30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
پر طَعْن کیا گویا اس نے اِیمان کے مُعَامَلے میں طَعْن کیا، کیونکہ یہ بَاہَم مِلے ہوئے ہیں اور جس نے مُتَوکِّلین کو مَحْبُوب جانا گویا اس نے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کو مَحْبُوب جانا۔
تَوَکُّل کی اِبْتِدَا وکیل عَزَّ وَجَلَّکی مَعْرِفَت حاصِل کرنا ہے، اس لیے کہ وہ عزیز اور حکیم ہے جو اپنی بڑائی و عزّت کی بنا پر کسی کو نوازتا ہے تو اپنی حِکْمَت سے کسی کو نہیں نوازتا۔ لہٰذا بندہ اسی کے عزّت و غَلَبہ عَطا فرمانے سے عزّت و غَلَبہ پاتا ہے اور اس کی حِکْمَت پر راضی رہتا ہے۔ چنانچہ اس نے مُتَوکِّلین کو اس کے مُتعلِّق آگاہ کرتے ہوئے اِرشَاد فرمایا:
وَ مَنْ یَّتَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ فَاِنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ(۴۹) (پ۱۰،الانفال:۴۹)
ترجمۂ کنز الایمان:اور جو اللہ پر بھروسا کرے تو بےشک اللہ غالب حِکْمَت والا ہے۔
وہی عزّت پاتا ہے جسے وہ عزّت کا تاج پہنائے اور جسے وہ اپنی حِکْمَت سے کچھ عَطا نہ فرمائے وہ بَس دیکھتا رہتا ہے۔ وہ اپنے بندے کو اپنی عزّت و جَلَالَت کی بنا پر عِبَادَت کی عاجِزی سے نوازتا ہے اور اپنی حِکْمَت سے اسے ایسی باتیں سِکھاتا ہے کہ اسے مَخلوق سے کچھ بھی سیکھنے کی حاجَت باقی نہیں رہتی۔
بندے کا مشاہدہ کے بعد اسباب کو اختیار کرنا
ایک عاجِز بندہ جب ذاتِ باری تعالیٰ کے مُتَعَلِّق دَرْج ذیل مُشاہَدات حاصِل کر لیتا ہے:
۔۔۔۔۔ وہی عَدْل فرمانے والا ہے۔ ۔۔۔۔۔ وہی تدبیر و تقدیر کا مالِک ہے۔
۔۔۔۔۔ اسی کے پاس ہر شے کے خزانے ہیں۔ ۔۔۔۔۔ ہر شے اس کے پاس ایک اندازے سے ہے۔
۔۔۔۔۔ وہی ہر شے کو اس کی مُقَرَّرہ مِقدار کے مُطابِق نازِل فرماتا ہے۔
اس کے علاوہ جب وہ یہ مُشاہَدہ بھی کرتا ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہی اَسباب پر بھروسا کرنے والے بندوں کا مالِک و مختار ہے اور دیکھتا ہے کہ آسمانوں اور زمین کے خزانے اسی کے پاس ہیں تو وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ تک رَسائی کے لیے اَسباب کو اِخْتِیارکرتا ہے جیسا کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے کفّار کو اَسباب میں مگن کر رکھا ہے مگر یہاں مُراد اس کے نیک بندے ہیں۔ جیسا کہ اس کا فرمانِ عالیشان ہے:
اَمْ عِنْدَهُمْ خَزَآىٕنُ رَحْمَةِ رَبِّكَ الْعَزِیْزِ الْوَهَّابِۚ(۹) اَمْ لَهُمْ مُّلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا- فَلْیَرْتَقُوْا فِی الْاَسْبَابِ(۱۰)(پ ۲۳، ص:۹، ۱۰)
ترجمۂ کنز الایمان:کیا وہ تمہارے رب کی رَحْمَت کے خزانچی ہیں وہ عزّت والا بَہُت عَطا فرمانے والا کیا ان کے لیے ہے سَلْطَنَت آسمانوں اورزمین کی اور جو کچھ ان کے درمیان ہے تو رسیاں لٹکا کر چڑھ نہ جائیں۔
مَعْلُوم ہوا لوگ اَسباب کو اِخْتِیارکر کے رَبُّ الاَرْبَاب تک رَسائی چاہتے ہیں، مگر زمین کے خزانے یعنی لوگوں کے ہاتھوں اور دِلوں میں جو کچھ ہے اور دیگر جس قَدْر ظاہِری اَسباب ہیں وہ سب آسمان کے خزانوں یعنی اَقدار و اَحکام میں غائب ہیں اور آسمان کے خزانے مَلکُوت و قُدْرَت کی عزّت میں غائب ہیں، آسمانوں کے یہ خزانے بندوں کو ان کی قِسْمَت اور حصّے کے مُطابِق ملتے ہیں جبکہ زمین کے خزانے وہ ہیں جنہیں اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے ان کے لیے نِشانیاں بنا دیا ہے۔ جیسا کہ اس کا فرمانِ عالیشان ہے:
وَ فِی السَّمَآءِ رِزْقُكُمْ وَ مَا تُوْعَدُوْنَ(۲۲)(پ ۲۶، الذّٰریٰت:۲۲)
ترجمۂ کنز الایمان:اور آسمان میں تمہارا رِزْق ہے اور جو تمہیں وَعدہ دیا جاتا ہے۔
ایک مَقام پر اِرشَاد فرمایا:
وَ فِی الْاَرْضِ اٰیٰتٌ لِّلْمُوْقِنِیْنَۙ(۲۰) (پ ۲۶، الذّٰریٰت:۲۰)
ترجمۂ کنز الایمان:اور زمین میں نِشانیاں ہیں یقین والوں کو۔
ایک مَقام پر ہے:
وَ لِلّٰهِ خَزَآىٕنُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ لٰكِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ لَا یَفْقَهُوْنَ(۷) (پ ۲۸، المنافقون:۷)
ترجمۂ کنز الایمان:اور اللہ ہی کے لیے ہیں آسمانوں اور زمین کے خزانے مگر منافقوں کو سمجھ نہیں۔
یقین کے بعد عزت کا تاج سجتا ہے
جب بندے کو یقین ہو جاتا ہے کہ اسی کے قبضۂ قُدْرَت میں ہر شے کی مِلْکِیَّت ہے اور وُہی سَماعَت و بَصَارَت کا مالِک ہے، وہی دِن رات کے بدلنے کی طرح ہاتھوں اور دِلوں کو پھیرنے والا ہے، وہی اَہْلِ یقین کیلئے حُسْنِ تدبیر کرنے والا ہے، وُہی اَحْکَمُ الْحَاکِمِیْن اور خَیْرُ الرَّازِقِین ہے۔ جیسا کہ اس کا فرمانِ عالیشان ہے:
وَ مَنْ اَحْسَنُ مِنَ اللّٰهِ حُكْمًا لِّقَوْمٍ یُّوْقِنُوْنَ۠(۵۰) (پ ۶، المآئدة:۵۰)
ترجمۂ کنز الایمان:اور اللہ سے بہتر کس کا حکْم یقین والوں کے لیے۔
ایک مَقام پر ہے:
ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ یُدَبِّرُ الْاَمْرَؕ-مَا مِنْ شَفِیْعٍ اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ اِذْنِهٖؕ- (پ ۱۱، یونس:۳)
ترجمۂ کنز الایمان:پھر عَرْش پر اِسْتِوا فرمایا جیسا اس کی شان کےلائق ہے کام کی تدبیر فرماتا ہے کوئی سِفارِشی نہیں مگر اس کی اِجازت کے بعد۔
تو اس وَقْت اس کی نِگاہیں اپنے مالِک و مولا عَزَّ وَجَلَّکی طرف اٹھتی ہیں اور اس طرح وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کو اپنی نِگاہوں کا مرکز بنالینے کی وجہ سے قوّت و توانائی مَحْسُوس کرتا ہے، یوں اس کی عَطا کردہ قوّت و توانائی کی بَرَکَت سے اس کے سر پر عزّتوں کا تاج سجتا ہے اور وہ اس کا قُرْب پاکر ہر شے سے مُسْتَغْنِیہو جاتا ہے اور یوں بارگاہِ خداوندی میں حُضوری کے سَبَب اس کا شُمار
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع