دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Qoot ul Quloob Jild 2 | قوت القلوب جلد دوم

book_icon
قوت القلوب جلد دوم

عَطا فرماجس کی کوئی اَہَمِیَّت نہ ہو۔اس صُورَت میں اس کے پروردگار کے ہاں اس کا کل مال و مَتاع اِفلاس ہو گا اور تمام اَعمال میں اس کا حال اِفلاس بن جائے گا۔ یہی شخص مُضْطَر اور لاچار و مَـجْبُور ہے۔

اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے انہی لوگوں کی صِفَت تقویٰ و خوف سے بیان فرمائی،انہیں اپنے دین کی دعوت دینے اور لوگوں کو ڈرانے کا اہل قرار دیا  اور ان کے مُتعلِّق خَبَردی کہ وہ اپنے مَعْبُود اور لوگوں کے درمیان کسی سَبَب پر نَظَر رکھتے ہیں نہ کسی کی سِفَارِش پر۔ چنانچہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے اپنے پیارے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو انہیں کلامِ اِلٰہی سے ڈرانے کا حکْم اِرشَاد فرمایا، اس طرح انہیں اپنے کلام کا مُخَاطَب بنایا اور لوگوں کا رُخ ان کی طرف کر دیا جس طرح کہ ان کا رُخ اپنے مَحبوب، دانائے غُیوب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی جانِب کیا اور آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو ان سے کلام کرنے والا بنایا۔چنانچہ اِرشَاد فرمایا:

وَ اَنْذِرْ بِهِ الَّذِیْنَ یَخَافُوْنَ اَنْ یُّحْشَرُوْۤا اِلٰى رَبِّهِمْ لَیْسَ لَهُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ وَلِیٌّ وَّ لَا شَفِیْعٌ لَّعَلَّهُمْ یَتَّقُوْنَ(۵۱) (پ ۷، الانعام:۵۱)    

ترجمۂ کنز الایمان:اور اس قرآن سے انہیں ڈراؤ جنہیں خوف ہو کہ اپنے رب کی طرف یوں اٹھائے جائیں کہ اللہ کے سِوا نہ ان کا کوئی حمایتی ہو نہ کوئی سِفارِشی اس اُمِّید پر کہ وہ پرہیزگار ہو جائیں۔

پھر ہم جیسوں یعنی لَہْو و لَعْب اور فریب و غَفْلَت کا شِکار لوگوں کو ڈراتے ہوئے اِرشَاد فرمایا:

وَ ذَرِ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا دِیْنَهُمْ لَعِبًا وَّ لَهْوًا وَّ غَرَّتْهُمُ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا (پ ۷، الانعام:۷۰)                

ترجمۂ کنز الایمان:اور چھوڑ دے ان کو جنہوں نے اپنا دین ہنسی کھیل بنا لیا اور اُنہیں دنیا کی زِنْدَگی نے فریب دیا۔

حَول اور قوّت سے بری ہونا

کسی عالِمِ رَبّانی قُدِّسَ  سِرُّہُ النّوْرَانِی (یعنی حضرت سَیِّدُنا سَہْل تُسْتَرِی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی)سے عَرْض کی گئی: تَوَکُّل کیا ہے؟ تو انہوں نے اِرشَاد فرمایا: تَوَکُّل حَول اور قوّت سے بَری ہونا ہے، جبکہ حَول قوّت سے زیادہ سَخْت ہے۔ حَول سے مُراد حَرَکَت اور قوّت سے مُراد حَرَکَت پر ثابِت قَدَمی ہے کہ حَرَکَت ہی کسی فعل کی اِبْتِدَا ہے، مَطْلَب  یہ ہے کہ تَوَکُّل کی بنا پر اپنی کسی حَرَکَت کی طرف بھی مَت دیکھ ، کیونکہ سب سے پہلے حَرَکَت پیدا کرنے والی ذات اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی ہے اور اسی طرح حَرَکَت کے بعد اس پر ثابِت قَدَم رہنے کو بھی مَت دیکھ کہ حَرَکَت کے بعد اس پر ثابِت قَدَمی عَطا فرمانے والا بھی اللہ عَزَّ  وَجَلَّ ہی ہے، اس طرح اَوَّلِیَّت و آخِرِیَّت تیرے عَینُ الیقین کی بنا پر اس مُشاہَدے کی حقیقت بن جائے گی کہ وہی اَوَّل و آخِر ہے، یوں حقیقتِ توحید کی وجہ سے تیرے دِل سے مَـخْفِی شِرک تک نکل جائے گا اور یہی مُشاہَدۂ یقین ہے یعنی اس وَقْت تیرا مُشاہَدۂ  باری تعالیٰ کی بنا پر تَوَکُّل دُرُسْت ہو گا۔

توکل اور ترکِ تدبیر

ایک مرتبہ آپ (یعنی حضرت سَیِّدُنا سَہْل تُسْتَرِی) رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ نے اِرشَاد فرمایا: تَوَکُّل تَرْکِ تدبیر کا نام ہے، ہر تدبیر کی اصل رَغْبَت ہے اور ہر رَغْبَت کی اَصْل لمبی اُمِّید ہے، جبکہ لمبی اُمِّید کا تعلّق مَحبَّتِ بقا سے ہے اور یہ شِرک ہے۔ مُراد یہ ہے کہ ایسا چاہنے والا گویا کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے وَصْفِ بقا میں شریک ہونا چاہتا ہے۔

مزید فرماتے ہیں:اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے مخلوق کو پیدا فرمایا لیکن اپنے آپ کو حِجاب میں نہ رکھا، البتہ!ان کی تدبیر کو ہی ان کا حِجاب بنا دیا۔

ترکِ تدبیر سے مُراد

(صَاحِبِ کِتاب اِمامِ اَجَلّ حضرت سَیِّدُنا شیخ ابُو طالِب مکّی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں) تَرْکِ تدبیر کے مُتَعَلِّق حضرت سَیِّدُنا سَہْل تُسْتَری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی سے کثیر اَقوال مَنْقُول ہیں، بہتر یہ ہے کہ (انہیں بیان کرنے سے پہلے) تَرْکِ تدبیر کا مَفہوم سمجھ لیا جائے۔ چنانچہ تَرْکِ تدبیر سے ان کی مُراد یہ نہیں کہ بندے کو جو کچھ عَطا ہوا اور اس کے لیے مُباح کیا گیا اس میں تَصَرُّف کرنا چھوڑ دے اور ایسا ہو بھی کیسے سکتا ہے جبکہ ان کا قول ہے:جس نے کمائی کرنے پر طَعْن کیا اس نے سُنّت پر طَعْن کیا اور جس نے کمائی نہ کرنے پر طَعْن کیا اس نے توحید پر طَعْن کیا۔ گویا تَرْکِ تدبیر سے ان کی مُراد خواہشوں کا تَرْک کرنا ہے، یعنی جب کوئی کام ہو جائے تو اس وَقْت بندے کا یہ کہنا کہ یہ کام ایسے کیوں ہوا؟ اس طرح کیوں نہ ہوا؟ یا یہ کہے کہ اگر ایسا ہوتا تو یہ نہ ہوتا وغیرہ باتیں نہ کرنا تَرْکِ تدبیر ہے، اس لیے کہ ایسی باتیں تقدیر کے لکھے پر جَہَالَت کا مُظاہَرہ کرنے اور اس پر اِعْتِراض کرنے  کا باعِث  بننے کے علاوہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی قُدْرَتِ کامِلہ اور حِکْمَت کے مُشاہَدے کے خاتِمہ کا سَبَب بنتی ہیں۔

نیز یہ باتیں مَشِیَّتِ باری تعالیٰ کی رُوْیَت اور اس کی وجہ سے حکْم کے جاری ہونے سے غَفْلَت پر بھی دَلَالَت کرتی ہیں۔ مَطْلَب یہ ہے کہ جو باقی ہے اس میں اور جو کچھ بعد میں ہونے والا ہے اس میں تدبیر اِخْتِیار نہ کی جائے ، یعنی تم ان مُعَامَلات میں عَقْل و عِلْم کے ذریعے اپنی فِکْر و سوچ کو مَصروف نہ کرو، کہیں ایسا کرنا تمہارا تمہارے مَوجُودہ حال سے تعلّق خَتْم نہ کر دے کہ جسے اِخْتِیار کرنا تم پر لازِم و ضَروری تھا یہاں تک کہ اگر مستقبل میں پیش آنےوالے اَحْکام،کمی بیشی کی بنا پر تَرْکِ تدبیر وتقدیر یا تقدیم و تاخیر کی بنا پر ایک وَقْت سے دوسرے وَقْت میں یا ایک بندے سے دوسرے بندے کی طرف مُنْـتَقِل ہونےمیں کسی قِسْم کی کوئی کوتاہی پائی گئی تو اس وَقْت بھی آپ کا حال ماضی کی طرح ہو گا، کیا آپ نہیں دیکھتے کہ انسان ماضی کی تدبیر نہیں کر سکتا؟

ترکِ تدبیر کے متعلق سَیِّدُنا سہل تستری کے اَقوال

حضرت سَیِّدُنا ابو محمد سَہْل تُسْتَری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں:

٭بہتر یہ ہے کہ بندہ مستقبل میں پیش آنے والے مُعامَلات کی تدبیر بھی چھوڑ دے۔

مُراد یہ ہے کہ جو باتیں ہم نے ذِکْر کی ہیں ان سے اپنی اُمِّیدوں کو وابَستہ نہ کرے تو اس کا مستقبل بھی ماضی کی طرح ہو جائے گا اور یوں اس کے نزدیک دونوں حال یَکْسَاں ہوں گے، کیونکہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اَحْکَمُ الْـحَاکِمِیْن اور بندہ اپنے اَنْجَام سے بے خَبَرہونے کے باوُجُود اس کے اَحْکام و اَفعال کو تسلیم کرنے والا اور  اپنے پروردگار کی تقدیر پر راضی رہنے والا ہوتا ہے۔اس مَفہوم کے اِعْتِبَارسے تَرْکِ تدبیر سے مُراد یقین ہے اور یقین ہی مَقامِ مَعْرِفَت ہے، اس لیے کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے اَہْلِ یقین کے دِل کو ایک ایسا مَقام بنا دیا ہے جس میں وہ کسی شے کو اس کی شان کے مُطابِق ہی قُدْرَت دیتا ہے۔

٭ اے مسکین بندے! اللہ عَزَّ  وَجَلَّ پہلے بھی تھا مگر تو نہ تھا اور وہ اس وَقْت بھی ہو گا جب تو نہ ہو گا، لہٰذا آج تو یہ کیوں کہتا ہے کہ میں میں ہوں۔ بلکہ تو بھی آج اس طرح بن جا جیسے کبھی تھا

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن