30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
٭…اس کی فِکْروں کا مرکز تقدیر بنانے اور اُمُور میں تَصَرُّف کرنے والی ہستی کی قُدْرَت بن جاتا ہے۔
٭…اَسباب کی عَدَم مَوجُودَگی اسے کسی ایسے کام پر مَـجْبُور نہیں کرتی جس سے عِلْم مَنْع کرے اور اسے مَذمُوم قرار دے۔
٭…کوئی اسے حَق بات کہنے اور ا س پر عَمَل کرنے سے روک نہیں سکتا۔
٭…کوئی اسے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی خاطِر دوستی اور دشمنی کرنے سے باز نہیں رکھ سکتا۔
٭…کوئی اسے مَخلوق پر اَسباب کے نَفَاذ سے مَنْع نہیں کر سکتا۔
٭…ایسا مُمکِن نہیں کہ وہ اس بنا پر حَق بات کہنا چھوڑ دےکہ لوگوں سے حَیا محسوس کرتا ہے یا ان میں طَمَع رکھتا ہے یا اسے ڈر ہے کہ ان سے حاصِل ہونے والے فوائد خَتْم ہو جائیں گے۔
٭…حاجات کا پیدا ہونا اور فاقوں کی نَوبَت آجانا بھی اسے اس بات پر مَـجْبُور نہیں کرسکتا کہ وہ لوگوں کی نفسانی خواہشات کے سامنے جھک جائے،باطِل کی طرف مائل ہو یا حَق بات پر خاموشی سادھ لے یا اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے کسی دشمن کو دوست بنا لے یا اس کے کسی دوست سے دشمنی کرنے لگے۔
٭…وہ کوئی ایسا کام نہیں کرتا جس کی وجہ سے اس کا حال لوگوں کے نزدیک بہتر ہو۔
٭…وہ لوگوں کا شکریہ اس لیے اَدا نہیں کرتا کہ انہوں نے اسے اپنا مال دیا حالانکہ وہ ان سے دُور رہا۔
٭…وہ کسی مَعْرُوف صَنْعَت کی نگہداشْت نہیں کرتا کیونکہ اس کی نِگاہیں صَانِع یعنی اللہ عَزَّ وَجَلَّ پر ہوتی ہیں۔
٭…وہ کسی مَصْنُوع یعنی شاہکار پر اپنی نِگاہیں نہیں جَماتا کیونکہ اسے دائمی مُشاہَدہ حاصِل ہوتا ہے اور وہ اس شے کے ایسا ہونے کے اَزَلی فیصلے کو جانتا ہے ۔
٭…وہ مخلوق کی کسی عادَت پر مطمئن ہوتا ہے نہ اس کی کسی بات پر بھروسا کرتا ہے، اس لیے کہ اسے یقین ہے کہ اسے رِزْق دینے اور نَفْع و نُقْصَان پہنچانے والی ہستی اللہُ الْوَاحِد عَزَّ وَجَلَّ کی ہے۔
یہ مذکورہ باتیں فَرْض تَوَکُّل سے تعلّق رکھتی ہیں، اگر کسی شخص میں یہ سب باتیں پائی جائیں مگر وہ مُسْتَحَب تَوَکُّل پر عَمَل کرنے کے بجائے تَوَکُّل کی حُدُود سے ہی نِکَل جائے تو وہ ضُعْفِ اِیمان کا شِکار ہے۔
توکل کے منافی فساد کا حملہ اور اس کا علاج
بعض اَوقات بُلَند ہِمَّت لوگوں پر ان کے تَوَکُّل کو فاسِد کرنے والی نفسانی خواہشات حَملہ آور ہوئیں تو انہوں نے اَسباب سے ناطہ توڑ کر ان نفسانی خواہشات کی جَڑوں کو ہی خَتْم کر دیا، ان کے تَرْک پر پختہ یقین کیا، شہروں سے دُور ہو گئے اور دیس سے پردیس (یعنی آبادی کے بجائے ویرانوں)کو اِخْتِیار کیا اور ہزاروں کا مال اور مَحْبُوب اَشیا کو چھوڑ دیا، اس طرح انہوں نے جہاں سے فساد پیدا ہوا تھا اسے وہاں سے نِکال باہَر کیا، انہوں نے اس کا عِلاج یہ کیا کہ جس راستے سے یہ فساد ان تک پہنچا تھا انہوں نے وہاں اس کی ضِد کو کھڑا کردیا یہاں تک کہ اس سلسلے میں بَسا اَوقات وہ ظاہِر عِلْم کے بھی برعکس کر گئے اور انہوں نے ظاہِری عِلْم کو چھوڑ کر باطِنی عُلُوم، اپنے مُشاہَدے کے تقاضے اور اپنے حال کے وِجدان کے مُطابِق عَمَل کیا۔ اس لیے کہ اَہْلِ ظاہِر کسی بھی شے میں ان پر حُجّت نہیں بلکہ یہ لوگ ان پر حُجّت ہیں، کیونکہ اِیمان کا ظاہِر بھی ہے اور باطِن بھی، جبکہ عِلْم مُحْکَم بھی ہوتا ہے اور مُتَشَابِہ بھی۔ نیز اَہْلِ حَق توفیق کے زیادہ قریب ہوتے ہیں اور انہیں حقیقت تک رَسائی کی زیادہ توفیق حاصِل ہوتی ہے۔ یہ سب کچھ انہیں اس لیے ملا کیونکہ ان کا تَوَکُّل صحیح ہوتا ہے، وہ اپنے وَعدے کو اَچھّی طرح پورا کرتے اور اپنے حال کے اَحْکام کے مُطابِق عَمَل کرتے ہیں تاکہ ان کے دِل اللہ کے سِوا کسی سے راحَت پائیں نہ ان کی سوچوں کا مَحْوَر اس کے سِوا کوئی اور ذات بنے۔
ان کے نَفْس اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے سِوا کسی پر مطمئن ہوتے ہیں نہ وہ اس کے عِلاوہ کسی کو اپنی پناہ گاہ بناتے ہیں۔ وہ لوگوں کی خواہشات کی طرف مائل نہیں ہوتے کہ ان کے دِل دھوکے میں مبتلا ہوں، ان کا یقین پَرَاگَنْدہ ہو اور ان کا اِیمان جو کہ اَصْل کی حَیْثِیَّت رکھتا ہے وہ کمزور ہو جائے۔ وہ اپنے دِل کی حِفَاظَت کو ترجیح دیتے ہیں جو کہ کَشْف و مُشاہَدہ کا مَـحَل ہے تاکہ اپنا رَاسُ الْمَال برباد کر کے اپنے حال کی حقیقت سے بھی ہاتھ نہ دھو بیٹھیں۔ اگر ایسا ہو گیا تو وہ کس سے نَفْع حاصِل کریں گے اور کیا اَعمال سَر اَنْجَام دیں گے؟یہ باتیں عَقْل والے ہی سمجھتے ہیں مگر ظاہِری آنکھیں انہیں دیکھ نہیں سکتیں۔
مُقَرّبین میں سے کسی سے جب تَوَکُّل کی حقیقت کے مُتعلّق پوچھا گیا تو انہوں نے اِرشَاد فرمایا:تَوَکُّل کی حقیقت تَوَکُّل سے فَرار ہے۔ (صَاحِبِ کِتاب اِمامِ اَجَلّ حضرت سَیِّدُنا شیخ ابُو طالِب مکّی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں)اس قول سے مُراد یہ ہے کہ بندہ مَقامِ تَوَکُّل سے راحَت نہ پائے، یعنی تَوَکُّل کرے مگر اپنے تَوَکُّل پر نَظَر نہ رکھے کیونکہ اسی تَوَکُّل کے باعِث اسے كِفَایَت و عَافِـیَّت دی گئی اور اس کی حِفَاظَت فرمائی گئی۔ لہٰذا تَوَکُّل پر نَظَر رکھنا تَوَکُّل میں بیماری کی حَیْثِیَّت رکھتا ہے اور اس سے چھٹکارا حاصِل کرنا لازِم ہے یہاں تک کہ بندے کی نِگاہیں ہمیشہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رَحْمَت پر لگی رہیں اور کبھی بھی وہاں سے نہ ہٹیں، وہ بغیر تھکے ہر لمحہ اس کے مُشَاہَدہ میں مَصروف رہے، (اگر ایسا ہو جائے تو)کوئی شے بندے اور اس کے مَعْبُود کے درمیان حائل نہ ہو گی کہ جس کی جانِب وہ دیکھے یا اس پر اِنْحِصَار کرے یا اس سے رہنمائی حاصِل کرے یہاں تک تَوَکُّل جو کہ اس کا طریق ہے وہ بھی اس کے اور اس کے مَعْبُود کے درمیان حائل نہ ہوگا۔
فرمانِ باری تعالیٰ ہے:
اَمَّنْ یُّجِیْبُ الْمُضْطَرَّ اِذَا دَعَاهُ (پ ۲۰، النمل:۶۲)
ترجمۂ کنز الایمان:یا وہ جو لاچار کی سنتا ہے جب اسے پکارے۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے اس فرمانِ عالیشان کی تفسیر میں ایک عارِف فرماتے ہیں:یہاں مَـجْبُور و لاچار سے مُراد وہ شخص ہے جو بارگاہِ خداوندی میں حاضِر ہو کر دَسْتِ سوال دراز کرے تو اپنے اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے درمیان اپنی کسی نیکی کی طرف نہ دیکھے کہ جس کے سَبَب وہ کسی شے کا مُسْتَحِقبن سکتا ہو بلکہ یوں عَرْض کرے: اے میرے پروردگار! مجھے بغیر کسی عِوَض کے وہ شے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع