30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مُراد یہ ہے کہ جب انہوں نے عَمَل کیا تو اپنے عَمَل پر صَبْر کا دامَن ہاتھ سے نہ چھوڑا، اس کے بعد اپنے صَبْر کے مُعامَلے میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ پر بھروسا کیا تو اس نے انہیں بہترین اَجَر و اِنعام سے نوازا۔
باطِن کے مُتعلّق ارشادِ خداوندی
ان کے باطِن کے مُتعلِّق آگاہ کرتے ہوئے اِرشَادفرمایا:
اِنَّمَا نُطْعِمُكُمْ لِوَجْهِ اللّٰهِ لَا نُرِیْدُ مِنْكُمْ جَزَآءً وَّ لَا شُكُوْرًا(۹)(پ۲۹،الدھر:۹)
ترجمۂ کنز الایمان:ہم تمہیں خاص اللہ کے لیے کھانا دیتے ہیں تم سے کوئی بدلہ یا شُکْر گزاری نہیں مانگتے۔
مَعْلُوم ہوا خَوفِ الٰہی نے ان کی خواہش ہی خَتْم کر دی،اس آیتِ مُبارَکہ میں (مِنْكُمْ)ایک عجیب اور عُمدہ صُورَت ہے، لُغَوِی اِعْتِبَارسے یہ آیَتِ مُبارَکہ کے باطِنی مَفہوم سے مُتعلِّق ہے۔ اس لیے کہ بَسا اَوقات اس آیَتِ مُبارَکہ سے یہ مُراد بھی لی جا سکتی ہے کہ ہم تم سے عِوَض میں کوئی بدلہ نہیں چاہتے اور یہ بھی مُراد لی جاسکتی ہے کہ ہم نے تمہارے ساتھ جو حُسْنِ سُلُوک کیا ہے اس کے بدلے میں کوئی عِوَض نہیں چاہتے۔ جیسا کہ فرمانِ باری تعالیٰ ہے: وَ لَوْ نَشَآءُ لَجَعَلْنَا مِنْكُمْ مَّلٰٓىٕكَةً فِی الْاَرْضِ یَخْلُفُوْنَ(۶۰) (پ ۲۵، الزخرف:۶۰) ترجمۂ کنز الایمان:اور اگر ہم چاہتے تو زمین میں تمہارے بدلے فرشتے بَساتے۔ )یہاں یہ مُراد نہیں ہے کہ اِنسانوں میں سے کسی کو فرشتہ بناتے بلکہ مُراد یہ ہے کہ تمہارے بدلے فرشتوں کو زمین میں بَسایا جاتا۔
یہ مذکورہ آیَتِ مُبارَکہ کی دو۲ توجیہوں میں سے ایک توجیہ ہے جو دوسری سے اعلیٰ و عُمدہ ہے۔ جبکہ ظاہِری توجیہ یہ ہے کہ (كُمْ) میں کاف اور میم کھلانے والوں کے نام ہوں، یعنی ہم (كُمْ) کے پاس جو جزا یعنی بدلہ ہے وہ چاہتے ہیں نہ اس کی شُکْرگزاری یعنی حُسْنِ تعریف کے طَلَب گار ہیں۔چنانچہ جب انہوں نے اپنے پروردگار عَزَّ وَجَلَّسے کوئی عِوَض طَلَب نہ کیا ، اس لیے کہ انہوں نے یہ کام اس کی رَضا کے حُصُول کے لیے کیا تھا اور اس کے علاوہ لوگوں سے کوئی عِوَض یا کوئی بَدَل بھی نہ چاہا ، بلکہ عَرْض کی:( اِنَّا نَخَافُ مِنْ رَّبِّنَا(پ ۲۹، الدھر:۱۰) ترجمۂ کنز الایمان:بے شک ہمیں اپنے رب کا ڈر ہے۔ ) تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے انہیں بہترین جزا سے نوازا اور ان پر اپنی عَطا اور کَرَم کی خوب بارِش برسائی۔ چنانچہ اِرشَاد فرمایا:
وَ سَقٰىهُمْ رَبُّهُمْ شَرَابًا طَهُوْرًا(۲۱)اِنَّ هٰذَا كَانَ لَكُمْ جَزَآءً وَّ كَانَ سَعْیُكُمْ مَّشْكُوْرًا۠(۲۲) (پ ۲۹، الدھر: ۲۱، ۲۲)
ترجمۂ کنز الایمان:اورانہیں ان کے رب نے ستھری شراب پلائی ان سے فرمایا جائے گا یہ تمہارا صِلہ ہے اور تمہاری محنت ٹھکانے لگی۔
جب انہوں نے جزا طَلَب کی نہ شکرگزاری کے طالِب ہوئے تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے شَرابِ طَہُور کو ان کی جزا بنا دیا اور ان کی کوشِش کو اپنے ہاں شَرْفِ قَبولِیَّت سے نوازا۔
اس کے بعد اللہ عَزَّ وَجَلَّ پر تَوَکُّل رکھنے کا مرتبہ یہ ہے کہ بندہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے حکْم کے سامنے سَر کو جھکا دے اور اس پر راضی رہے۔ چنانچہ حضرت سَیِّدُنا یعقوب عَلَیْہِ السَّلَام نے جب اللہ عَزَّ وَجَلَّ پر تَوَکُّل رکھتے ہوئے اس کے حکْم کے سامنے سرِ تسلیم خَم کر دیا تو یوں فرمایا:
اِنِ الْحُكْمُ اِلَّا لِلّٰهِؕ-عَلَیْهِ تَوَكَّلْتُۚ- (پ ۱۳، یوسف:۶۷)
ترجمۂ کنز الایمان:حکْم تو سب اللہ ہی کا ہے میں نے اسی پر بھروسا کیا۔
اس لیے کہ بندہ جب اپنے نَفْس کی کسی پسندیدہ شے کوچاہتاہے تو بَسا اَوقات وہ ہر شے میں اپنی چاہت نہیں پاتا، البتہ اسے یہ یقین ضَرور ہوتا ہے کہ ہر شے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی مَشِیَّت میں ہے ، لہٰذا اسے چاہئے کہ جب اس کی نِیَّت اپنے پروردگار کے اِرادے کے مُوَافِق نہ ہو تو وہ اپنی نِیَّت کو اپنے رب کی مَشِیَّت کے مُطابِق بنا لے،بلکہ ہونا تو یہ چاہیے کہ اسے اپنے پرورگار کی مَشِیَّت زیادہ مَحْبُوب ہو اور وہ اسی کو بہتر جانے، اس لیے کہ اس کا پروردگار جس شے کا اِرادہ فرماتا ہے اس سے بندے پر کوئی سزا لازِم ہوتی ہے نہ اس کا رب اس سے ناراض ہوتا ہے۔ کیونکہ وہ شے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی مَحْبُوب و مُختار ہوتی ہے۔ اس لیے بندے کو چاہئے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی مَحبَّت کو اپنی پسند پر مُقدّم رکھے کیونکہ تمام اُمُورکا اَنْجَام اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہی کے لیے ہے۔ جیسا کہ اس نے مُتَّقِیْن کو شَرَف بخشا اور انہیں دُنْیَاوِی اُمُور سے دُور رکھتے ہوئے اِرشَادفرمایا:
وَ الْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِیْنَ(۸۳) (پ ۲۰، قصص:۸۳) ترجمۂ کنز الایمان:اور عَاقبت پرہیزگاروں ہی کی ہے۔
ہوتا وہی ہے جو اللہ چاہتا ہے
مَرْوِی ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے حضرت سَیِّدُنا موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام کی طرف وَحِی فرمائی:جب کوئی کام تمہاری مرضی کے مُطابِق نہ ہو تو اس بات پر راضی رہنا جو ہوکر رہے گی، اگر تم اس پر راضی نہ ہوئے بلکہ اپنی مرضی کے مُطابِق ہی کام کرنا چاہا تو میں تمہیں تمہاری مرضی (کے کام)میں تھکادوں گا اور ہوگا وہی جو میں چاہتا ہوں۔
سَیِّدُنا حسن بصری کے توکل کی انتہا
حضرت سَیِّدُنا حَسَن بصری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں: میں چاہتا ہوں کہ تمام بصرہ والے میرے عَیال ہوتے اور میرے پاس دینار کا ایک دانہ ہو(تو بھی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کےفَضْل سے ان میں کوئی بھوکا نہ رہےگا)۔
(صَاحِبِ کِتاب اِمامِ اَجَلّ حضرت سَیِّدُنا شیخ ابُو طالِب مکّی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں)یہ قول تَوَکُّل کی اِنتِہا ہے اور یہ حال اسی وَقْت حاصِل ہوتا ہے جب بندہ اَحکامِ خداوندی کے سامنے اپنا سَر جھکا دے اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی جیسی بھی رَضا ہو اس پر راضی رہے، اس لیے کہ یہ کلام عَقْل سے بالاتر ہے۔
اسلاف کے نزدیک اپنے رزق کا اہتمام کرنا
حضرت سیِّدُنا وُہَیْب بن وَرْد مکی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرمایا کرتے تھے کہ اگر سارا آسمان تانبے کا اور ساری زمین سیسے کی ہوجائے، پھر بھی میں اپنے رِزْق کا اِہتِمام کروں تو میرے خَیال
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع