30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(1) اَوَ لَمْ یَكُنْ لَّهُمْ اٰیَةً اَنْ یَّعْلَمَهٗ عُلَمٰٓؤُا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَؕ(۱۹۷)(پ ۱۹، الشعرآء: ۱۹۷)
ترجمۂ کنز الایمان:اور کیا یہ ان کے لیے نِشانی نہ تھی کہ اس نبی کو جانتے ہیں بنی اسرائیل کے عالِم۔
(2) بَلْ هُوَ اٰیٰتٌۢ بَیِّنٰتٌ فِیْ صُدُوْرِ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَؕ-وَ مَا یَجْحَدُ بِاٰیٰتِنَاۤ اِلَّا الظّٰلِمُوْنَ(۴۹) (پ ۲۱، العنکبوت:۴۹)
ترجمۂ کنز الایمان:بلکہ وہ روشن آیتیں ہیں ان کے سینوں میں جن کو عِلْم دیا گیا اور ہماری آیتوں کا اِنکار نہیں کرتے مگر ظالِم۔
(3) اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّلْمُتَوَسِّمِیْنَ(۷۵)(پ ۱۴، الحجر:۷۵)
ترجمۂ کنز الایمان:بے شک اس میں نشانیاں ہیں فراست والوں کے لیے۔
(4) قَدْ بَیَّنَّا الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یُّوْقِنُوْنَ(۱۱۸)(پ ۱، البقرة:۱۱۸)
ترجمۂ کنز الایمان:بیشک ہم نے نشانیاں کھول دیں یقین والوں کے لیے۔
(5) وَ لِنُبَیِّنَهٗ لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ(۱۰۵)(پ ۷، الانعام:۱۰۵)
ترجمۂ کنز الایمان:اور اس لیے کہ اُسے عِلْم والوں پر واضِح کردیں۔
پس یہی وہ عُلَمائے رَبّانِیِّیْن رَحِمَہُمُ اللہ الْمُبِین ہیں جو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی باتیں بتاتے ہیں اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے بھی اپنے ہاں ان کا ایک خاص حِصّہ مُقَرَّر فرما رکھا ہے، ان کا بارگاہِ خداوندی میں ایک خاص مَقام ومرتبہ ہے جو کسی نااہل و غیر مُسْتَحِق شخص کو حاصِل نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ یہ عُلَمائے رَبانیین اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی آیات وبینات، ظاہِری و باطِنی بَصارَت و بصیرت سے اس کا مُشاہدہ کرنے والے، اس کی بارگاہ تک پہنچانے والے راستے کی پہچان کرانے والے اور اس کے بیان کا مظہر ہیں۔ چنانچہ،
ان کے مُتَعَلِّق قرآنِ کریم میں مُتَفَرِّق مَقامات پر اِرشَادفرمایا:
(1) ثُمَّ اِنَّ عَلَیْنَا بَیَانَهٗؕ(۱۹)(پ ۲۹، القیامة:۱۹)
ترجمۂ کنز الایمان:پھر بے شک اس کی باریکیوں کا تم پر ظاہِر فرمانا ہمارے ذمّہ ہے۔
(2) خَلَقَ الْاِنْسَانَۙ(۳) عَلَّمَهُ الْبَیَانَ(۴)(پ ۲۷، الرحمٰن:۳، ۴)
ترجمۂ کنز الایمان:اِنسانیت کی جان محمد کو پیدا کیا۔ ماکان وما یکون کا بیان انہیں سکھایا۔
(3) وَ كَانَ حَقًّا عَلَیْنَا نَصْرُ الْمُؤْمِنِیْنَ(۴۷)(پ ۲۱، الروم: ۴۷)
ترجمۂ کنز الایمان:اور ہمارے ذِمّۂ کرم پر ہے مسلمانوں کی مَدَد فرمانا۔
(4) وَ كَانُوْۤا اَحَقَّ بِهَا وَ اَهْلَهَاؕ-(پ ۲۶، الفتح: ۲۶)
ترجمۂ کنز الایمان:اور وہ اس کے زیادہ سزاوار اور اس کے اہل تھے۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اپنے خاص بندوں کی مَدَد جس شے سے بھی فرمائی انہوں نے اسے قبول کیا، انہیں حقیقت کی جو دولت عطا فرمائی انہوں نے اسے بھی حق اور سچ مانا وجانا،اسی طرح اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے انہیں جو مُشاہَدہ کرایا انہوں نے صِرف وہی مُشاہَدہ کیا،اس طرح اس کے یہ خاص بندے پرہیزگاروں کے اِمام اور راہِ ہِدَایَت کے عَلَم بَردار بن گئے۔
عِلْمِ یقین کے متعلق عارفین کے اقوال
٭… جسے عِلْمِ ایمان و یقین کے مُشاہدہ کی دولت نصیب نہ ہو وہ شِرک یا نِفاق سے نہیں بچ سکتا کیونکہ وہ یقین سے خالی ہوتا ہے اور جو یقین سے خالی ہو اس کے دل میں شک کے اَثَرات پائے جاتے ہیں۔
٭… جسے عِلْمِ یقین کی دولت سے کوئی حِصّہ نہ ملے میں اس کے بُرے خاتِمہ سے ڈرتا ہوں، اس کا ادنیٰ درجہ یہ ہے کہ اس عِلْم کی تصدیق کی جائے اور جو اس عِلْم کی اہلیت رکھتے ہیں ان کی بات مانی جائے۔
٭… اس شخص پر اس عِلْم کا دروازہ کبھی نہیں کھولا جاتا جس میں یہ دو۲عادتیں ہوں: بِدْعَت یا تکبر۔
٭… جو دنیا سے مَحبّت کرنے والا ہو یا اپنی نفسانی خواہشات کی تکمیل میں اِصْرار سے کام لیتا ہو کبھی بھی اس عِلْم سے آگاہ نہیں ہو سکتا۔
٭… حضرت سَیِّدُنا ابو محمد سہل تُسْتَرِی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں: جو اس عِلْم کو نہ مانے اس کی سزا یہ ہے کہ کبھی بھی اس عِلْم کو حاصِل نہیں کر سکتا۔
٭… سَلَف صَالِـحِین رَحِمَہُمُ اللہ الْمُبِین کا اس بات پر اِتّفاق ہے کہ یہ عِلْم صدیقین کا ہے جسے اس عِلْم کی کچھ دولت نصیب ہو وہ مُقَرّبین سے ہو جاتا ہے اور اَصحابِ یمین کا درجہ پا لیتا ہے۔
عِلْمِ توحید اور مَعْرِفَتِ صِفات باقی عُلوم سے جُدا ہیں۔ کیونکہ باقی عُلوم میں اِخْتِلاف باعِثِ رحمت مگر عِلْمِ توحید میں اِخْتِلاف گمراہی و بِدْعَت ہے۔ عِلْمِ ظاہِر میں خطا مُعاف ہو سکتی ہے اور بعض اَوقات اِجْتِـھَاد کرنے کی صُورَت میں ایک نیکی کا اَجر بھی مل جاتا ہے مگر عِلْمِ توحید اور شہادتِ یقین میں خطا و غَلَطی کُفر ہے۔ اس طرح کہ بندے عِلْمِ ظاہِر کے حُصول میں عند اللہ حَقیقتِ عِلْم کے حُصول کے مکلّف نہیں مگر عِلْمِ توحید میں عند اللہ حقیقت کا حُصول ان پر لازِم ہے۔
جس نے دین میں کوئی بِدْعَت اِیجاد کی اس کی یہ بِدْعَت اس کے منہ پر ماری جائے گی اور اس سے اس کے مُتَعَلّق پوچھا بھی جائے گا، اس کی یہ بِدْعَت بندوں پر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی حُجّت ہے نہ دنیا میں اسے کوئی نفع دینے والی ہے بلکہ ایسا شخص دنیا دار اور دنیا میں رَغْبَت رکھنے والا ہوتا ہے جو نہ تو اللہ کی جانِب رہنمائی کرنے والا بننے کی صَلاحِیَّت رکھتا ہے نہ نیکی کی دَعْوَت دینے والا ہے اور نہ متقین کا اِمام ہے۔
عالِم کی لغزش سب سے بڑا فتنہ ہے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع