دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Qoot ul Quloob Jild 2 | قوت القلوب جلد دوم

book_icon
قوت القلوب جلد دوم

اپنی ذات کی قَسَم یاد فرمانے میں ان دونوں باتوں کو حَق ہونے کے اِعْتِبَار سے جَمْع فرمایا جبکہ دیگر قسمیں اَفعال کے ساتھ یاد فرمائیں تاکہ مخلوق کے دِل اَسباب کو دیکھ کر راحَت پائیں اور ان دونوں باتوں میں انہیں کوئی شک نہ رہے اور ان کے حَق ہونے کا بھی انہیں یقین ہو جائے۔ جیسا کہ اِرشَاد فرمایا:

فَوَرَبِّ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ اِنَّهٗ لَحَقٌّ (پ ۲۶، الذّٰریٰت: ۲۳)

ترجمۂ کنز الایمان:تو آسمان اور زمین کے رب کی قَسَم بے شک یہ قرآن حَق ہے۔

ایک مَقام پر اِرشَادفرمایا:

وَ یَسْتَنْۢبِــٴُـوْنَكَ اَحَقٌّ هُوَ ﳳ-قُلْ اِیْ وَ رَبِّیْۤ اِنَّهٗ لَحَقٌّ ﱢ (پ ۱۱، یونس:۵۳)           

ترجمۂ کنز الایمان:اور تم سے پوچھتے ہیں کیا وہ حَق ہے تم فرماؤ ہاں میرے رب کی قَسَم بے شک وہ ضَرور حَق ہے۔

قرآنِ کریم میں قسم بالذات کی مثالیں

قرآنِ کریم میں صِرف پانچ۵ مَقامات پر قَسَم بِالذَّات آئی ہے۔ چنانچہ،

(1) ۔۔۔۔سورةُ النسآء میں جو قَسَم ہےوہ تَسلیمِ اَحْکام پر اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے یاد فرمائی ہے۔ جیسا کہ اِرشَادہوتا ہے:

فَلَا وَ رَبِّكَ لَا یُؤْمِنُوْنَ حَتّٰى یُحَكِّمُوْكَ فِیْمَا شَجَرَ بَیْنَهُمْ ثُمَّ لَا یَجِدُوْا فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَیْتَ وَ یُسَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا (پ ۵، النسآء:۶۵)

ترجمۂ کنز الایمان:تو اے محبوب تمہارے رب کی قَسَم وہ مسلمان نہ ہوں گے جب تک اپنے آپَس کے جھگڑے میں تمہیں حاکِم نہ بنائیں پھر جو کچھ تم حکْم فرما دو اپنے دِلوں میں اس سے رُکاوَٹ نہ پائیں اور جی سے مان لیں۔

(2) ۔۔۔۔ سورةُ التَّغَابُن میں کافِروں اور ان کی اولاد (مع پَیروکاروں) کو دوبارہ زندہ کرنے پر قَسَم یاد فرماتے ہوئے یوں اِرشَاد فرمایا:

زَعَمَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَنْ لَّنْ یُّبْعَثُوْاؕ-قُلْ بَلٰى وَ رَبِّیْ لَتُبْعَثُنَّ (پ ۲۸، التغابن:۷)             

ترجمۂ کنز الایمان:کافِروں نے بَکا کہ وہ ہر گز نہ اٹھائے جائیں گے تم فرماؤ کیوں نہیں میرے رب کی قَسَم تم ضَرور اُٹھائے جاؤ گے۔

(3) ۔۔۔۔ سورةُ الْمَعَارِج یعنی (سَاَلَ سَآىٕلٌۢ) میں ایک مَخلوق کو اس سے بہتر مَخلوق کے ساتھ بَدَل دینے کے مُتَعَلِّق اس طرح اپنی ذات کی قَسَم یاد فرمائی:

فَلَاۤ اُقْسِمُ بِرَبِّ الْمَشٰرِقِ وَ الْمَغٰرِبِ اِنَّا لَقٰدِرُوْنَۙ(۴۰)عَلٰۤى اَنْ نُّبَدِّلَ خَیْرًا مِّنْهُمْۙ-وَ مَا نَحْنُ بِمَسْبُوْقِیْنَ(۴۱) (پ ۲۹، المعارج:۴۰، ۴۱)            

ترجمۂ کنز الایمان:تو مجھے قَسَم ہے اس کی جو سب پُورَبوں سب پچھموں کا مالِک ہے کہ ضَرور ہم قادِر ہیں کہ ان سے اچھّے بَدَل دیں اور ہم سے کوئی نِکَل کر نہیں جا سکتا۔

چوتھی اور پانچویں قَسَم كا تذكره پہلے ہو چکا ہے۔ جبکہ ان کے عِلاوہ جس قَدْر قسمیں ہیں وہ اَفعال پر یاد فرمائی گئی ہیں۔

قسم بالذات کی وجہ

اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے بندے کا رِزْق اس شخص کے سُپُرْد کر دیا ہے جو مَخلوق میں سے اس کی ذِمَّہ داری اُٹھا سکتا ہے، اگر اسے اس بندے کے کَسْب کی وجہ سے رِزْق نہ ملے تو کسی اور کے ہاتھوں اور کَسْب کے ذریعے اس تک اس کا رِزْق پہنچ جائے گا۔ مگر اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے خواص اُمُورِ آخِرَت اور قُرْبِ خداوندی کا سَبَب بننے والے نیک اَعمال کی بجاآوری اور عِبَادَت میں مَشْغُول ہو گئے کیونکہ انہیں عِبَادَتِ خداوندی بجا لانے کا ہی پابند بنایا گیا ،اگر وہ عِبَادَت نہ کریں گے تو ان کی جگہ کوئی دوسرا بھی نہ کرے گا اور نہ ایسا ہے کہ دنیا کی کوئی اور چیز ان کا بَدَل نہ بنے گی۔ کیونکہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کا فرمانِ عالیشان ہے:

وَ اَنْ لَّیْسَ لِلْاِنْسَانِ اِلَّا مَا سَعٰىۙ(۳۹) (پ ۲۷، النجم:۳۹)

ترجمۂ کنز الایمان:اور یہ کہ آدمی نہ پائے گا مگر اپنی کوشِش۔

ایک مَقام پر ہے:

وُجُوْهٌ یَّوْمَىٕذٍ نَّاعِمَةٌۙ(۸) لِّسَعْیِهَا رَاضِیَةٌۙ(۹) (پ ۳۰، الغاشیة:۸، ۹)   

ترجمۂ کنز الایمان:کتنے ہی منہ اس دن چین میں ہیں اپنی کوشِش پر راضی۔

اس لیے بھی کہ فرمانِ باری تعالیٰ ہے:

وَ الْاٰخِرَةُ خَیْرٌ وَّ اَبْقٰىؕ(۱۷) (پ ۳۰، الاعلٰی:۱۷)                      ترجمۂ کنز الایمان:اور آخِرَت بہتر اور باقی رہنے والی۔

ایک مَقام پر ہے:

وَ اللّٰهُ یُرِیْدُ الْاٰخِرَةَؕ- (پ ۱۰، الانفال:۶۷)                             ترجمۂ کنز الایمان:اور اللہ آخِرَت چاہتا ہے۔

آخرت کی کھیتی میں اِضافے سے مُراد

فرمانِ باری تعالیٰ ہے:

مَنْ كَانَ یُرِیْدُ حَرْثَ الْاٰخِرَةِ نَزِدْ لَهٗ فِیْ حَرْثِهٖۚ- (پ ۲۵، الشورٰی:۲۰)               

ترجمۂ کنز الایمان:جو آخِرَت کی کھیتی چاہے ہم اس کے لیے اس کی کھیتی بڑھائیں۔

(صَاحِبِ کِتاب اِمامِ اَجَلّ حضرت سَیِّدُنا شیخ ابُو طالِب مکّی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں)اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے دنیا کے رِزق میں اِضافے کے مُتعلِّق کچھ اِرشَادنہیں فرمایا۔ جبکہ زِیادَتی سے مُراد یہ ہے کہ وہ دنیا میں بندے کو جو کچھ عَطا کرے گا اس کا اس سے حِساب نہ لے گا، اس لیے کہ قِسْمَت میں اِضافہ نہیں ہوتا۔

آخِرَت کی نِیَّت پردنیا توملتی ہے مگر

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن