دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Qoot ul Quloob Jild 2 | قوت القلوب جلد دوم

book_icon
قوت القلوب جلد دوم

اِنِ الْحُكْمُ اِلَّا لِلّٰهِؕ- (پ ۷، الانعام:۵۷)                                ترجمۂ کنز الایمان:حکْم نہیں مگر اللہ کا۔ 

ایک مَقام پر اِرشَادہوتا ہے:

وَّ لَا یُشْرِكُ فِیْ حُكْمِهٖۤ اَحَدًا(۲۶) (پ ۱۵، الکھف:۲۶)           ترجمۂ کنز الایمان:اور وہ اپنے حکْم میں کسی کو شریک نہیں کرتا۔

اسی طرح ایک مَقام پر اِرشَادہوتا ہے:

وَ مَا لَهُمْ فِیْهِمَا مِنْ شِرْكٍ وَّ مَا لَهٗ مِنْهُمْ مِّنْ ظَهِیْرٍ(۲۲)(پ ۲۲، سبا:۲۲)        

ترجمۂ کنز الایمان:اور نہ ان کا ان دونوں میں کچھ حِصّہ اور نہ اللہ کا ان میں سے کوئی مَدَدگار۔

دوسرا طریقہ

مُتَوکِّل کو مُشاہَدۂ باری تعالیٰ  کے ساتھ ساتھ یہ بھی مَعْلُوم ہو جاتا ہے کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ تمام اَشیا پر قُدْرَت رکھتا ہے، وہ تقدیر و تدبیر کے اُمُور میں یکتا ہے، مُلک و مَمْلُوک پر اَحْکام  نافِذ کرنے والا ہے۔ وہ تصریف و تقلیب میں حِکْمَت کی تمام وُجُوہ اور ظُہُورِ اَشباح (اَمثال)و اَشخاص کی خاطِر اَسباب و اَوَاسِط کے اِظْہَار کوبھی خوب جانتا ہے، تاکہ بندوں پر اَحْکام نافِذ کرے اور انہیں ثواب و عِقاب سے نوازے، اس طرح کہ مُتَوکِّل شَرْعی اَحْکام پر قائم اور عِلْم کے تقاضوں سے وابستہ رہے۔ نیز وہ یہ بھی تسلیم کرے کہ سب سے پہلے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کا حکْم ہے، پھر اس بات کا بھی اِعْتِراف کرے کہ ہر شے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی قُدْرَت سے ہے، کیونکہ اس نے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کا یہ فرمانِ عالیشان سن رکھا ہے:

لَا یُسْــٴَـلُ عَمَّا یَفْعَلُ وَ هُمْ یُسْــٴَـلُوْنَ(۲۳)(پ ۱۷، الانبیآء: ۲۳)

ترجمۂ کنز الایمان:اس سے نہیں پوچھا جاتا جو وہ کرے اور ان سب سے سوال ہو گا۔

اس کے عِلاوہ اس بات کا بھی اِعْتِراف کرے کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے اپنی پیدا کردہ تمام اشیا میں اپنی قُدْرَت کو اپنی حِکْمَت کی بِنا پر مَـخْفِی رکھا ہے، اب جن اَشیا میں اس کی حِکْمَت کا ظُہُور ہوتا ہے تو مَحْض اس لیے کہ جن لوگوں کے لیے حِکْمَت کا ظُہُور ہوا ہے ان پر اَحْکام نافِذ ہو سکیں مگر اس کی قُدْرَت اَشیا میں مَـخْفِی رہتی ہے تاکہ ہر مُعامَلے کی نِسْبَت اس کی جانِب ہو  اور اس کی باطِنی صِفَت کی وجہ سے ظاہِری صِفَت مزید پختہ ہو۔ چنانچہ،

فرمانِ باری تعالیٰ ہے:

صُنْعَ اللّٰهِ الَّذِیْۤ اَتْقَنَ كُلَّ شَیْءٍؕ- (پ ۲۰، النمل:۸۸)

ترجمۂ کنز الایمان:یہ کام ہے اللہ کا جس نے حِکْمَت سے بنائی ہر چیز۔ 

مُراد یہ ہے کہ اس کے مَـخْفِی کام نے ظاہِری کام کو مَضْبُوط کیا۔چنانچہ ایک مَقام پر اِرشَادفرمایا:

وَ اِلَیْهِ یُرْجَعُ الْاَمْرُ كُلُّهٗ (پ ۱۲، ھود: ۱۲۳)                             ترجمۂ کنز الایمان:اور اسی کی طرف سب کاموں کی رُجُوع ہے۔

خواہ وہ کام ظاہِری ہوں یا باطِنی۔ پھر اِرشَادفرمایا:

فَاعْبُدْهُ وَ تَوَكَّلْ عَلَیْهِؕ- (پ ۱۲، ھود: ۱۲۳)                              ترجمۂ کنز الایمان:تو اسکی بَنْدَگی  کرو اور اس پر بھروسا رکھو۔

مُراد یہ ہے کہ اپنے تمام کاموں  میں اپنے رب پر بھروسا رکھو۔

تیسرا طریقہ

ایک عارِفِ ربّانی مُتَوکِّل کو باطِنی صَنْعَت کا مُشاہَدہ ہوتا ہے تو وہ اس پر قائم رہتا ہے، حِکْمَتِ ظاہِرہ میں اسے عِلْمِ شَرْع حاصِل ہوتا ہے اور وہ سرِ تسلیم خَم کرتے ہوئے اس پر عَمَل کرتا ہے، یہی فضیلت والی عِبَادَت  میں توحید کا مُشاہَدہ ہے اور یہ عُلَمائے رَبّانِیِّیْن رَحِمَہُمُ اللہ الْمُبِین کا مَقام ہے۔ اگرچہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ پر اِیمان رکھنے والا ہر شخص اس پر تَوَکُّل کرنے والا بھی ہوتا ہے مگر ہر شخص کا تَوَکُّل بَقَدْرِ یقین ہوتا ہے، چنانچہ خواص کا تَوَکُّل  جیسا کہ مُشاہَدہ اور مَعانِیِ رَضا کے تذکرے میں اور عام لوگوں کے تَوَکُّل کا تذکرہ اچھّی و بُری تقدیر پر اِیمان لانے کے ضِمْن میں بیان ہو چکا ہے ۔

چار۴ اوصافِ باری تعالیٰ

اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے یہ خَبَردے رکھی ہے کہ وُہی رازِق ہے جیسا کہ وہ خالِق ہے اور جیسا کہ وہ زندہ کرنے والا اور موت دینے والا ہے۔ لہٰذا جب اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے ان چاروں اَوصَاف کو قرآنِ کریم میں حِکْمَت و قُدْرَت کی ترتیب کے ساتھ اِکٹھا ایک ہی جگہ ذِکْر فرمایا ہے تو یہ کیسے مُمکِن ہے کہ ان سب کا حکْم مختلف ہو یا اَسباب کے ظُہُور اور واسِطوں کے پائے جانے کی وجہ سے ان کے اَوصَاف ایک دوسرے سے الگ ہوں۔ چنانچہ،

فرمانِ باری تعالیٰ ہے:

اَللّٰهُ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ ثُمَّ رَزَقَكُمْ ثُمَّ یُمِیْتُكُمْ ثُمَّ یُحْیِیْكُمْؕ- (پ ۲۱، الروم:۴۰)           

ترجمۂ کنز الایمان:اللہ ہے جس نے تمہیں پیدا کیا پھر تمہیں روزی دی پھر تمہیں مارے گا پھر تمہیں جِلائے (زندہ کرے) گا۔

جس طرح باقی تین۳ کام کرنے والا ایک ہی ہے تو چوتھے کام  یعنی رِزق کا ذِمَّہ دار بھی وُہی ہو گا۔

حقیقی خالق کون؟

کیا آپ نہیں دیکھتے کہ آپ کبھی یہ نہیں کہتے کہ مجھے میرے باپ نے پیدا کیا ہے اگرچہ وہ آپ کی پیدائش کا سَبَب ضَرور بنا ہے؟ اور نہ کبھی یہ کہتے ہیں کہ اس نے مجھے زِنْدَگی دی اور فلاں نے موت، اگرچہ زِنْدَہ کرنے اور موت دینے میں وہ واسِطہ ہوں۔ اس لیے کہ یہ ظاہِر شِرک ہے جس کا بُرا ہونا مَشْہُور ہے، لہٰذا ایسا نہیں کہا جاتا۔ اسی لیے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے اِرشَادفرمایا:

اَفَرَءَیْتُمْ مَّا تُمْنُوْنَؕ(۵۸)ءَاَنْتُمْ تَخْلُقُوْنَهٗۤ اَمْ نَحْنُ الْخٰلِقُوْنَ(۵۹) (پ۲۷،الواقعة:۵۸، ۵۹)          

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن