30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
جب بندہ کامِل طور پر اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے ڈرنے لگتا ہے تو مَخلوق کا خوف اس کے دِل سے خَتْم ہو جاتا ہے اور یہ خوف مَخلوق کے دِلوں میں پیدا ہو جاتا ہے اور وہ اس سے ڈرنے لگتی ہے لیکن شَرْط یہی ہے کہ وہ اس سے نہ ڈرتا ہو۔ یہ ایسے ہی ہے کہ جب بندے کا مُشاہَدہ کامِل ہوتا ہے اور وہ اپنے مُشاہَدے پر قائم رہتا ہے تو ذاتِ باری تعالیٰ کی تجلیوں کا مُشاہَدہ کرتے وَقْت مَخلوق کا وُجُود خَتْم ہو جاتا ہے اور اس وَقْت وہ اپنے رب کے سِوا کچھ نہیں دیکھتا، یوں جب اس کا دِل مالکِ حقیقی کے مُشاہَدے کے سَبَب ہر شے سے خالی ہو جاتا ہے تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ اسے اپنی سَلْطَنَت میں اس کے لیے مَخْصُوص حصّہ اسے عَطا فرماتا ہے ۔
حضرت سَیِّدُنا سُنَیْد بن داود عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْوَدُوْد حضرت سَیِّدُنا یحییٰ بن ابی کثیر عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْکَبِیْر سے رِوایَت کرتے ہیں کہ تورات میں ہے: وہ شخص مَلْعُون ہے جو اپنے جیسے شخص پر بھروسا کرے۔
حضرت سَیِّدُنا سُنَیْدبن داود عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْوَدُوْد فرماتے ہیں : مُراد یہ ہے کہ وہ یوں کہے کہ اگر فلاں نہ ہوتا تو میں ہلاک ہو جاتا اور اگر یہ نہ ہوتا تو یہ بھی نہ ہوتا۔ ایک قول کے مُطابِق کسی شخص کا یہ کہنا کہ اگر ویسا نہ ہوتا تو ایسا بھی نہ ہوتا، شِرک ہے۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے پیارے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے: اگر کہنے سے بچو کہ یہ شیطانی عَمَل کا دروازہ کھول دیتا ہے۔
ایک عالِم فرماتے ہیں کہ سَوفَ(یعنی یہ کہنا کہ عنقریب میں یہ کام کر لوں گا) شیطانی لشکروں میں سے ایک لشکر ہے۔
اگر ایسا نہ ہوتا تو ویسا نہ ہوتا
فرمانِ باری تعالیٰ ہے:
فَلَمَّا نَجّٰىهُمْ اِلَى الْبَرِّ اِذَا هُمْ یُشْرِكُوْنَۙ(۶۵) (پ۲۱،العنکبوت:۶۵)
ترجمۂ کنز الایمان: پھر جب وہ انہیں خشکی کی طرف بچالاتا ہے جبھی شِرک کرنے لگتے ہیں۔
اس آیَتِ مُبارَکہ کی تفسیر میں ہے کہ (ان کے شِرک کرنے سے مُراد یہ ہے کہ خشکی پر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رَحْمَت سے پہنچتے مگر )وہ کہتے کہ ملّاح بَہُت تیز بھاگنے والے تھے۔ اسی کی مِثل ایک مَقام پر اِرشَادہوتا ہے:
وَ مَا یُؤْمِنُ اَكْثَرُهُمْ بِاللّٰهِ اِلَّا وَ هُمْ مُّشْرِكُوْنَ(۱۰۶)(پ۱۳،یوسف:۱۰۶)
ترجمۂ کنز الایمان:اور ان میں اکثر وہ ہیں کہ اللہ پر یقین نہیں لاتے مگر شِرک کرتے ہوئے۔
مَنْقُول ہے کہ (انہیں مُشْرِک اس لیے کہا گیا ہے کیونکہ)وہ کہا کرتے تھے کہ اگر کتّے نہ بھونکتے اور مُرغ بانگ نہ دیتے تو ہم ضَرور چور پکڑ لیتے۔
امیر المومنین حضرت سَیِّدُنا عمر فاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے مَرْوِی ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب صَلَّی اللہ
تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِرشَاد فرمایا:جو بندوں سے عزّت چاہے اللہ عَزَّ وَجَلَّ اسے ذلیل کرتا ہے۔[1]
تَوَکُّل کا حق ادا کرنے کی برکت
سرورِ کائنات ، فَخْرِ مَوجُودات صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے:اگر تم اللہ عَزَّ وَجَلَّ پراس طرح تَوَکُّل کرو جیسا کہ تَوَکُّل کا حَق ہے تو وہ تمہیں ضَرور رِزْق عَطا کرے گا جیساکہ پَرِنْدے کو عَطا کرتا ہے کہ وہ صُبْح خالی پیٹ نکلتا ہے اور شام کوپیٹ بھر کر لَوٹتا ہے [2]اور تمہاری دُعا سے پہاڑ بھی لَرَزْ جائیں گے۔[3]
ایسا ہی ایک قول یہ بھی مَرْوِی ہے کہ اگر تم اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی مَعْرِفَت کا حَق پہچان لو تو وہ تمہیں ضَرور یقین کی دولت سے مالا مال کر دے گا۔ چنانچہ یہ قول بھی اس بات کی دلیل ہے کہ تَوَکُّل کی حقیقت حُسْنِ مَعْرِفَت اور صِدْقِ یقین میں ہے۔
حضرت سیِّدُنا عیسیٰعَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے فرمایا:پَرِنْدے کو دیکھو، فَصْل بَوتا ہے نہ کاٹتا ہے اور نہ ذخیرہ کرتا ہے پھر بھی اللہ عَزَّ وَجَلَّ اسے ہر دِن نیا رِزْق عَطا فرماتا ہے۔اگر تم یہ کہو کہ ہمارے پیٹ پرندوں سے بڑے ہیں تو جانوروں کو دیکھ لو کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے کس طرح اس مَخلوق (کے تم سے بھی بڑے پیٹ)کے لیے رِزق مُقَرَّر کر رکھا ہے۔
خوراک ذخیرہ کرنے والے تین۳جاندار
مَنْقُول ہے کہ صِرف تین۳ جاندار ہی خوراک ذخیرہ کرتے ہیں: چیونٹی، چُوہا اور انسان۔ [4]
مُتَوکِّلین کا رزق کن کے ہاتھوں میں ہے؟
حضرت سَیِّدُنا ابو یعقوب سُوسِی رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ فرماتےہیں:مُتَوکِّلین کے رِزْق اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے عِلْم اور اِخْتِیار کے مُطابِق خاص لوگوں کے ہاتھوں میں ہوتے ہیں اور انہیں مَشَقَّت نہیں کرنا پڑتی جبکہ عام لوگ مَصروف رہتے ہیں اورمَشَقَّت اُٹھاتے ہیں۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع