دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Qoot ul Quloob Jild 2 | قوت القلوب جلد دوم

book_icon
قوت القلوب جلد دوم

دو۲عالَم کے مالِک و مختار باذنِ پروردگار، مکّی مَدَنی سرکار صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کا فرمانِ عالیشان ہے: عُلَما رسولوں کے اَمین ہوتے ہیں جب تک کہ اُمُورِ دنیا میں داخِل نہ ہوں اور جب اُمُورِ دنیا میں شریک ہو جائیں تو اپنے دین کے مُعَامَلے میں ان سے بچو۔[1]  ایک رِوایَت میں ہے کہ جس نے ہمارے دین میں کوئی ایسی بات پیدا کی جو اس میں نہ تھی تو وہ مَرْدُود ہے۔[2]

حضرت سَیِّدُنا  عیسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام  سے عرض کی گئی:فتنے کے لحاظ سے سب سے بڑا انسان کون ہے؟ آپ عَلَیْہِ السَّلَام  نے اِرشَاد فرمایا:ایک عالِم کی ایسی لَغْزِش کہ جب پورا عالَم اس کی لَغْزِش کی وجہ سے گناہ میں مبتلا ہو جائے۔

دو۲جہاں کے تاجْوَر صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے:مجھے اپنی اُمّت کے جن باتوں میں مبتلا ہو جانے کا خوف ہے ان میں عالِم کی لَغْزِش اور مُنَافِق کا قرآنِ کریم میں جھگڑنا بھی ہے۔[3]

لغزش کھانے والے عالم کی مثال

ایک بُزرگ فرماتے تھے کہ عالِم جب ٹھوکر کھائے تو اس کی مثال ڈوبنے والی اس کشتی کی طرح ہوتی ہے جو اپنے ساتھ بَہُت سی مخلوق کو بھی لے ڈوبتی ہے۔ایک قول میں ہے کہ لَغْزِش کھانے والے عالِم کی مِثال سورج گَرَہْن کی طرح ہے جو چیخ چیخ کر لوگوں سے کہتا ہے: اے غافِلو! نماز پڑھو۔ مگر (اس کی کوئی نہیں سنتا بلکہ) عام لوگ اسے خوف و گھبراہٹ کی عَلامَت و نِشانی سمجھتے ہیں۔

اُمّت کودھوکا دینے والے پر لعنت

حُسنِ اَخلاق کے پیکر، مَحبوبِ رَبِّ اَکبر صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عِبْرَت  نشان ہے:جس نے میری اُمّت کودھوکا دیا اس پر اللہ عَزَّ  وَجَلَّ  ، اسکے فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت۔ عرض کی گئی: یارسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!اُمَّت کودھوکادینے سے کیا مُراد ہے؟اِرشَادفرمایا:اسلام میں کوئی نئی بات پیدا کر کے لوگوں کو اس پر عَمَل کرنے کی ترغیب دلانا(اُمّت کو دھوکا دینا ہے)۔ [4]

عالِم کی غلطی سارے آفاق تک جا پہنچتی ہے

حضرت سَیِّدُنا ابن عبّاس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں کہ عالِم کے لیے اس کی پیروی کرنے والوں کی جانِب سے ہلاکت ہے اور ان پیروی کرنے والوں کے لیے عالِم کی جانِب سے ہلاکت وبربادی ہے۔ اس طرح کہ ایک عالِم غَلَطی کرتا ہے تو لوگوں کی ایک کثیر جَماعَت اس کی پیروی کرنے لگتی ہے۔ پھر یہ غَلَطی سارے آفاق تک جا پہنچتی ہے۔

بڑے بڑے جرموں اور گناہوں کی چند مثالیں

٭… (صاحِبِ کتاب اِمامِ اَجَلّ حضرت سَیِّدُنا شیخ ابُو طالِب مکّی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں) میں کسی ایسے انسان کو نہیں جانتا جس نے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ   کے دین میں نئی بات ایجاد کرنے سے بڑھ کر کوئی جرم کیا ہو یعنی جس نے کِتابُ اللہ اور عِلمِ مَعْرِفَت کے مُتَعَلِّق ایسی باتیں کیں جن کا اللہ عَزَّ  وَجَلَّ   نے حکم نہیں دیا اور سرورِ کائنات صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی میٹھی میٹھی سنتیں جو کہ مخلوق پر اللہ عَزَّ  وَجَلَّ   کی حجّت اور بندگانِ خدا کو مَقامِ قُرب تک پہنچانے کا ذریعہ ہیں، کی بھی پروا نہ کی تو اس نے اپنی ان بدعات سے لوگوں کو گمراہ کیا۔

٭… جو شخص دین میں خِلافِ سنّت  کوئی بِدْعَت شُروع کرے اور کِتاب و سنّت  کو چھوڑ کر اس بِدْعَت (کو پھیلانے)کے پیچھے پڑ جائے اور مومنین کے راستے کو بالکل چھوڑ دے تو ایسا شخص اس شخص کے مُقابَلے میں بڑا مُجرِم ہے جو اُمُورِ دُنیا کی کَثْرَت کا شِکار اور نفسانی شہوات کا مُرْتکِب ہو۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے لوگوں کے مال و جان پر ظُلْم کرنے والا اپنی جان پر ظُلْم کرنے والے سے بڑا مُجرِم ہوتا ہے، کیونکہ جو اپنی جان پر ظُلْم کرتا ہے اس کا گناہ صِرف اسکے اور اس کے ربّ عَزَّ  وَجَلَّکے درمیان ہی ہوتاہے (کیونکہ اس کا تعلّق حُقُوقُ اللہ سے ہے)مگر جو دوسروں پر ظُلْم کرتا ہے اس کا جُرْم عظیم ہے اور اس کے نامۂ اَعمال کا حِساب ایسے ہی نہیں چھوڑ دیا جائے گا(کیونکہ اس کا تعلّق حُقُوقُ الْعِبَاد سے ہے)۔

٭ جو شخص دین کے مُعَامَلے میں حق و باطِل کو ملا کر خوبصورت انداز میں پیش کرتا ہے اس کا جُرْم بھی بَہُت بڑا ہے کیونکہ یہ طریقہ رسولوں کی شَریعَت کے آثار مِٹا دیتا ہے، لوگوں کو اِیمان والوں کے راستے سے ہٹا دیتا ہے اور ان کے اُخْرَوِی مُعَامَلات کو تباہ و برباد کر دیتا ہے۔

٭ یہ بھی بَہُت بڑا جُرْم ہے کہ ایک شخص گناہ کر کے اس کا اِنکار کر دے مگر خود کو اس شخص جیسا سمجھے جو اِعْتِرَافِ گناہ کر کے مَعْذرَت کر لیتا ہے۔ پس جو اِقرار کے بعد مُعافی مانگ لے اس پر اس شخص کی نِسْبَت اللہ کے عَفْو و کرم اور رحمت کی زیادہ اُمِّید ہوتی ہے جو اِقرارِ گناہ کرے نہ مُعافی مانگے۔

٭ اسی طرح عَمَلی طور پر اِفراط و تفریط کا شِکار ایک شخص اپنے نفس کی تو اِصلاح نہ کرے مگر علمی حقائق بیان کرے اور اللہ و رسول عَزَّ  وَجَلَّو صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی رضا کے لیے کِتاب و سنّت کے مُطابِق لوگوں کی اِصلاح کی کوشش بھی کرے تو اُمِّید ہے ایسے شخص کا حُسْنِ اِخلاص قبول ہو جائے اور عَفْو وکرم کی دولت مِل جانے سے اس کی ذاتی غَلَطِیوں کا بھی تَدارُک ہو جائے۔ لیکن وہ شخص جو دین کی خِدْمَت کی کوشش تو کرے مگر مسلمانوں میں ایسی بدعتیں پیدا کر دے جو کِتاب وسنّت کے مُخالِف ہوں تو اس کا جُرْم بَہُت بڑا ہے۔ گویا کہ اس نے مِلّتِ اسلامیہ اور شَریعَتِ مُطہّرہ ہی کو بدل دیا۔ یہ ایسا شخص ہے جس کے دل میں نِفاق ہے یہاں تک کہ اس بِدْعَت کی ترویج کی وجہ سے اس کے دل پر نِفاق کی مُہر لگا دی جاتی ہے۔

٭مسلمانوں میں کِتاب و سنّت کے خِلاف کوئی بات ایجاد کرنے والا اس شخص سے بڑا مجرم ہے جس کے گناہ صِرف اس کی اپنی ذات تک محدود ہوتے ہیں۔ یہ ایسے ہی ہے کہ ایک شخص کسی بادشاہ کی سلطنت کے مرکز میں بیٹھ کر اس کے اَحْکام کی خِلاف ورزی کرے اور پھر اس کے خِلاف عَلَمِ بَغاوَت بھی بُلَنْد کر دے تو یہ اس شخص سے بڑا مُجرِم ہے جو صِرف اس بادشاہ کی نافرمانی تو کرے مگر اس کی رَعیَّت ہی میں رہے اور بَغاوَت نہ کرے۔

 



[1]………جمع الجوامع ،  قسم الاقوال ،  حرف العین ، ۵/  ۲۰۱ ،  حدیث:  ۱۴۵۲۹

[2]………بخاری ،  کتاب الصلح ،  باب اذا اصطلحوا علیالخ ، ۲/ ۲۱۱ ،  حدیث:  ۲۶۹۷

[3]………معجم کبیر ، ۲۰/ ۱۳۸ ،  حدیث:  ۲۸۲

[4]………جمع الجوامع ،  قسم الاقوال ،  حرف المیم ، ۷/  ۲۱۳ ،  حدیث:  ۲۲۴۹۸

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن