دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Qoot ul Quloob Jild 2 | قوت القلوب جلد دوم

book_icon
قوت القلوب جلد دوم

حقیقت بھی یہی ہے جیسا انہوں نے اِرشَاد فرمایا۔ اس لیے کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے بندوں پر جو بعض مالی حُقُوق لازِم قرار دیئے اور ان کے اَمْوَال میں جو زکاۃ فَرْض کی ہے وہ انہی لوگوں کے لیے ہے،  کیونکہ یہ اس کے عَیال ہیں،ان کی کوئی تِجَارَت ہے نہ کوئی صَنْعَت۔[1]چنانچہ ان کی مَعاش کی ذِمَّہ داری تاجِروں اور کاریگروں پر ڈال دی۔ کیا آپ نے دیکھا نہیں کہ زکاۃ لینا کسی تاجِر کے لیے جائز ہے نہ کسی کاریگر کے لیے، کیونکہ دو۲جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَر صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے:صَدَقَہ (یعنی زکاۃ) کسی مال دار کے لیے جائز ہے نہ کسی طاقتور کمائی کرنے والے  کے لیے۔ [2]

(صَاحِبِ کِتاب اِمامِ اَجَلّ حضرت سَیِّدُنا شیخ ابُو طالِب مکّی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں)یہاں سرورِ کائنات ، فَخْرِ مَوجُودات صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے کمائی کرنے کو مال داری کے قائم مَقام قرار دیا ہے۔   

فرمانِ باری تعالیٰ ہے:(وَ جَعَلْنَا لَكُمْ فِیْهَا مَعَایِشَ وَ مَنْ لَّسْتُمْ لَهٗ بِرٰزِقِیْنَ(۲۰)  (پ ۱۴، الحجر:۲۰) [3] )یعنی ہم نے بنا دئیے تمہارے لیے بھی اس میں رِزْق کے سامان اور ان کے لیے بھی جنہیں تم روزی دینے والے نہیں ہو۔ اس آیتِ مُبارَکہ میں غور کرنے سے مَعْلُوم ہوتا ہے کہ جن لوگوں کو وہ روزی پہنچانے والے نہیں ان سے مُراد وہ لوگ ہیں جن کا زمین میں کوئی ذریعۂ مَعاش نہیں کہ جس سے وہ کما سکیں۔ یہ لوگ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے عَیال ہیں،  ان کا شُمار اس کے اَہْل میں ہوتا ہے نہ کہ دنیا کے اَہْل میں، کیونکہ دنیادار دنیا کی خاطِر کمائی کرتے اور اس کی وجہ سے پریشان رہتے ہیں۔

تین۳آیات سے اپنے حال پر مدد طَلَب کی

حضرت سَیِّدُنا عامر بن عبداللہ رَحِمَہُ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے قرآنِ کریم میں تین۳ آیاتِ مُبارَکہ  پڑھیں تو ان سے اپنے حال پر مدد طَلَب کی۔ چنانچہ،

پہلی آیتِ مُبارَکہ : جب میں نے یہ فرمانِ باری تعالیٰ پڑھا:

وَ اِنْ یَّمْسَسْكَ اللّٰهُ بِضُرٍّ فَلَا كَاشِفَ لَهٗۤ اِلَّا هُوَۚ-وَ اِنْ یُّرِدْكَ بِخَیْرٍ فَلَا رَآدَّ لِفَضْلِهٖؕ- (پ ۱۱، یونس:۱۰۷)

ترجمۂ کنز الایمان:اور اگر تجھے اللہ کوئی تکلیف پہنچائے تو اس کا کوئی ٹالنے والا نہیں اس کے سِوا اور اگر تیرا بھلا چاہے تو اس کے فَضْل کا ردّ کرنے والا کوئی نہیں۔

تو خود سے کہا: اگر اللہ عَزَّ  وَجَلَّ مجھے کوئی نُقْصَان پہنچانا چاہے تو کوئی مجھے نَفْع دینے پر قادِر نہیں ہو سکتا اور اگر وہ مجھے کوئی نِعْمَت عَطا فرمانا چاہے تو کوئی اسے مجھ سے روک نہیں سکے گا۔

دوسری آیتِ مُبارَکہ :جب میں نے یہ آیَتِ مُبارَکہ پڑھی :

فَاذْكُرُوْنِیْۤ اَذْكُرْكُمْ (پ ۲، البقرة:۱۵۲)                                     ترجمۂ کنز الایمان:تو میری یاد کرو میں تمہارا چرچا کروں گا۔

تو اس کے سِوا ہر ایک کی یاد سے منہ موڑ کر صِرف اسی کی یاد میں مگن ہو گیا۔

تیسری آیتِ مُبارَکہ : جب سے میں نے یہ آیَتِ مُبارَکہ پڑھی ہے:

وَ مَا مِنْ دَآبَّةٍ فِی الْاَرْضِ اِلَّا عَلَى اللّٰهِ رِزْقُهَا (پ ۱۲، ھود: ۶)                

ترجمۂ کنز الایمان:اور زمین پر چلنے والا کوئی ایسا نہیں جس کا رِزْق اللہ کے ذمّۂ کَرَم پر نہ ہو۔ 

اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی قَسَم! اپنے رِزْق کا اِہتِمام نہیں کیا بلکہ آرام میں ہوں۔

اَسباب پر نظر

حضرت سَیِّدُنا سَہْل بن عبداللہ تُسْتَری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں:  مُتَوکِّل جب سَبَب پر اپنی نِگاہ رکھے تو وہ محض تَوَکُّل کا دعویٰ کرنے والا ہے۔ ایک مرتبہ اِرشَاد فرمایا: اِیمان کے ساتھ اَسباب کا کوئی تعلّق نہیں بلکہ اَسباب تو اِسلام میں ہوتے ہیں۔ مُراد یہ ہے کہ اِیمان کی حقیقت میں اَسباب پر نَظَر ہوتی ہے نہ ان سے سُکُون حاصِل ہوتا ہے بلکہ اَسباب پر نَظَر رکھنا اور مَخلوق میں طَمَع کا پایا جانا مَقامِ اِسلام میں پایا جاتا ہے۔

اسی لیے حضرت سَیِّدُنا لقمان رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے اپنے جگرگوشے سے اِرشَادفرمایا:اِیمان کے چار۴ اَرکان ہیں، اِیمان ان کے بغیر دُرُسْت نہیں ہو سکتا جیسا کہ جِسْم دونوں ہاتھوں اور پاؤں کے بغیر دُرُسْت نہیں ہوتا۔

(وہ اَرکان یہ ہیں:) (1) ۔۔۔۔ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ پر تَوَکُّل رکھنا (2) ۔۔۔۔ اس کی قَضا کو تسلیم کرنا (3 )۔۔۔۔ اپنا ہر مُعَامَلہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے سُپُردکر دینا اور (4 )۔۔۔۔ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی تقدیر پر راضی رہنا۔   

مُتَوکِّل کا حال

مُتَوکِّل کا حال یہ ہے:

٭اس کا دِل بندوں کی طرف دیکھنا خَتْم کر دیتا ہے۔

٭مخلوق کے قبضے میں مَوجُود اَشیا میں طَمَع کی فِکْر سے آزاد ہو جاتا ہے۔

٭اس کا دِل دِلوں کو پھیرنے والی اور تدبیر فرمانے والی ذات یعنی اللہ عَزَّ  وَجَلَّ سے لگ جاتا ہے۔

 



[1]………بہارِ شریعت میں  زکاۃ کے سات مَصارِف میں  فقیرومسکین کی تعریف یوں  مذکور ہے:  فقیر وہ شخص ہے جس کے پاس کچھ ہو مگر نہ اتنا کہ نِصاب کو پہنچ جائے یا نِصاب کی قَدْر ہو تو اُس کی حاجَتِ اَصْلِیہ میں مُسْتَغْرَق ہو ،  مثلاً رہنے کا مَکان پہننے کے کپڑے خِدْمَت کے لیے لونڈی غلام ،  علمی شغل رکھنے والے کو دینی کِتابیں  جو اس کی ضَرورت سے زیادہ نہ ہوں  جس کا بیان گزرا۔ یوہیں  اگر مدیُون ہے اور دَین نکالنے کے بعد نِصاب باقی نہ رہے ،  تو فقیر ہے اگرچہ اُس کے پاس ایک تو کیا کئی نِصابیں  ہوں ۔جبکہ مسکین وہ ہے جس کے پاس کچھ نہ ہو یہاں  تک کہ کھانے اور بَدَن چھپانے کے لیے اس کا مُحتَاج ہے کہ لوگوں  سے سوال کرے اور اسے سوال حَلال ہے ،  فقیر کو سوال ناجائز کہ جس کے پاس کھانے اور بَدَن چھپانے کو ہو اُسے بغیر ضَرورت و مجبوری سوال حَرام ہے۔(بہارِ شریعت ،  مالِ زکاۃ کے مصارف ،  ۱/  ۹۲۴)

[2]………ابو داود ،  کتاب الزکاة ،  باب من یعطی من الصدقة وحد الغنی ، ۲/ ۱۶۶ ، حدیث:  ۱۶۳۳ ، ۱۶۳۴

[3]………ترجمۂ کنز الایمان:  اور تمہارے لیے اس میں  روزیاں  کر دیں  اور وہ کر دئیے جنہیں  تم رِزْق نہیں  دیتے۔

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن