30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ہی نہیں، کیونکہ وہ آج بھی ایسا ہی ہے جیسا پہلے تھا۔
٭…زُہْد تَرْکِ تدبیر کا نام ہے۔
مَطْلَب یہ ہے کہ بندہ ہر اس سَبَب سے دُور ہو جائے یا اسے چھوڑ دے جو تدبیر کو لازِم کرے یا اس کا باعِث بنے۔ یہ مُراد نہیں کہ بندہ ان اَسباب پر یقین رکھنے والا اور ان کا مُسَبِّب بن جائے۔یہی تَرْکِ تدبیر کا مَفہوم ہے، کیونکہ اس مَقام پر تدبیر سے تمیز، اَحْکام کی بجا آوری اور اشیا کو ان کی مُناسِب جگہ رکھنا مُراد ہے۔ چنانچہ اَشیا کی مَوجُودَگی میں بندہ اس طرح کیسے ہو سکتا ہے، جبکہ وہ عَقْل مند ، صاحبِ تمیز ، عِلْم کا شیدائی اور اَحْکام پر عَمَل پَیرا بھی ہو؟
٭…ان اَشیا کو تَرْک کر دو جن کی تدبیر کی گئی ہے اور ان اَسباب میں زُہْد سے کام لو جن میں تمیز سے کام لیا گیا ہے یہاں تک کہ تم سے تدبیر و تقدیر کا حکْم ساقِط ہو جائے، چنانچہ ان اَسباب کے تَرْک کرنے سے تم تارِکِ تدبیر بن جاؤگے۔اس لیے کہ ان کے اَحْکام تم سے ساقِط ہوگئے ہیں اور تم نے ان پر عَمَل کرنے اور انہیں پیشِ نَظَر رکھنے کی وجہ سے راحَت پالی ہے ۔
تَرْک تدبیر کی یہی تفصیل ہے اور یہ مُتَوکِّلین کا حال ہے، اس لیے کہ مُتَوکِّل بَقَدْرِ كِفَایَت چیزوں کا اِہتِمام نہیں کرتا جیسا کہ ایک تَنْدُرُسْت شخص بیماری سے شِفایاب ہونے کے بعد دوائی کا اِہتِمام نہیں کرتا۔ البتہ! ایک مُتَوکِّل بعض اَوقات لَغْزِش سے قبل پرہیز کرتا ہے جس طرح ایک تَنْدُرُسْت شخص بعض اَوقات مَرَض آنے سے پہلے پرہیز کا اِہتِمام کرتا ہے۔
فرمانِ باری تعالیٰ ہے:
وَ مَا مِنْ دَآبَّةٍ فِی الْاَرْضِ اِلَّا عَلَى اللّٰهِ رِزْقُهَا (پ ۱۲، ھود:۶)
ترجمۂ کنز الایمان:اور زمین پر چلنے والا کوئی ایسا نہیں جس کا رِزْق اللہ کے ذمّۂ کَرَم پر نہ ہو۔
ایک مَقام پر اِرشَاد ہوتا ہے:
وَ كَاَیِّنْ مِّنْ دَآبَّةٍ لَّا تَحْمِلُ رِزْقَهَا ﰮ اَللّٰهُ یَرْزُقُهَا وَ اِیَّاكُمْ ﳲ (پ ۲۱، العنکبوت:۶۰)
ترجمۂ کنز الایمان:اور زمین پر کتنے ہی چلنے والے ہیں کہ اپنی روزی ساتھ نہیں رکھتے اللہ روزی دیتا ہے انہیں اور تمہیں۔
اَلْغَرَضْ مُتَوکِّل اپنے یقین کی بنا پر جان لیتا ہے کہ اسے جو کچھ ملتا ہے خواہ وہ ایک ذرّہ ہو یا اس سے زائد کوئی چیز،بلکہ اس کا رِزْق بھی اس کے خالِق عَزَّ وَجَلَّکی طرف سے ہے۔نیز اسے یہ بھی یقین ہوتا ہے کہ اس کا رِزْق اور جو کچھ اس کے نصیب میں ہے یقیناً اسے ملے گا خواہ وہ کسی بھی حال میں ہو اور جو کچھ اس کا ہے وہ کسی اور کو کبھی نہ ملے گا، اسی طرح جو کچھ کسی کا ہے وہ اسے کبھی نہ ملے گا۔
متوکل کے تین۳ مشاہدات
مُتَوکِّل اپنے پروردگار کی طرف سے عَطا کردہ اپنے نصیب اور اپنی قِسْمَت کو یقین کی اُس آنکھ سے دیکھتا ہے جو اسے تین۳ مُشاہَدات میں سے کسی ایک سے حاصِل ہوتی ہے۔
اگر اس کا مُشاہَدہ قریب ہوا تو اس کی نِگاہیں عَطا و بَـخْشِشْ میں سے اپنی قِسْمَت کے اس صحیفے پر رہتی ہیں جو اس کی پیدائش کے مَوْقَع پر صُورَت بننے کے وَقْت لکھا گیا، جس میں اس کا رِزْق، موت، کام اور بدبخت یا سَعَادَت مند ہونا سب لکھ دیا گیا تھا۔چنانچہ اگر اس کی قِسْمَت میں بدبخت ہونا لکھا گیا ہے تو مَخلوق میں سے کوئی بھی اسے سَعَادَت مند بنانے پر قادِر نہیں اور اگر اس کی قِسْمَت میں سَعَادَت مند ہونا لکھا گیا ہے تو مَخلوق میں سے کوئی بھی اسے بدبخت نہیں بنا سکتا۔ اسی طرح اگر اس کی قِسْمَت میں وَسیع رِزْق لکھا گیا ہے تو کوئی اس کا رِزْق کم نہیں کر سکتا اور اگر اس کا نصیب ہی کم ہے تو کوئی اس کی قِسْمَت میں وُسْعَت نہیں پیدا کر سکتا۔ اسی طرح اگر اللہ عَزَّ وَجَلَّ اسے کچھ عَطا کرے تو کوئی اس سے روک نہیں سکتا کہ وہ اپنی قِسْمَت سے مَحْرُوم ہو جائے کیونکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہی حقیقی عَطا فرمانے والا ہے اور اگر اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہی اپنی کسی حِکْمَت کی بنا پر اسے کچھ عَطا نہ کرے تو کوئی اسے کچھ دے نہیں سکتا کہ وہ مَرزُوق (یعنی جسے رِزْق دیا گیا ہو)بن جائے۔اسی طرح کوئی شخص اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی تخلیق کو بھی نہیں بَدَل سکتا کیونکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس کا خالِق ہے جس طرح کہ کوئی اس کا رِزْق تبدیل نہیں کر سکتا کیونکہ رِزْق دینے والا وُہی ہے جو پیدا کرنے والا ہے جیسا کہ تقدیر لکھنے والا وُہی ہے جو صُورَت بنانے والا ہے، اس لیے کہ یہ سب کچھ ایک ہی بار لکھ دیا گیا اور سب مُقَرَّر ہو چکا ہے۔
اگر اس کے مُشاہَدے نے بُلَندی حاصِل کی تو اس کی نِگاہیں لوحِ مَحْفُوظ کو دیکھیں گی کہ جس پر سب کچھ لکھ دیا گیا ہے، یہی اُمُّ الکتاب ہےجس سے اس کی قِسْمَت کا صحیفہ نَقْل کیا گیا تھا، چنانچہ اسے یہ یقین ہو جاتا ہے کہ اس کا رِزْق لوحِ مَحْفُوظ پر لکھ دیا گیا ہے اور اس میں کسی قوّت سے کوئی زِیادَتی ممکن ہے نہ کسی حیلے سے، عاجِزی سے اس میں کوئی کمی ہو سکتی ہے نہ مسکینی سے، جیسا کہ یہ لکھا ہوا دیکھ کر کہ وہ جنّتی ہے، اسے یقین کا یہ مرتبہ حاصِل ہوتا ہے کہ وہ یقیناً جنّت میں جائے گا،اب لوحِ مَحْفُوظ میں جنّتیوں میں نام لکھے جانے کے بعد اس پر ہے جیسے چاہے عَمَل کرے۔ چنانچہ فرمانِ باری تعالیٰ ہے:
وَ لَقَدْ كَتَبْنَا فِی الزَّبُوْرِ مِنْۢ بَعْدِ الذِّكْرِ اَنَّ الْاَرْضَ یَرِثُهَا عِبَادِیَ الصّٰلِحُوْنَ(۱۰۵)(پ ۱۷، الانبیآء:۱۰۵)
ترجمۂ کنز الایمان:اور بے شک ہم نے زَبور میں نصیحت کے بعد لکھ دیا کہ اس زمین کے وارِث میرے نیک بندے ہوں گے۔
(صَاحِبِ کِتاب اِمامِ اَجَلّ حضرت سَیِّدُنا شیخ ابُو طالِب مکّی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں کہ)آثار اور ہر شے کا رِزْق تین۳ مَقامات میں ایک ہی بار لکھ دیا گیا تاکہ عِلْم پختہ ہو اور قِسْمَت میں لکھے پر دِل کو تسکین ملے۔ چنانچہ سب سے پہلے ذِکْرِ اَوّل یعنی لَوحِ مَحْفُوظ میں یہ سب کچھ لکھا گیا، اس کے بعد زُبُرِ اُولیٰ یعنی صَحائف میں لکھا گیا اور پھر ہماری اس کِتاب میں نازِل کیا گیا کہ جس کی بنا پر ہم نے گزَشْتَہ اُمُورکو پہچانا۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع