرشتہ صُورَت بناتاہےپھر اس میں سَعَادَت یا شَقَاوَت کی رُوح پھونک دیتا ہے۔[2] ایک قول کے مُطابِق جس فرشتے کو رُوح کہا جاتا ہے وہی اَجْسَام میں رُوْح ڈالتا ہے۔ مَنْقُول ہے کہ یہ فرشتہ اپنے مَخْصُوص انداز پر سانس لیتا ہے تو اس کا ہر سانس رُوْح بن کر جِسْم میں داخِل ہو جاتا ہے،اسی وجہ سے اس کا نام رُوْح ہوگیا۔
زِنْدَگی کے چار۴ واسطے
اس طرح بندے کی پیدائش میں چار۴ واسطے کارفرما ہوتے ہیں جو کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی حِکْمَت کی حَد ہیں۔ ان میں سے دو۲ واسطے ظاہِری ہیں یعنی بندے کے ماں باپ اور دو۲ واسطے باطِنی ہیں یعنی عورت کے رِحْم پر مُقَرَّر فَرِشتہ اور رُوْح پھونکنے والا فرشتہ۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اپنے اَوصَاف بیان کرتے ہوئے اِرشَاد فرمایا:
الْبَارِئُ الْمُصَوِّرُ (پ ۲۸، الحشر:۲۴) ترجمۂ کنز الایمان:پیدا کرنے والا ہر ایک کو صورت دینے والا۔
جیسا کہ اپنے مُتَعَلِّق اس سے پہلے اِرشَادفرمایا کہ وہ الْخَالِقُ ہے۔ پھر ایک مَقام پر اِرشَادفرمایا:
خَلَقَ الْمَوْتَ وَ الْحَیٰوةَ (پ ۲۹، الملك:۲) ترجمۂ کنز الایمان:جس نے موت اور زِنْدَگی پیدا كی۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے جس طرح زندوں كے لیے واسطے بنائے اسی طرح موت كے لیے بھی حضرت سَیِّدُنا اِسرافیل عَلَیْہِ السَّلَام کو واسطہ بنایا ہے جو کہ صَاحِبِ صُور بھی ہیں،جب وہ اس میں دوسری بار پھونکیں گے تو ہر مَرا ہوا زندہ ہو جائے گا، اس کے بعد اللہ عَزَّ وَجَلَّ اسے اُٹھائے گا، جیسا کہ اس کا فرمانِ عالیشان ہے:
وَ یَوْمَ یُنْفَخُ فِی الصُّوْرِ (پ ۲۰، النمل:۸۷) ترجمۂ کنز الایمان:اور جس دن پھونکا جائے گا صور۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اپنے اَوصَاف بیان کرتے ہوئے اِرشَاد فرمایا کہ وہی ”اَلْـمُحْیِیْ“یعنی زندہ کرنے والا اور وہی اور”اَلْـمُمِیْتُ“یعنی موت دینے والا ہے۔ (پھر اس نے اپنے ان اَفعال کا واسطہ دو۲ فَرِشتوں کو بنا دیا)جیساکہ حدیث پاک میں ہے:زِنْدَگی اورموت کےفَرِشے میں مُناظَرہ ہوا، موت کے فرشتے نے کہا:میں زندہ کو موت دیتا ہوں۔زِنْدَگی کے فرشتے نے کہا:میں ہر مُردہ کو زندہ کرتا ہوں۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے ان دونوں سے فرمایا :تم دونوں اپنا کام کرتے رہو، میں نے تم دونوں کو اس کام کا پابند کردیا ہے،اس لیے کہ زِنْدَگی اور موت دینے والا میں ہی ہوں اور میرے عِلاوہ کوئی زندہ کرنے والا ہے نہ کوئی موت دینے والا۔
اسی طرح مَنْقُول ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اِرشَادفرمایا:میں خود اپنی ذات پر رہنمائی کرنے والا ہوں کہ مجھ سے بڑھ کر میری ذات کی رہنمائی کرنے والا کوئی نہیں۔
واسطوں کا پایاجانا اس بات کے مانِع نہیں کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہی ہر شے میں اَوّل ہو اور ہر شے کا فاعِل بھی وُہی ہو کہ جو یکتا ہے اور کوئی بھی اس کے ساتھ کسی شے میں شریک نہیں۔
٭۔۔۔۔کوئی مسلمان یہ نہیں کہتا کہ فرشتے نے مجھے پیدا کیا ہے۔
٭۔۔۔۔ نہ کوئی یہ کہتا ہے کہ حضرت سَیِّدُنا عِزرائیل عَلَیْہِ السَّلَام نے مجھے موت دی۔
٭۔۔۔۔نہ کوئی یہ کہے گا کہ حضرت سَیِّدُنااِسرافیل عَلَیْہِ السَّلَام نے مجھے دوبارہ زندہ کیا۔
٭۔۔۔۔نہ کسی صَاحِبِ یقین توحید کا مُشاہَدہ کرنے والے شخص کے لیے یہ کہنا دُرُسْت ہے کہ فلاں نے مجھے عَطا کیا یا فلاں نے مجھے کچھ نہیں دیا۔ جیسا کہ یہ کہنا دُرُسْت نہیں کہ فلاں نے مجھے رِزْق دیا اور نہ یہ کہنا دُرُسْت ہے کہ فلاں مجھ پر قادِر ہے، اگرچہ اسے واسِطہ بنایا گیا ہے تاکہ اس کے ہاتھوں یہ کام پورا ہو، کیونکہ کسی کو کچھ دینا رِزْق کی اور نہ دینا قُدْرَت کی عَلامَت ہے۔
کوئی اس کی سلطنت میں شریک ہے نہ تخلیق و رزق میں
اَسمائے باری تعالیٰ میں کوئی بھی شریک نہیں کیونکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہی مُعْطِی، مَانِع ، ضَارّ اور نَافِع ہے جیسا کہ وہ مُحْیِی و مُمِیْت ہے، کوئی اس کی سَلْطَنَت میں شریک نہیں اور نہ بندوں میں سے کوئی تخلیق و رِزْق میں اس کا مددگار ہے۔ عارِفین رَحِمَہُمُ اللہ الْمُبِین کے نزدیک ایسا سمجھنا بندے کے مُوَحِّد ہونے میں عیب کی عَلامَت ہے اور یہ شِرکِ خَفی ہے جس کے مُتعلِّق مَرْوِی ہے کہ شِرک میری اُمَّت میں تاریک رات میں چلنے والی چیونٹی کی چال سے بھی زیادہ مَـخْفِی ہے۔ [3]
اَفعال کی نِسْبَت اَسباب کی طرف کرنا شرک ہے
فرمانِ باری تعالیٰ ہے:
وَ مَا یُؤْمِنُ اَكْثَرُهُمْ بِاللّٰهِ اِلَّا وَ هُمْ مُّشْرِكُوْنَ(۱۰۶) (پ ۱۳، یوسف:۱۰۶)
ترجمۂ کنز الایمان:اور ان میں اکثر وہ ہیں کہ اللہ پر یقین نہیں لاتے مگر شِرک کرتے ہوئے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع