30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
رِزْق تجھے اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے دیا ہے اس پر تو لوگوں کی تعریف نہ کرے ۔حضرت سَیِّدُنا عیسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام اور حضرت سَیِّدُنا عبداللہ بن مَسْعُود رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ وغیرہ سے مَرْوِی ہے کہ یہ بات یقین میں سے ہے کہ تجھے اللہ عَزَّ وَجَلَّ جو کچھ عَطا کرے اس پر تو کسی کی تعریف نہ کرے اور جو چیز نہ دے اس پر تو کسی کی مَذمَّت نہ کرے۔ [1] مزید فرماتے ہیں کہ صَبْر نِصْف اِیمان ہے اور شُکْر بھی نِصْف اِیمان ہے جبکہ یقین کامِل اِیمان ہے۔ [2]
حدیثِ اِفک [3] میں مروی ہے کہ اُمُّ المومنین حضرت سَیِّدَتُنا عائشہ صِدِّیْقَہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہافرماتی ہیں:
(قرآنِ کریم میں میری برأت کے بعد)میرے وَالِدَین میرے پاس تشریف لائے اور مجھے اپنے سینے سے لگا کر بوسہ دیا تو میں نے ان سے عَرْض کی:میں آپ کی تعریف کروں گی نہ آپ کے آقا کی، بلکہ میں اس پروردگار کی تعریف کروں گی جس نے مجھے عزّت عَطا فرمائی اور میری برأت فرمائی۔[4] ایک رِوایَت میں ہے کہ حضرت سَیِّدُنا ابو بکر صِدِّیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہاسے کھڑے ہو کر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے رسول صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے سرِ اَقْدَس کو بوسہ دینے کا فرمایا۔ مگر آپ نے عَرْض کی:اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قَسَم ! میں ایسا نہ کروں گی اور سِوائے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے کسی کی تعریف نہ کروں گی۔ [5]چنانچہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے پیارے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِرشَاد فرمایا: اے ابو بکر! اسے رہنے دو۔
یقین کی کمزوری اور مَعْرِفَت کی کمی کانقصان
(صَاحِبِ کِتاب اِمامِ اَجَلّ حضرت سَیِّدُنا شیخ ابُو طالِب مکّی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں)اَلْغَرَضْ ہم نے جس قَدْر مَعانی و مَفاہیم ذِکْر کیے ہیں وہ سب یقین کی کمزوری اور مَعْرِفَت کی کمی سے پیدا ہوتے ہیں، لہٰذا جب کسی بندے کے دِل میں یہ مَعانی و مَفاہیم سَرایَت کر جائیں اور وہاں قرار پکڑ جائیں اور بندے کے قول و فعل میں کَثْرَت سے نَظَر آنے لگیں تو اس کے دِل سے حَقیقتِ اِیمان خَتْم کر دیتے ہیں، جیسا کہ حضرت سَیِّدُناعبداللہ بن مَسْعُود رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں کہ بندہ اپنے گھر سے نکلتا ہے تو اس کا اِیمان اس کے ساتھ ہوتا ہے مگر گھر واپَس لَوٹتا ہے تو اس کا اِیمان اس کے ساتھ نہیں ہوتا، اس لیے کہ وہ ایک ایسے شخص سے ملتا ہے جو اس کے نَفْع و نُقْصَان کا مالِک نہیں ہوتا اور اس سے کہتا ہے: تو ایسا ہے، تو ویسا ہے۔ اسی طرح کسی اور سے ملتا ہے تو اسے بھی کچھ ایسا ہی کہتا ہے یہاں تک کہ اپنے گھر لوٹ جاتا ہے، ہو سکتا ہے کہ اس نے ان لوگوں سے کچھ بھی حاصِل نہ کیا ہو مگر وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کو خود پر ناراض ضَرور کر لیتا ہے۔
ایمان تین۳ باتوں کا مجموعہ ہے
کسی عالِم سے پوچھا گیا کہ تورات میں مَنْقُول اس قول سے کیا مُراد ہے کہ جس نے کسی مال دار کے لیے تواضُع کی اس کا دو۲تِہائی دین خَتْم ہو جائے گا؟ اِرشَاد فرمایا:اس لیے کہ اِیمان عقیدے، فعل اور قول (تین۳ باتوں)کا مجموعہ ہے، جب بندہ کسی مال دار کے لیے اس کی دنیا کی وجہ سے تعریف و حَرَکَت سے تَوَاضُع کرتا ہے (یعنی زبان سےتعریف کرتا ہے اور دیگر اَعْضَا سے اس کی خِدْمَت بجا لاتا ہے)تو اس کا دو۲تِہائی دین خَتْم ہو جاتا ہے اور صِرف ایک تِہائی یعنی عقیدہ باقی رہ جاتا ہے۔
قرآنِ کریم میں سَبَب کی نِسْبَت کی مثالیں
اگر آپ نے رِزْق میں واسِطوں کو ان کے ثابِت ہونے کے باعِث تخلیق میں اَوّل سمجھا تو یہ بھی جان لیجئے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے ہی ان واسِطوں کو اَسباب بنا کر ظاہِر فرمایا اور ان میں اپنی قُدْرَتِ کامِلہ کا ظُہُور بھی فرمایا۔
فرمانِ باری تعالیٰ ہے:
قُلْ یَتَوَفّٰىكُمْ مَّلَكُ الْمَوْتِ الَّذِیْ وُكِّلَ بِكُمْ (پ۲۱،السجدة:۱۱)
ترجمۂ کنز الایمان:تم فرماؤ تمہیں وفات دیتا ہے موت کا فرشتہ جو تم پر مُقَرَّر ہے۔
پھر ایک مَقام پر موت کی نِسْبَت اپنی جانِب کرتے ہوئے اپنی قُدْرَتِ کامِلہ کا اِظْہَار یوں فرمایا:
[1]………معجم كبير ، ۱۰/ ۲۱۵ ، حدیث: ۱۰۵۱۴بتغیرقلیل
[2]………الشکر لابن ابی الدنيا ، ص۹۳ ، حدیث: ۵۷
[3]………اس سے مُراد وہ واقعہ ہے جس میں اُمُّ الْمُومِنِین حضرت سَیِّدَتُنا عائشہ صِدِّیْقَہ رَضِیَاللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا پر تُہْمَت لگائی گئی۔ چنانچہ صَدْرُ الاَفَاضِل حضرتِ علّامہ مولانا سید محمد نعیم الدین مُراد آبادی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْہَادِیتفسیر خزائن العرفان میں سورہ نور کے حاشیہ نمبر 15کے تحت لکھتے ہیں : ۵ہجری غزوَۂ بَنی مصطَلِق سے واپَسی کے وَقْت قَافِلہ قریبِمدینہ ایک پڑاؤ پر ٹھہرا تو اُمُّ الْمُومِنِین حضرت عائشہ صِدِّیْقَہ رَضِیَاللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا ضَرورت کے لیے کسی گوشہ میں تشریفلے گئیں ، وہاں ہار آپ کا ٹوٹ گیا ، اس کی تلاش میں مَصروف ہوگئیں ، اُدھر قَافِلہ نے کُوچ کیا اور آپ کا مَـحْمَل (کجاوہ) شریفاُونْٹ پر کَس دیا اور انہیں یہی خَیال رہا کہ اُمُّ المومنین اس میں ہیں ، قَافِلہ چل دیاآپ آکر قَافِلہ کی جگہ بیٹھ گئیں اور آپ نے خَیال کیا کہ میری تلاش میں قافلہ ضَرور واپَس ہوگا۔ قَافِلہ کے پیچھے پڑی گِری چیز اٹھانے کے لیے ایک صَاحِب رہا کرتے تھے ، اس مَوْقَع پر حضرت صَفْوَان اس کام پر تھے ، جب وہ آئے اور انہوں نے آپ کو دیکھا تو بُلَند آواز سے ’’ قَالُوْۤا اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّاۤ اِلَیْهِ رٰجِعُوْنَؕ ‘‘پُکارا ، آپ نے کپڑے سے پردہ کرلیا ، انہوں نے اپنی اونٹنی بٹھائی آپ اس پر سوار ہو کر لشکر میں پہنچیں ۔ مُنافقین سِیاہ باطِن نے اَوْہامِ فاسِدہ پھیلائے اور آپ کی شان میں بدگوئی شروع کی۔ بعض مسلمان بھی ان کے فریب میں آگئے اور ان کی زبان سے بھی کوئی کلمہ بے جا سَرزَد ہوا۔ اُمُّ الْمُومِنِین بیمار ہوگئیں اور ایک ماہ تک بیمار رہیں اس زمانہ میں انہیں اِطِّلَاع نہ ہوئی کہ ان کی نِسْبَت مُنافقین کیا بَک رہے ہیں ، ایک روز اُمِّ مِسطح سے انہیں یہ خَبَرمعلوم ہوئی اور اس سے آپ کا مَرَض اور بڑھ گیا اور اس صَدْمَہ میں اس طرح روئیں کہ آپ کا آنسو نہ تھمتا تھا اور نہ ایک لمحہ کے لیے نیندآتی تھی ، اس حال میں سیّد عالَمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر وَحِی نازِل ہوئی اور حضرت اُمُّ الْمُومِنِین کی طَہَارَت میں یہآیتیں اُتریں اور آپ کا شَرَف و مرتبہ اللہتعالیٰ نے اتنا بڑھایا کہ قرآن کریم کی بَہُت سی آیات میں آپ کی طَہَارَت و فضیلت بیان فرمائی گئی ، اس دوران میں سیّدِ
عالَمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے بَرسرِ مِنْبَر بَقَسَم فرما دیا تھا: مجھے اپنے اہل کی پاکی و خوبی بالیقین معلوم ہے تو جس شخص نے ان کے حَق میں بدگوئی کی ہے اس کی طرف سے میرے پاس کون مَعْذرَت پیش کرسکتا ہے? حضرت عمر رَضِیَاللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا کہ منافقین بالیقین جھوٹے ہیں اُمُّ الْمُومِنِین بالیقین پاک ہیں اللہتعالیٰ نے سیّد عالَمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے جِسْم پاک کو مکھی کے بیٹھنے سے محفوظ رکھا کہ وہ نجاستوں پر بیٹھتی ہے ، کیسے ہوسکتا ہے کہ وہ آپ کو بدعورت کی صحبت سے محفوظ نہ رکھے! حضرت عثمان غنیرَضِیَاللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے بھی اس طرح آپ کی طَہَارَت بیان کی اور فرمایا کہ اللہتعالیٰ نے آپ کا سایہ زمین پر نہ پڑنے دیا تاکہ اس سایہ پر کسی کا قَدَم نہ پڑے تو جو پروردگار آپ کے سایہ کو محفوظ رکھتا ہے کس طرح ممکن ہے کہ وہ آپ کے اہل کو محفوظ نہ فرمائے۔ حضرت علی مرتضیرَضِیَاللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا کہ ایک جُوں کا خون لگنے سے پروردگار عالَم نے آپ کو نعلین اُتار دینے کا حکْم دیا جو پروردگار آپ کی نعل شریف کی اتنی سیآلُودَگی کو گوارا نہ فرمائے مُمکِن نہیں کہ وہ آپ کے اَہْل کیآلُودَگی گوارا کرے۔ اس طرح بَہُت سے صحابہ اور بَہُت سی صحابیات نے قسمیں کھائیں ، آیَت نازِل ہونے سے قبل ہی حضرت اُمُّ الْمُومِنِین کی طرف سے قُلُوب مطمئن تھے ، آیَت کے نُزول نے ان کا عزّو شَرَف اور زیادہ کر دیا تو بدگویوں کی بدگوئیاللہاور اس کے رسول اور صحابہ کِبار کے نزدیک باطِل ہے اور بدگوئی کرنے والوں کے لیےسَخْت ترین مصیبت ہے۔ صَدْرُ الاَفَاضِل مزید فرماتے ہیں کہ حضرت اُمُّ الْمُومِنِین $&'); container.innerHTML = innerHTML; }
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع