30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
٭… تین۳باتیں بادشاہ مُعاف نہیں کرتے
ایک حکیم کا قول ہے کہ تین۳اشخاص کو بادشاہ مُعاف نہیں کرتے:
(1) جو اس کی سلطنت کا تختہ الٹنا چاہے۔
(2) جو ایسا کام کرے جو بادشاہ کی توہین کا باعِث بنے ۔
(3) جو شخص بادشاہ کے حَرَم کی حُرْمَت کو برباد کرے۔
٭… سنت کی مخالفت کرنے والا شفاعت سے محروم
سرورِ کائنات صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے: اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا ایک فرشتہ ہر روز یہ اِعلان کرتا ہے جس نے سنّتِ رسول کی مُخالَفَت کی اسے آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی شَفَاعَت نصیب نہ ہو گی۔
امیر المومنین حضرت سَیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم فرماتے ہیں: نفسانی خواہش اندھے پن کی شریک و حصّہ دار ہے۔[1]
٭… بدعت گویا اللہ پر جھوٹ باندھنا ہے
اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا فرمانِ عالیشان ہے:
(1) وَ مَنْ اَصْدَقُ مِنَ اللّٰهِ قِیْلًا(۱۲۲)(پ۵، النسآء:۱۲۲)
ترجمۂ کنز الایمان:اور اللہ سے زیادہ کس کی بات سچی۔
(2) فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا لِّیُضِلَّ النَّاسَ بِغَیْرِ عِلْمٍؕ- (پ۸، الانعام:۱۴۴)
ترجمۂ کنز الایمان:تو اس سے بڑھ کر ظالِم کون جو اللہ پر جھوٹ باندھے کہ لوگوں کو اپنی جَہَالَت سے گمراہ کرے۔
(گویاکہ صاحِبِ کتاب اِمامِ اَجَلّ حضرت سَیِّدُنا شیخ ابُو طالِب مکّی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی کے نزدیک خِلافِ شَریعَت کسی بِدْعَت کا جاری کرنا گویا کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ پر جھوٹ باندھنا ہے اور اس سے بڑھ کر کوئی جُرم نہیں۔)
٭… بدعت کی تباہی
فرمانِ باری تعالیٰ ہے:
اَوْ قَالَ اُوْحِیَ اِلَیَّ وَ لَمْ یُوْحَ اِلَیْهِ شَیْءٌ وَّ مَنْ قَالَ سَاُنْزِلُ مِثْلَ مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُؕ- (پ۷، الانعام:۹۳)
ترجمۂ کنز الایمان:یا کہے مجھے وحی ہوئی اور اسے کچھ وحی نہ ہوئی اور جو کہے ابھی میں اتارتا ہوں ایسا جیسا خدا نے اتارا۔
(صاحِبِ کتاب حضرت سَیِّدُنا شیخ ابُو طالِب مکّی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں کہ)اس آیتِ مُبارَکہ میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ پر جھوٹ باندھنے اور ربّ ہونے کا دعویٰ کرنے والے کے جُرْم کو ہم پَلّہ قرار دیا گیا ہے۔
٭… اہلِ حق کو جھٹلانا
یہ بھی بَہُت بڑا جُرْم ہے کہ اَہْلِ حَق جب کوئی بات کہیں تو نہ صِرف ماننے سے اِنکار کر دیا جائے بلکہ انہیں جھوٹا کہا جائے۔ بے شک اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے حق بات کو اور خالِق عَزَّ وَجَلَّ کے جھٹلانے کو ایک جیسا جُرْم قرار دیا ہے۔ چنانچہ اِرشَاد ہوتا ہے:
(1) وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اَوْ كَذَّبَ بِالْحَقِّ لَمَّا جَآءَهٗؕ-(پ۲۱، العنکبوت:۶۸)
ترجمۂ کنز الایمان:اور اس سے بڑھ کر ظالِم کون جو اللہ پر جھوٹ باندھے یا حق کو جھٹلائے جب وہ اس کے پاس آئے۔
(2) فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ كَذَبَ عَلَى اللّٰهِ وَ كَذَّبَ بِالصِّدْقِ اِذْ جَآءَهٗؕ-(پ۲۴، الزمر:۳۲)
ترجمۂ کنز الایمان:تو اس سے بڑھ کر ظالِم کون جو اللہ پر جھوٹ باندھے اور حق کو جھٹلائے جب اسکے پاس آئے۔
معلوم ہوا حق اور اہلِ حق کو جھٹلانا برابر ہے۔ اسی طرح اس کے برعکس یعنی حق اور اہلِ حق کی تصدیق کرنا بھی برابر ہے۔ چنانچہ فرمانِ باری تعالیٰ ہے:
وَ الَّذِیْ جَآءَ بِالصِّدْقِ وَ صَدَّقَ بِهٖۤ اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْمُتَّقُوْنَ(۳۳) (پ۲۴، الزمر:۳۳)
ترجمۂ کنز الایمان: اور وہ جو یہ سچ لے کر تشریف لائے اور وہ جنہوں نے ان کی تصدیق کی یہی ڈر والے ہیں۔
مُعَلِّمِ کائنات صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمان ہے:عالِم اور مُتَعَلِّم دونوں عِلْم میں حصّہ دار ہیں۔[2] اسی قسم کا ایک قول حضرت سَیِّدُنا عیسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام سے بھی منقول ہے۔ چنانچہ آپ عَلَیْہِ السَّلَام فرماتے ہیں:سننے والا بولنے والے کا حصّہ دار ہوتا ہے۔[3]
نِظامِ قدرت، حق و باطِل کی جنگ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع