30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
صِرف اسی سے کچھ لیتے ہیں جس کے مُتَعَلِّق جانتے ہیں کہ جو کچھ وہ ہمیں دے رہا ہے وہ اس پر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی ایسی نِعْمَت ہے جو ہمیں دی گئی نِعْمَت سے بڑھ کر ہے۔
سَیِّدُنا حسن بصری کس کا مال لیتے؟
ایک طویل قِصّہ میں ہے کہ حضرت سَیِّدُنا حَسَن بصری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی کی خِدْمَت میں ایک شخص نے بَہُت کثیر مال پیش کیا مگر آپ رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ نے قبول نہ فرمایا۔ جب وہ شخص چلا گیا تو حضرت سَیِّدُنا ہَاشِم اَوقَص رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ نے عَرْض کی: اے ابو سعید! میں اس بات پر حیران ہوں کہ آپ نے ایک شخص کا مال قبول نہ کرکے اس کی عزّت افزائی نہیں فرمائی اور وہ غم زدہ لوٹ گیا ، حالانکہ آپ نے حضرت سَیِّدُنا مالِک بن دینار عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْغَفَّار اور حضرت سَیِّدُنا محمد بن واسِع عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ الرَّافِع کا مال کئی بار وُصول کیا ہے۔ تو
آپ نے اِرشَاد فرمایا: اللہ عَزَّ وَجَلَّ آپ پر رَحْم فرمائے!(میں نے اس شخص کا مال اس لیے قبول نہ کیا کیونکہ) مالِک بن دینار اور اِبْنِ واسِع سے جب ہم کچھ لیتے ہیں تو ان کا مَقْصُود اپنے رب کی رَضا ہوتی ہے جس کی وجہ سے ہم پر لازِم ہے کہ ان کا مال قبول کرلیں جبکہ یہ شخص جو کچھ دے رہا تھا اس کا مَقْصُود ہماری رَضا تھی، اس لیے ہم نے اس کا مال قبول نہ کیا۔
مُتَوکِّل کی رضا و ناراضی
مُتَوکِّل کسی کی مَذمَّت بیان کرتا ہے نہ کسی سے اس وجہ سے ناراض ہوتا ہے کہ وہ اس کی عَطا و بَـخْشِشْ میں رُکاوَٹ کا سَبَب بنا ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہی نعمتوں کو روکنے والا ہے اور جس طرح کوئی نِعْمَت عَطا کرنے میں اس کی حِکْمَت کارفرما ہوتی ہے اسی طرح عَطا نہ کرنے میں بھی اسی کی حِکْمَت کارفرما ہے۔ البتہ! مُتَوکِّل کسی کی مَذمَّت بیان کرتا ہے یا اس پر ناراض ہوتا ہے تو صِرف اسی صُورَت میں جب اس بندے پر خَرْچ کرنا اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی طرف سے لازِم ہو چکا ہو اور وہ نہ کرے،یوں اس کی ناراضی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رَضا کے مُوَافِق ہوتی ہے۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ خَرْچ کرنے والے کی سَخَاوَت دیکھ کر اپنے بے اِنتِہا کَرَم کی وجہ سے ان کی تعریف فرماتا ہے اور مُتَوکِّل کو نِعْمَت عَطا کرنے اور ناپسندیدہ اُمُورسے دُور رکھنے میں اپنی کار فرما مَشِیَّت کے مُشاہَدے کی توفیق عَطا فرماتا ہے، جبکہ بُخْل کرنے والوں اور نافرمانوں کی مَذمَّت بیان کرتا ہے تاکہ اس کی حِکْمَت کی قُدْرَت کا اِظْہَار ہو اور تقدیر میں جو کچھ لکھا ہوا ہے وہ بھی ظاہِر ہوجائے اور اس کی وجہ سے اَحْکام اور حَلال و حَرام کی تفصیل مَعْلُوم ہو جائے،نیز لوگوں پر ثواب و عَذاب کے اَحْکام بھی مُرتَّب ہوں۔ اس طرح وہ اپنے اَمْر کو ظاہِر فرماتا ہے مگر تقدیر کے راز کو اپنے ساتھ خاص کر لیتا ہے، چنانچہ مومِن اس کے اَمْر پر عَمَل کرتا ہے اور جس بات کو اس نے اپنے ساتھ خاص کر لیا ہے اس کے سامنے سرِ تسلیم خم کر دیتا ہے۔
(صَاحِبِ کِتاب اِمامِ اَجَلّ حضرت سَیِّدُنا شیخ ابُو طالِب مکّی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں)مجھے میرے مشائخ میں سے کسی نے یہ بات بتائی کہ ایک شخص نے حضرت سَیِّدُناجنید بغدادی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْہَادِی سے عَرْض کی کہ آپ کے چند اَحباب پر جب ہم کچھ خَرْچ کرتے ہیں تو وہ ہماری بڑی آؤ بھگت کرتے ہیں مگر جب ہم کچھ خِدْمَت بجا نہیں لاتے تو وہ ہماری پَروا تک نہیں کرتے۔ پوچھا: وہ کون ہیں؟ لوگوں نے بتایا کہ وہ فلاں فلاں ہیں، یعنی انہوں نے آپ کے جلیل القدر اَحباب کے نام لیے کہ جن کے عارِف ہونے کا آپ کو یقین تھا اور ان کے سچّے ہونے میں بھی کوئی شک نہ تھا، چنانچہ اِرشَادفرمایا: وہ بالکل اَچھّا کرتے ہیں۔ لوگوں نے حیران ہو کر عَرْض کی: وہ کیسے؟ اِرشَاد فرمایا: اس لیے کہ جب تم ان پر کچھ خَرْچ کرتے ہو تو تم اپنی نفسانی خواہش کی مُخالَفَت اور اپنے رب کے حکْم کی مُوَافِقَت کرتے ہو، لہٰذا ان پر تمہاری عزّت کرنا لازِم ہو جاتا ہے مگر جب تم ان سے پَہْلُو تَہی کرتے ہو اور اپنی نفسانی خواہش کی مُوَافِقَت اور اپنے رب کے حکْم کی مُخالَفَت کرتے ہو تو ان پر تمہاری طرف سے منہ موڑنا لازِم ہو جاتا ہے۔
حضرت سَیِّدُنا جنید بغدادی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْہَادِی کے اپنے اَحباب کے نام پوچھنے سے مَعْلُوم ہوتا ہے کہ ایسا آپ رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ نے اس لیے کیا تھا تاکہ جان سکیں کہ ایسا کرنے والوں کا مرتبہ کیا ہے کیونکہ آپ کے اَحباب میں عام لوگ بھی تھے اور خاص بھی۔ نیز اس وجہ سے بھی کہ بعض اَوقات ایسی باتیں کمزور دلوں میں داخِل ہو کر زُہْد کا خاتِمہ کر دیتی ہیں اور پھر وہاں ہَوَائے نَفْس اپنا ڈیرہ جما لیتی ہے، مگر جب آپ رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ نے ان لوگوں کے نام جان کر ان کے عَمَل پر رَضا مندی اور اِعْتِماد کا اِظْہَار کیا تو ان کے عَمَل کے دُرُسْت ہونے کی وجہ بھی بیان کر دی۔ اس لیے کہ اس صُورَت میں عارِفین کے لیے یہی حکْم تھا، لہٰذا یہ عَمَل ان کے لیے مزید اِنْعَامَات کا باعِث بن گیا اور انہیں حضرت سَیِّدُنا جنید بغدادی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْہَادِی سے زاہِد اور عارِف ہونے کی سَنَد بھی مِل گئی۔
اگر ابنِ آدَم رب کے سِوا کسی سے نہ ڈرے تو
ایک عالِم یہ حَدِیْثِ قُدْسِی نَقْل فرماتے ہیں کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ اِرشَاد فرماتا ہے: اگر ابنِ آدَم کو میرے عِلاوہ کسی کا خوف نہ ہو تو میں بھی اسے اپنے عِلاوہ کسی کا خوف نہ دوں گا اور اگر ابنِ آدَم میرے سِوا کسی سے کوئی اُمِّید نہ رکھے تو میں اسے اپنے سِوا کسی کے سُپُردنہ کروں گا۔
بندہ قبر میں کن اشیا سے ڈرے گا؟
اس سے بھی سَخْت رِوایَت یہ ہے کہ بندہ جب اپنی قَبْر میں جاتا ہے تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے سِوا ہر وہ شے جس سے وہ ڈرا کرتا تھا مِثالی صُورَت میں اسے قِیامَت تک ڈراتی رہتی ہے۔[1]
حضرت سَیِّدُنا فُضَیل بن عِیاض رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ جو اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے ڈرتا ہے ہر شے اس سے ڈرتی ہے۔
مَنْقُول ہے کہ مَخلوق کا خوف خالِق کے خوف میں کمی کی سزا ہے، جس کا سَبَب اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی کم مَعْرِفَت رکھنا اور اس پر تَوَکُّل کا کمزور ہونا ہے۔ چنانچہ فرمانِ باری تعالیٰ ہے:
لَاَنْتُمْ اَشَدُّ رَهْبَةً فِیْ صُدُوْرِهِمْ مِّنَ اللّٰهِؕ-ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا یَفْقَهُوْنَ(۱۳) (پ ۲۸، الحشر:۱۳)
ترجمۂ کنز الایمان:بےشک ان کے دِلوں میں اللہ سے زیادہ تمہارا ڈر ہے یہ اس لیے کہ وہ ناسمجھ لوگ ہیں۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع