دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Qoot ul Quloob Jild 2 | قوت القلوب جلد دوم

book_icon
قوت القلوب جلد دوم

کے مُطابِق میں مُشْرِک ہوں گا۔مَنْقُول ہے کہ جس نے آنے والے کل کی روزی کا اِہتِمام کیا اور آج اس کے پاس آنے والے کل کی  خوراک مَوجُود ہو تو اس پر ایک گناہ لکھا جائے گا۔ [1]

حضرت سَیِّدُنا سُفْیَان ثَوری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں کہ اگر روزہ دار دن کے آغاز میں ہی رات کے کھانے کا اِہتِمام کرنے لگے تو ا س پر ایک گناہ لکھ دیا جاتا ہے۔ حضرت سَیِّدُنا سَہْل بن عبداللہ تُسْتَری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں کہ ایسا کرنا روزہ دار کے روزے میں نقص پیدا کر دے گا۔ آپ رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ فرمایا کرتے کہ میں بصرہ میں ایک بَہُت بڑے قبرستان کو جانتا ہوں جس کے مُردوں کو صبح شام جنّت سے ان کا رِزق دیا جاتا ہے، وہ اپنے جنّتی گھروں کو بھی دیکھتے رہتے ہیں، مگر ان پر غم و کَرْب کی ایک ایسی کَیْفِیَّت طارِی ہے کہ اگر وہ غم اور کَرْب تمام بصرہ والوں پر تقسیم کر دیا جائے تو سب مر جائیں۔ عَرْض کی گئی: اور وہ غم کیا ہے؟ اِرشَاد فرمایا: جب وہ صُبْح کا کھانا کھا لیتے تھے تو کہا کرتے تھے کہ شام کو کیا کھائیں گے؟ اور جب شام کا کھا لیتے تھے تو کہتے کہ صُبْح کو کیا کھائیں گے؟ اور ایک مرتبہ اِرشَادفرمایا کہ انہیں تَوَکُّل میں سے کچھ حاصِل نہ تھا۔

مقاماتِ توکل

یہ مَقامات تَوَکُّل کی فضیلت پر مُشْتَمِل ہیں اور ان سے بُلَند تر جو مَقام ہیں ان کا کسی کِتاب میں تحریر کرنا مُناسِب نہیں کیونکہ ان کا تعلّق صِدِّیْقِین کے مُکاشَفے اور عارِفین کے مُشاہَدے سے ہے۔ مثلاً اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے انہیں اِسْمِ اَعْظَم سے آگاہ فرما کر کلمہ”کُن“ کا مَقام عطا فرمایا (یعنی وہ آنے والے زمانے میں جس شے کے ہونے کا  اِرادہ کرتے ہیں وہ فوراً ہو جاتی ہے)، مگر انہوں نے ” کان“(یعنی تقدیر کے لکھے پر یقین ہونے)کی وجہ سے”کُن“کے اِسْتِعمال میں کوئی رَغْبَت نہ رکھی، اس لیے کہ ان کا اپنے پروردگار پر کامِل بھروسا تھا، نیز انہیں اس بات سے بھی حَیا آئی کہ وہ اس کلمے کی طَاقَت کا قُدْرَتِ باری تعالیٰ کے ساتھ مُقابَلہ کریں اور اپنے رب کی تقدیر سے غافِل ہو جائیں یا اس کے کلمہ ”کُن“کہنے میں اس کی مُشَابَہَت اِخْتِیار کریں،کیونکہ ان کے نزدیک ان کے رب کی تدبیر زیادہ پختہ اور یقینی تھی اور وہ اَنجام سے بھی خوب آگاہ و باخبر تھے۔ یہ لوگ ہماری اِسْتِطاعَت اور عِلْم سے حَد دَرَجَہ زیادہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی عَظَمَت و بُزرگی سے آگا ہ ہیں۔

توکل کی مزید دو۲صورتیں

غِذا اور خوراک کے مُعامَلے میں اللہ عَزَّ  وَجَلَّ پر تَوَکُّل رکھنا بُزرگانِ دین رَحِمَہُمُ اللہ الْمُبِین کے نزدیک فَرْض ہے، بلکہ اَسلاف تو بارگاہِ خداوندی میں اپنی غِذا کا ذِکْر کرنے سے بھی حَیا مَحْسُوس کرتے تھے۔

اسی طرح شیریں وتلخ اور اچھّی وبُری تقدیر کو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی حِکْمَت اور عَدْل جانتے ہوئے اس کے سامنے سرِ تسلیم خَم کرنا بھی تَوَکُّل ہی کی ایک صُورَت ہے۔ جیسا کہ سرکارِ مدینہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے:ہر شے کا تعلّق قَضا و قَدَر سے ہے یہاں تک کہ عِجز و دانائی بھی اسی سے ہے۔[2]

ایك رِوایَت میں ہے کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے مَحبوب، دانائے غُیوب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِرشَاد فرمایا:جان لو کہ جو شے تجھے (ابھی تک)ملی نہیں وہ کبھی نہ ملے گی اور جو مل چکی وہ چھوڑ کر نہ جائے گی ۔ [3]

فرمانِ باری تعالیٰ ہے:

وَ كُلُّ صَغِیْرٍ وَّ كَبِیْرٍ مُّسْتَطَرٌ(۵۳)(پ ۲۷، القمر:۵۳)

ترجمۂ کنز الایمان:اور ہر چھوٹی بڑی چیز لکھی ہوئی ہے۔

اِیمان کے چند فرائض

ان اَشیا کا عِلْم اور ان کے حُصُول پر قلبی اِطمینان اور عَقْلی سُکُون کا پایا جانا، رائے اور عَقْل میں اِضْطِرَاب کا اور تشبیہ و تمثیل کے ذریعے نِزاع (جھگڑے)کا نہ پایا جانا ایسی باتیں ہیں جو سَلَف صالحین رَحِمَہُمُ اللہ الْمُبِین کے نزدیک اِیمان کے فرائض سے تعلّق رکھتی ہیں اور کسی بھی بندے کا اِیمان اس وَقْت تک دُرُسْت نہیں ہو سکتا  جب تک کہ وہ ان تمام باتوں کو تسلیم نہ کر لے۔ مگر ان باتوں کا کوئی تعلّق تَوَکُّل سے نہیں۔

ایمان وتقدیر کا باہمی تعلق

حضرت سَیِّدُنا اِبْنِ عبّاس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے مَنْقُول ہے:تقدیر نِظامِ توحید ہے، جس نے توحیدِ باری  تعالیٰ کا تو اِقْرَار کیا مگر تقدیر کو جھٹلایا تو اس کا تقدیر کو جھٹلانا اس کی توحید میں عیب کا باعِث ہو گا۔ [4]

(صَاحِبِ کِتاب اِمامِ اَجَلّ حضرت سَیِّدُنا شیخ ابُو طالِب مکّی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں)آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے ہر قِسْم کی تقدیر پر اِیمان لانے کو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی مَشِیَّت اور اس کا حکْم قرار دیا کہ یہ اس دھاگے کی مَانِنْد ہے جس میں موتی پَرَوئے گئے ہوں۔ مزید فرماتے کہ توحید کا موتی بھی تقدیر کے دھاگے میں پرویا ہوا ہے۔ جب دھاگہ ٹوٹتاہے تو اس کے موتی گر پڑتے ہیں اسی طرح جب بندہ تقدیر کو جھٹلاتا ہے تو اس کا اِیمان ضائع ہو جاتا ہے۔

فرض اورمستحب توکل

تَوَکُّل فَرْض بھی ہوتا ہے اور مُسْتَحَب بھی، فَرْض تَوَکُّل اِیمان سے مَربُوط ہے اور اس سے  مُراد یہ ہے کہ ہر قِسْم کی تقدیر کو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی طرف سے مان کر سرِ تسلیم خَم کر دیا جائے اور اس بات کا پختہ یقین ہو کہ یہ سب اس کی قَضا و قَدَر ہے۔ کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے اپنی ذات کی قَسَم یاد فرما کر اس شخص کے اِیمان کی نَفِی بیان فرمائی ہے جو اپنے اِخْتِلافی اُمُورمیں اس کے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا حکْم نہیں مانتا۔ چنانچہ اِرشَادفرمایا:

فَلَا وَ رَبِّكَ لَا یُؤْمِنُوْنَ حَتّٰى یُحَكِّمُوْكَ فِیْمَا شَجَرَ بَیْنَهُمْ ثُمَّ لَا یَجِدُوْا فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَیْتَ وَ یُسَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا(۶۵)(پ ۵، النسآء:۶۵)

 



[1]………الزھد لاحمد بن حنبل ،  زھد محمد بن سیرین ،  رقم:  ۱۹۰۳ ، ص۳۲۸

[2]………مسلم ،  کتاب القدر ،  باب کل شیء بقدر ، ص۱۴۲۸ ، حدیث:  ۲۶۵۵

[3]………ابن ماجه ،  کتاب السنة ، بابفیالقدر ، ۱/ ۵۹ ، حدیث:  ۷۷ ، بتقدم وتاخر

[4]………السنة لعبد اللہ بن احمد ،  سئل عن القدرية والصلاة خلفهم وما جاء فيهم ، ۲/ ۴۲۲ ، حدیث:  ۹۲۵

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن