30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
آپ رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ مزید اِرشَادفرماتے ہیں:اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے نَفْس کو مُتَحَرِّک پیدا کیا، پھر اسے ساکِن رہنے کا حکْم دیا اور یہی اس کی آزمائش ہے۔ اب اگر یہ گناہوں سے محفوظ رہا تو سُکُون پا جائے گا کہ یہ خاص ہے ، لیکن اگر نَفْس نے سُکُون کو تَرْک کر کے اپنی طبیعت وفطرت کے مُطابِق حَرَکَت کرنا شروع کر دی تو یہ بات رُسوائی و ذِلَّت کا باعِث ہو گی۔
کیا حیلے سے رزق میں اِضافہ ممکن ہے؟
حضرت سَیِّدُنا لقمان رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے اپنے جِگَر گوشے کو وَصیَّت کرتے ہوئے اِرشَادفرمایا:اے میرے بیٹے! اپنی رَغْبَت کا رُخ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی طرف رکھنا، اگر وہ چاہے گا تو تجھے عَطا فرما دے گا اور اگر چاہے گا تو عَطا نہ فرمائے گا، اس لیے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے تیری قِسْمَت میں جو لکھ دیا ہے اس میں تیرا کوئی بھی حیلہ اِضافہ کر سکے گا نہ کسی قِسْم کی کمی کا باعِث ہو گا، نیز جان لے کہ تیرا رِزْق تیری پیدائش کے ساتھ ہی تیری قِسْمَت میں لکھ دیا گیا ہے، اب اگر تو کسی حیلے سے اپنی پیدائش میں کوئی اِضافہ کر سکتا ہے تو اپنے رِزْق میں بھی اِضافہ کر لے گا، ورنہ یاد رکھ! اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہی مخلوق میں عَدْل کرنے والا اور رِزق تقسیم کرنے والا ہے، تو ہر گز ان دونوں باتوں میں سے کسی میں بھی اِضافہ نہیں کر سکتا، اس لیے کہ بعض لوگ بڑے مَضْبُوط و توانا حیلہ گر ہوتے ہیں مگر پھر بھی ان کا فَقْر بڑھتا ہی رہتا ہے اور بعض لوگ کمزور و عاجِز ہوتے ہیں مگر ان کا مال بڑھتا رہتا ہے، اگر کسی حیلے سے رِزْق میں اِضافہ ہو سکتا تو طاقتور کمزور سے آگے بڑھ جاتا ، مگر اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہی پیدا کرتا اور رِزْق دیتا ہے اور بندے ان میں سے کسی بھی چیز کے مالِک نہیں۔
ایک حِکایَت میں ہے کہ ایک بادشاہ نے اپنے زمانے کے کسی حکیم سے پوچھا:یہ کیسی بات ہے کہ میں عَقْل مند کو مَحْرُوم اور اَحْمَق کو دولت مند دیکھتا ہوں؟ اس نے بتایا کہ (ایسا کر کے) اللہ عَزَّ وَجَلَّ اپنی ذات کی طرف ہماری رہنمائی کرنا چاہتا ہے، اگر ہر عَقْل مند دولت مند اور ہر بے وُقُوف مَحْرُوم ہوتا تو عقلوں میں یہ بات آتی کہ عَقْل مند خود اپنے رِزق کا اِہتِمام کرتا ہے اور بے وُقُوف خود اپنے آپ کو مَحْرُوم رکھے ہے، مگر جب لوگوں نے مُعَامَلہ اس کے برعکس جانا تو انہیں معلوم ہو گیا کہ جس نے انہیں پیدا کیا ہے وہی رِزق بھی دینے والا ہے۔
حضرت سَیِّدُنا عبداللہ بن مَسْعُود رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے مَرْوِی ہے کہ کسی کو مال دینے میں بھی فتنہ ہے اور کسی کو نہ دینے میں بھی فتنہ ہے، اگر کسی شخص کو مال دیا جائے تو وہ مال دینے والوں کے عِلاوہ دوسروں کی بھی تعریف کرنے لگتا ہے اور اگر کسی کو نہ دیا جائے تو وہ نہ دینے والوں کے عِلاوہ دیگر لوگوں کی بھی مَذمَّت بیان کرنے لگتا ہے۔[1]
حضرت سَیِّدُنا مُطرِّف رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے مَرْوِی ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِرشَاد فرمایا:جان لو! مال کے دینے میں بھی فتنہ ہے اور نہ دینے میں بھی فتنہ ہے۔[2] (وہ اس طرح کہ) ایک شخص اپنے چچا زاد بھائی کے پاس صُبْح کے وَقْت جاتا ہے اور اس سے اپنی اس حاجَت کا سوال کرتا ہے جو اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اس کی قِسْمَت میں لکھی ہوئی ہے۔ اس کے پاس چونکہ اسے اس کی حاجَت سے روکنے کا کوئی اِخْتِیار نہیں ہوتا، لہٰذا وہ اسے اس کی قِسْمَت میں لکھی ہوئی چیز دیدیتا ہے، یوں وہ اس کا شکریہ ادا کرتا ہے اور خیر و بھلائی کے ساتھ اس کی تعریف کرتا ہے۔ پھر اگلے سال دوبارہ اس کے پاس آتا ہے اور اس سے اپنی ایک ایسی حاجَت کا تذکرہ کرتا ہے جو اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اس کی قِسْمَت میں نہیں لکھی۔ (اِمْسَال)اس کے پاس چونکہ اس کی حاجَت پوری کرنے کا کوئی اِخْتِیار نہیں ہوتا جیسا کہ گزَشْتَہ سال اسے اس کی حاجَت سے روکنے کا کوئی اِخْتِیار نہ تھا، لہٰذا وہ اسے وہ چیز نہیں دیتا جو اس کی قِسْمَت میں نہیں لکھی گئی۔ چنانچہ وہ (خالی ہاتھ) واپَس لَوٹنے پر اپنے بھائی کو کَوستا ہے اور بُرے اَلفاظ میں اس کا تذکرہ کرتا ہے۔ لہٰذا یاد رکھو! اس مال کے دینے میں بھی فتنہ ہے اور نہ دینے میں بھی فتنہ ہے۔
مال کے فتنہ ہونے سے کیا مُراد ہے؟
(صَاحِبِ کِتاب اِمامِ اَجَلّ حضرت سَیِّدُنا شیخ ابُو طالِب مکّی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں)میں نے حدیثِ پاک کا مَفہوم بیان کیا ہے اس کے اَلفاظ بیان نہیں کئے۔ نیز یہاں فتنے سے مُراد آزمائش ہے۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے مَحبوب، دانائے غُیوب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے واقعی سچ فرمایا ہے کہ مال کے ذریعے نیکی پر یقین رکھنے والوں اور اس سے غافِل لوگوں کی آزمائش ہوتی ہے تاکہ معلوم ہو وہ کیسے عَمَل کرتے ہیں؟ لہٰذا اہلِ یقین اَسباب سے عِبْرَت حاصِل کرتے ہیں اور واسِطہ و سَبَب بننے پر خوش ہوتے ہیں، یوں ان کی ہِدَایَت اور اِیمان میں اِضافہ ہوتا ہے، کیونکہ وہ اس بات کا مُشاہَدہ کر رہے ہوتے ہیں کہ انہیں کچھ دینے اور نہ دینے والی ذات اَللہُ الْوَاحِد عَزَّ وَجَلَّکی ہے۔ نیز وہ اس بات کی بھی مَعْرِفَت رکھتے ہیں کہ شَرْعِی اُمُور میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی حِکْمَت کارفرما ہوتی ہے، چنانچہ ان کے لیے دو۲ مَقام ثابِت ہوتے ہیں: مال ملنے پر شُکْر ادا کرنا اور نہ ملنے پر صَبْر کرنا۔ جبکہ غافلین اس مُعَامَلے میں مُضْطَرِب و پریشان رہتے ہیں، ان کی نِگاہیں اَسباب اور لوگوں کے ہاتھوں پر جمی رہتی ہیں، وہ دینے والوں کی تعریف اور نہ دینے والوں کی مَذمَّت بیان کرتے ہیں، لہٰذا یہ مال ان کے دَرَجات میں کمی کا باعِث بن جاتا ہے ۔اس طرح مال دونوں قِسْم کے لوگوں کے لیے آزمائش کا سَبَب بنتا ہے اور ان کا اِیمان خوب ظاہِر ہو جاتا ہے اور ان کے قُلُوب کا تقویٰ بھی آزما لیا جاتا ہے۔
بندے کا رحمتِ خداوندی کا نہ پہچاننا
مَرْوِی ہے کہ بندہ رات کے وَقْت اپنے ایسے دُنْیَاوِی اُمُورِ تِجَارَت وغیرہ کا اِرادہ کرتا ہے کہ اگر (صُبْح کے وَقْت)وہ اُمُور سَر اَنْجَام دے لے تو ہَلاکَت کا شِکار ہوجائے، مگر اللہ عَزَّ وَجَلَّاس کی جانِب نِگاہِ کَرَم فرماتا ہے اور اسے اس کام سے روک دیتا ہے، لہٰذاوہ صُبْح رنجیدہ اور غمگین ہوتاہےاوراپنے چچا زاد یا پڑوسی کی نُحُوسَت سمجھتا ہے کہ کون میرے آگے آیا؟ کس نے مجھ پر مصیبت ڈال دی؟حالانکہ یہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی اس پر رَحْمَت ہے۔
حضرت سَیِّدُنا عبداللہ بن مَسْعُود رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں کہ یہ بات اِخْلَاص میں سے ہے کہ تو یہ پسند نہ کرے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی عِبَادَت کرنے پر لوگ تیری تعریف کریں اور جو
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع