30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ترجمۂ کنز الایمان:تو ان سے لڑو اللہ انہیں عَذاب دےگا تمہارے ہاتھوں۔
پھر ان سے لڑنے اور انہیں مارنے کی نِسْبَت اپنی جانِب کرتے ہوئے اِرشَادفرمایا:
فَلَمْ تَقْتُلُوْهُمْ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ قَتَلَهُمْ۪-(پ۹،الانفال:۱۷)ٍ
ترجمۂ کنز الایمان:تو تم نے انہیں قَتْل نہ کیا بلکہ اللہ نے اُنہیں قتل کیا۔
اَسباب کے ثُبُوت اور ان کی حقیقت سے پَردہ کُشائی کرتے ہوئے اِرشَادفرمایا:
وَ مَا رَمَیْتَ اِذْ رَمَیْتَ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ رَمٰىۚ- (پ۹،الانفال:۱۷)
ترجمۂ کنز الایمان:اور اے محبوب وہ خاک جو تم نے پھینکی تم نے نہ پھینکی تھی بلکہ اللہ نے پھینکی۔
واسِطوں کا ذِکْر کرتے ہوئے اِرشَادفرمایا:
فَلَا تُعْجِبْكَ اَمْوَالُهُمْ وَ لَاۤ اَوْلَادُهُمْؕ-اِنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰهُ لِیُعَذِّبَهُمْ بِهَا (پ۱۰،التوبة:۵۵)
ترجمۂ کنز الایمان:تو تمہیں ان کے مال اور ان کی اولاد کا تَعَجُّب نہ آئے اللہ یہی چاہتا ہے کہ ان چیزوں سے ان پر وَبال ڈالے۔
اسی کی مِثل اِرشَادفرمایا:
الَّذِیْ عَلَّمَ بِالْقَلَمِۙ(۴) (پ۳۰،العلق:۴) ترجمۂ کنز الایمان:جس نے قَلَم سے لکھنا سکھایا ۔
پھر اِرشَادفرمایا:
اَلرَّحْمٰنُۙ(۱) عَلَّمَ الْقُرْاٰنَؕ(۲) (پ۲۷،الرحمٰن:۱ ،۲) ترجمۂ کنز الایمان: رحمٰن نے اپنے محبوب کو قرآن سکھایا۔
پھر اِرشَادفرمایا:
عَلَّمَهُ الْبَیَانَ(۴)(پ۲۷،الرحمٰن:۴) ترجمۂ کنز الایمان:مَاکَانَ وَمَایَکُوْن کا بیان اُنہیں سکھایا۔
اور ایک مَقام پر اِرشَادفرمایا:
ثُمَّ اِنَّ عَلَیْنَا بَیَانَهٗؕ(۱۹) (پ۲۹،القیامة:۱۹)
ترجمۂ کنز الایمان:پھر بیشك اس كی باریكیوں كا تم پر ظاہِر فرمانا ہمارے ذِمّہ ہے۔
اَملاک کے ثُبُوت اور عِوَض کے بدلے ان کی فَرَوخْت کو اپنے فَضْل و کَرَم سے یوں بیان فرمایا:
اِنَّ اللّٰهَ اشْتَرٰى مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ اَنْفُسَهُمْ وَ اَمْوَالَهُمْ بِاَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَؕ- (پ ۱۱، التوبة:۱۱۱)
ترجمۂ کنز الایمان:بیشك اللہ نے مسلمانوں سے ان کے مال اور جان خرید لیے ہیں اس بدلے پر کہ ان کے لیے جنّت ہے۔
یہ فَرَوخْت اس لیے مُمکِن ہوئی کہ پہلے اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے انہیں چیزوں کا مالِک بنا دیا تھا۔ جیسا کہ اس کا فرمانِ عالیشان ہے:
اِلَّا مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُكُمْۚ- (پ ۵، النسآء:۲۴)
ترجمۂ کنز الایمان:مگر کافروں کی عورتیں جو تمہاری مِلک میں آجائیں۔
اَہْلِ مَعْرِفَت کے نزدیک حقیقی فاعِل صِرف اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہے، اس لیے کہ حقیقی فاعِل وہ ہوتا ہے جو کسی آلہ یا سَبَب کی مَدَد حاصِل نہ کرے، نیز ان کے نزدیک کسی بھی کام کو کرنے والے دو۲ نہیں ہو سکتے ورنہ یہ شِرْکَت ہو گی، اس لیے کہ دوسرا فاعِل اُس فعل کا ظاہِر کرنے والا ہے جو اس کے ہاتھوں وُقُوع پَذِیر ہوا اور اس کے واسطے سے جارِی ہوا، گویا اس کی حَیْثِیَّت ثَانَوِی ہے اور یہ ایک نیا فعل ہے گویا کہ یہ مَفْعُول (یعنی اس پر فعل واقِع ہوا)ہو،جبکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہی اَوَّل و قدیم ہے اور وُہی اَصْلی فاعِل ہے۔ جیسا کہ عارِفین رَحِمَہُمُ اللہ الْمُبِین کے نزدیک حقیقی مالِک وُہی ہے جو اَشیا کو پیدا کرنے والا ہے اور جو اَشیا کو پیدا کرنے کے بعد انہیں فنا کرنے پر بھی قادِر ہے اور جس کے قبضے میں اَشیا دی گئی ہیں اسے تو مَحْض مالِک بنایا گیا ہے ، اس لیے کہ اس نے اپنے قبضے میں مَوجُود اَشیا کو پیدا نہیں کیا جیسا کہ اس کے ہاتھوں سے سَر اَنْجَام پانے والا فعل اَصْل میں مَفْعُول ہے، کیونکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہی اَلْاَوَّلُ الْقَیُّوْم بِنَفْسِہٖ ہے وہ کسی غیر کی مَدَد نہیں لیتا، البتہ! اس نے اپنی حِکْمَت اور بڑائی کی بنا پر مَخلوق اور زِنْدَگی کے لیے واسطے مُقَرّر کر دئیے ہیں۔ چنانچہ،
مَرْوِی ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے مَحبوب، دانائے غُیوب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے عورت کے رِحْم پر مُقَرَّر فَرِشتے کے بارےمیں اِرشَادفرمایا کہ فرشتہ رِحْم میں داخِل ہوکر نُطْفَہ اپنے ہاتھ میں لیتا ہے، پھر اس کی جسمانی صُورَت بناتے وَقْت بارگاہ ِ الٰہی میں عَرْض کرتا ہے:اےمیرے رب!یہ مُذکَّر ہے یا مُؤَنَّث،اسے سیدھا بناؤں یا عیب دار۔اللہ عَزَّ وَجَلَّ جو چاہتا ہے وہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع