30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اَللّٰهُ یَتَوَفَّى الْاَنْفُسَ حِیْنَ مَوْتِهَا (پ۲۴،الزمر:۴۲)
ترجمۂ کنز الایمان:اللہ جانوں کو وفات دیتا ہے ان کی موت کے وَقْت۔
ایک مَقام پر اِرشَادفرمایا:
اَفَرَءَیْتُمْ مَّا تَحْرُثُوْنَؕ(۶۳) (پ۲۷،الواقعة:۶۳) ترجمۂ کنز الایمان:تو بھلا بتاؤ تو جو بَوتے ہو۔
یہاں واسطے کا ذِکْر فرمایا۔ پھر اِرشَادفرمایا:
اَنَّا صَبَبْنَا الْمَآءَ صَبًّاۙ(۲۵) ثُمَّ شَقَقْنَا الْاَرْضَ شَقًّاۙ(۲۶)(پ۳۰،عبس:۲۵ ، ۲۶)
ترجمۂ کنز الایمان:کہ ہم نے اَچھّی طرح پانی ڈالا پھر زمین کو خوب چِیرا۔
اس بات کی (یعنی سَبَب اور واسِطوں کی)وَضَاحَت کرتے ہوئے اِرشَادفرمایا:
فَاَرْسَلْنَاۤ اِلَیْهَا رُوْحَنَا (پ۱۶،مریم:۱۷) ترجمۂ کنز الایمان:تو اس کی طرف ہم نے اپنا رُوحانی بھیجا ۔
پھر سَبَب کی نِسْبَت اپنی جانِب کرتے ہوئے اِرشَاد فرمایا:
فَنَفَخْنَا فِیْهِ مِنْ رُّوْحِنَا (پ۲۸،التحریم:۱۲) ترجمۂ کنز الایمان:تو ہم نے اس میں اپنی طرف کی رُوح پھونکی۔
حالانکہ پھونکنے والے حضرت سیِّدُنا جبریل امین عَلَیْہِ السَّلَام تھے۔
اسی طرح مزید اِرشَادفرمایا:
فَاِذَا قَرَاْنٰهُ فَاتَّبِـعْ قُرْاٰنَهٗۚ(۱۸)(پ۲۹،القیامة:۱۸)
ترجمۂ کنز الایمان:تو جب ہم اسے پڑھ چکیں اس وَقْت اُس پڑھے ہوئے کی اِتِّبَاع کرو۔
مُفَسِّرِینِ کِرام رَحِمَہُمُ اللہ ُ السَّلَام فرماتے ہیں کہ اس سے مُراد یہ ہے کہ اے مَحْبُوب! جب جبرائیل آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر قرآنِ کریم کی آیات پیش کریں تو انہیں لے لیجئے۔ حالانکہ یہ آیات دَرْج ذیل آیَتِ مُبارَکہ کے بعد کی ہیں:
لَا تُحَرِّكْ بِهٖ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهٖؕ(۱۶) (پ۲۹،القیامة:۱۶)
ترجمۂ کنز الایمان:تم یاد کرنے کی جَلْدی میں قرآن کے ساتھ اپنی زبان کو حَرَکَت نہ دو۔
اسی طرح حضرت سَیِّدُنا جبرائیل عَلَیْہِ السَّلَام کا یہ قول بھی ہے:
لِاَهَبَ لَكِ غُلٰمًا زَكِیًّا(۱۹) (پ ۱۶، مریم:۱۹) ترجمۂ کنز الایمان: کہ میں تجھے ایک ستھرا بیٹا دوں۔
حالانکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے حضرت سَیِّدُنا جبرائیل عَلَیْہِ السَّلَام کو یہ بیٹا دیا تھا تاکہ وہ حضرت سَیِّدَتُنا مریم رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہاکو دیدیں، مگر انہوں نے صِرف اپنا ذِکْر کیا جبکہ انہیں اپنے رب کا مُشاہَدہ بھی حاصِل تھا(پھر بھی انہوں نے نِسْبَت اپنی جانِب کی)۔ دوسرے اَلفاظ میں گویا کہ آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے یوں کہا کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ آپ کو ایک ستھرا بیٹا دے۔
اسی کی مِثل حضرت سَیِّدُنا موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام کا یہ قول ہے:
لَاۤ اَمْلِكُ اِلَّا نَفْسِیْ وَ اَخِیْ (پ ۶، المآئدة:۲۵) ترجمۂ کنز الایمان:مجھے اِخْتِیار نہیں مگر اپنا اور اپنے بھائی کا۔
اس لیے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اِرشَادفرمایا تھا:
وَ وَهَبْنَا لَهٗ مِنْ رَّحْمَتِنَاۤ اَخَاهُ (پ۱۶،مریم:۵۳) ترجمۂ کنز الایمان:اور اپنی رَحْمَت سے اسے اس کا بھائی عَطا کیا۔
حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ حضرت سَیِّدُنا موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام اپنے نَفْس کے مالِک تھے نہ اپنے بھائی کے نَفْس کے، اس لیے کہ حقیقت میں اَصْل مالِک اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہی ہے۔ یہ اس آیتِ مُبارَکہ کا ایک قرأت کے مُطابِق ایک معنیٰ بنتا ہے یعنی جب (وَ اَخِیْ) کو مَنْصُوب پڑھا جائے، لیکن اگر اسے مَرْفُوع پڑھا جائے تو معنیٰ بالکل دُرُست ہو گا کہ میرا بھائی بھی اپنے نَفْس کا مالِک نہیں ہے۔
اسی طرح اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے ایک مَقام پر اس بات کو وَضَاحَت کے ساتھ یوں ذِکْر فرمایا:
فَاقْتُلُوا الْمُشْرِكِیْنَ (پ ۱۰، التوبة:۵) ترجمۂ کنز الایمان:تو مُشْرِكُوں كو مارو۔
اسی طرح واسِطہ کا ذِکْر کرتے ہوئے اِرشَادفرمایا:
قَاتِلُوْهُمْ یُعَذِّبْهُمُ اللّٰهُ بِاَیْدِیْكُمْ (پ۱۰،التوبة:۱۴)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع