دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Qoot ul Quloob Jild 2 | قوت القلوب جلد دوم

book_icon
قوت القلوب جلد دوم

مَنْقُول ہے کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ آخِرَت کی نِیَّت پر دنیا تو عَطا کرتا ہے مگر دنیا کی نِیَّت پر آخِرَت عَطا نہیں فرماتا۔[1] جس کا سَبَب آخِرَت کا اعلیٰ اور دنیا کا گھٹیا ہونا ہے۔

 

دنیا و آخِرَت کی کھیتی سے مُراد

امیر المومنین حضرت سَیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمفرماتے ہیں:یاد رکھو! دنیا کی کھیتی سے مُراد مال اور آخِرَت کی کھیتی سے مُراد نیک عَمَل ہے۔

آخِرَت میں زِیادَتی سے مُراد

ایک قول کے مُطابِق آخِرَت میں زِیادَتی سے مُراد اس شخص کے دَرَجات کی بُلَندی ہے جس کی نِیَّت اور اِرادہ آخِرَت کا ہو اور وہ اس کی خاطِر عَمَل بھی کرے۔

کون کس کی خاطر پیدا ہوا؟

خواص ان کاموں میں مَصروف ہو گئے جو ان کے سُپُرد کیے گئے تھے اور وہ ان کاموں کو بھی خود ہی کرنے لگے جن  کی ذِمَّہ داری دوسروں کو دی گئی تھی مگر انہوں نے منہ موڑ لیا اور کوئی کام نہ کیا، چنانچہ کَسْب میں دوسروں کو اور ان کی مِثل دیگر اَسبابِ دنیا کو ان خواص کا نائب اور قائم مقام بنا دیا گیا۔ جیسا کہ اَخبارِ داودی میں مَرْوِی ہے کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اِرشَادفرماتا ہے: میں نے محمد ( صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم )کو اپنی خاطِر،  آدَم کو محمد کی خاطِر اور باقی سب کچھ آدَم کی خاطِر  پیدا کیا، اب جو شخص اس شے میں مَصروف ہو گا جو میں نے اس کی خاطِر پیدا کی ہے تو وہ شے اسے مجھ سے دُور کر دے گی مگر جو شخص (سب سے منہ موڑ کر) میری یاد میں مَشْغُول ہو گا میں ہر اس شے کا رخ اس کی طرف کر دوں گا جو میں نے اس کی خاطِر پیدا کی ہے۔

اَذیت پر صبر

خواص کا تَوَکُّل یہ ہے کہ وہ کسی کے قول و فعل سے ہونے والی اَذِیَّت پر صَبْر کریں۔ کیونکہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے اپنے مَحْبُوب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو ایسا کرنے کا حکْم دیا ہے۔ چنانچہ اِرشَاد فرمایا:

فَاتَّخِذْهُ وَكِیْلًا(۹)وَ اصْبِرْ عَلٰى مَا یَقُوْلُوْنَ(پ۲۹،المزمل:۹، ۱۰)

ترجمۂ کنز الایمان:تو تم اسی کو اپنا کارساز بناؤ اور کافِروں کی باتوں پر صَبْر فرماؤ۔

 اس کے عِلاوہ دیگر رسولوں کا یہ قول بھی قرآنِ کریم میں یوں ذِکْر فرمایا:

وَ لَنَصْبِرَنَّ عَلٰى مَاۤ اٰذَیْتُمُوْنَاؕ-وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُتَوَكِّلُوْنَ۠(۱۲)( پ۱۳،ابراھیم:۱۲)                                              

ترجمۂ کنز الایمان:اور تم جو ہمیں ستا رہے ہو ہم ضَرور اس پر صَبْر کریں گے اور بھروسا کرنے والوں کو اللہ ہی پر بھروسا  چاہیے۔

اسی طرح اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے اپنے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو یہ حکْم بھی اِرشَاد فرمایا:

اُولٰٓىٕكَ الَّذِیْنَ هَدَى اللّٰهُ فَبِهُدٰىهُمُ اقْتَدِهْؕ-(پ ۷، الانعام:۹۰)    

ترجمۂ کنز الایمان:یہ ہیں جن کو اللہ نے ہِدَایَت کی تو تم انہیں کی راہ چلو۔

مَعْلُوم ہوا اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے دو۲ جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَر صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو اس مُعَامَلے میں دیگر انبیاو رُسُل کی پَیروی کرنے کا حکْم اِرشَادفرمایا۔ چنانچہ ایک جگہ اِرشَاد فرمایا:

وَ دَعْ اَذٰىهُمْ وَ تَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِؕ- (پ۲۲،الاحزاب:۴۸)

ترجمۂ کنز الایمان:اور ان کی اِیذا پر دَرْگُزَر فرماؤ اور اللہ پر بھروسا کرو۔

ایک مَقام پر اِرشَادفرمایا:

فَاصْبِرْ كَمَا صَبَرَ اُولُوا الْعَزْمِ مِنَ الرُّسُلِ (پ۲۶،الاحقاف:۳۵)           

ترجمۂ کنز الایمان:تو تم صَبْر کرو جیسا ہِمَّت  والے رسولوں نے صَبْر کیا۔

کسی عارِف کا قول ہے کہ کسی کے لیے تَوَکُّل میں اس وَقْت ہی کوئی مَقام ثابِت ہو سکتا ہے جب اس کے نزدیک مَخلوق کی طرف سے کی گئی مَدْح و ذَمّ کی حَیْثِیَّت برابر ہو کر ان کا اَثر خَتْم ہو جائے، یہاں تک کہ اسے اَذِیَّت بھی دی جائے تو وہ اس پر صَبْر کرے، اس طرح اس کا مَخلوق سے راحَت پانا خَتْم ہو جائے گا اور اس کی نِگاہیں اپنے خالِق عَزَّ  وَجَلَّ کے عِلْم پر رہیں گی۔

حُسْنِ مُعامَلہ پر صبر

حُسْنِ مُعامَلہ پر اِسْتِقامَت اِخْتِیار کرنے پر صَبْر کا مُظاہَرہ کرنا اور مَخلوق سے بَاہَم سامنا ہونے کے وَقْت اپنی خواہش کو تَرْک کر دینا بھی تَوَکُّل ہے، اس لیے کہ اس صُورَت میں بندہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ سے حَیا مَحْسُوس کرتا ہے، اس کی بُزرگی و عَظَمَت کا لِـحَاظ رکھتا ہے، اس کے خوف اور مَحبَّت کو بھی پیشِ نَظَر رکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے

کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے ایسے لوگوں  کے ظاہِر و باطِن کی تعریف فرمائی ہے۔

ظاہِر کے مُتعلّق ارشادِ خداوندی

مذکورہ لوگوں کے ظاہِر کے مُتعلِّق اِرْشَادِ باری تعالیٰ ہے:

نِعْمَ اَجْرُ الْعٰمِلِیْنَۗۖ(۵۸) الَّذِیْنَ صَبَرُوْا وَ عَلٰى رَبِّهِمْ یَتَوَكَّلُوْنَ(۵۹) (پ۲۱،العنکبوت:۵۸، ۵۹)                        

ترجمۂ کنز الایمان:کیا ہی اَچھّا اَجَر کام والوں کا وہ جنہوں نے صَبْر کیا اور اپنے رب ہی پر بھروسا رکھتے ہیں۔

 



[1]………الزھد لابن المبارك ،  باب ھوان الدنیا علی اللہ ، ص۱۹۳ ، حدیث:  ۵۴۹

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن