30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اَلَیْسَ اللّٰهُ بِكَافٍ عَبْدَهٗؕ- (پ۲۴،الزمر:۳۶) ترجمۂ کنز الایمان:کیا اللہ اپنے بندوں کو کافی نہیں۔
ایک مَقام پر اِرشَاد فرمایا:
وَ اُفَوِّضُ اَمْرِیْۤ اِلَى اللّٰهِؕ-اِنَّ اللّٰهَ بَصِیْرٌۢ بِالْعِبَادِ(۴۴)فَوَقٰىهُ اللّٰهُ سَیِّاٰتِ مَا مَكَرُوْا (پ۲۴،المؤمن:۴۴، ۴۵)
ترجمۂ کنز الایمان:اور میں اپنے کام اللہ کو سونپتا ہوں بے شک اللہ بندوں کو دیکھتا ہے تو اللہ نے اسے بچا لیا ان کے مکر کی برائیوں سے۔
یہ لوگ گنتی میں شُمارہونے والوں میں سے نہیں ہیں کہ جن کے مُتَعَلّق اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اِرشَاد فرمایا ہے:
اِنْ كُلُّ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ اِلَّاۤ اٰتِی الرَّحْمٰنِ عَبْدًاؕ(۹۳) لَقَدْ اَحْصٰىهُمْ وَ عَدَّهُمْ عَدًّاؕ(۹۴)(پ۱۶،مریم:۹۳ ، ۹۴)
ترجمۂ کنز الایمان:آسمانوں اور زمین میں جتنے ہیں سب اس کے حُضور بندے ہو کر حاضِر ہوں گے بے شک وہ ان کا شُمار جانتا ہے اور ان کو ایک ایک کر کے گن رکھا ہے۔
صحابۂکِرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان اور تابعین عُظَّام رَحِمَہُمُ اللہ ُ السَّلَام فرماتے ہیں کہ تَوَکُّل توحید کا نِظام اور اُمُور کا جَمْع کرنے والا ہے۔ چنانچہ ایک بُزرگ فرماتے ہیں کہ میں نے اَہْلِ بصرہ کے کسی عابِد کو (مرنے کے بعد)خواب میں دیکھ کر پوچھا: مَا فَعَلَ اللّٰهُ بِكَ؟ یعنی اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے آپ سے کیسا سُلُوک فرمایا؟ تو انہوں نے جواب دیا : اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے میری مَغْفِرَت فرما کر مجھے جنّت میں داخِل فرما دیا ہے۔ میں نے پوچھا:آپ نے وہاں کِن اَعمال کو فضیلت والا پایا؟ فرمایا:تَوَکُّل اور اُمِّیدوں کی کمی کو میں نے یہاں اَفضل اَعمال میں سے پایا ہے، لہٰذا ان دونوں اَعمال پر قائم رہئے گا۔
حضرت سَیِّدُنا ابو دردا رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں اِیمان کی چوٹی اِخلاص، تَوَکُّل اور حکْمِ خداوندی پر سرِتسلیم خَم کر دینا ہے۔
تَوَکّل سے بڑھ کر کوئی مقام نہیں
حضرت سَیِّدُناابو محمد سَہْل تُسْتَرِی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرمایا کرتے تھے کہ تَوَکُّل سے بڑھ کر کوئی مَقام نہیں، انبیائے کِرام عَلَیْہِمُ السَّلَام کو حقیقی تَوَکُّل عَطا ہوا اور جو باقی بچا وہ صِدِّیقین اور شُہَدا کے حصّے میں آیا، چنانچہ جو تَوَکُّل سے کچھ بھی تعلّق رکھے تو وہ صِدِّیْق یا شَہِیْد ہے۔
سَیِّدُنَا ابو سلیمان دارانی کا توکل کے متعلق فرمان
عارِفِ رَبّانی، حضرت سَیِّدُنا ابو سلیمان دارانی قُدِّسَ سِرُّہُ النّوْرَانِی فرماتے ہیں: تَوَکُّل کے سِوا مجھے ہر مَقام میں رَسائی ملی مگر تَوَکُّل مجھے صِرف خوشبو سونگھنے کی حَد تک ہی نصیب ہوا۔
سَیِّدُنَا لقمان کے توکل کے متعلق دو۲ فرامین
حضرت سَیِّدُنا لقمان رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے اپنے بیٹے کو وَصِیَّت کرتے ہوئے اِرشَادفرمایا:اللہ عَزَّ وَجَلَّ پر اِیمان کی عَلامَت اس پر تَوَکُّل رکھنا ہے، اس لیے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ پر تَوَکُّل بندے کو اس کا مَحْبُوب بنا دیتا ہے، اپنا ہر مُعامَلہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے سُپُردکر دینے کا تعلّق اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی ہِدَایَت سے ہے اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی ہِدَایَت سے بندے کو رَضائے اِلٰہی کی مُوَافِقَت نصیب ہوتی ہے اور یوں رَضائے اِلٰہی کی مُوَافِقَت سے بندہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے کَرَم کا مُسْتَحِقبن جاتا ہے۔
یہ قول بھی حضرت سَیِّدُنا لُقْمان رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کا ہی ہے کہ جو اللہ عَزَّ وَجَلَّ پر تَوَکُّل کرے اور قَضائے باری تعالیٰ کو تسلیم کرے، اپنا ہر مُعَامَلہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے سُپُرد کر دے اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے جو اس کی تقدیر میں لکھا ہے اس پر راضی رہے تو بے شک اس نے دین کو قائم کیا، اس نے اپنے ہاتھوں اور پَیروں کو نیکیاں کمانے کے لیے ہر کام سے فارِغ کر لیا اور ان نیک کاموں کے بجا لانے میں مَصروف کر لیا جو بندے کے مُعَامَلے کی اِصلاح کرتے ہیں۔
سَیِّدُناسہل تسْتَرِی کے تَوَکّل کے متعلّق چند اقوال
٭…اَبْدَالوں کے عالِم یعنی حضرت سَیِّدُنا ابو محمد سَہْل تُسْتَرِی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں:
٭…تمام عِلْم عِبَادَت کا دروازہ ہے۔ ٭…تمام عِبَادَت وَرَع کا دروازہ ہے۔
٭…تمام وَرَع زُہْد کا دروازہ ہے۔ ٭…اور تمام زُہْد تَوَکُّل کا دروازہ ہے۔
٭… تَوَکُّل کی کوئی حَد ہے نہ کوئی اِنتِہا کہ جہاں یہ خَتْم ہو۔
٭… اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے فرمانِ عالیشان (لِیَبْلُوَكُمْ اَیُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًاؕ- (پ ۱۲، ھود:۷) ترجمۂ کنز الایمان: کہ تمہیں آزمائے تم میں کس کا کام اچھّا ہے۔)کی تفسیر میں اِرشَاد فرماتے ہیں کہ (اَحْسَنُ عَمَلًاؕ-) سے مُراد (اَصْدَقُ تَوَکُّلًا )ہے یعنی تم میں سے کس کا تَوَکُّل زیادہ سچّا ہے۔
٭… تقویٰ اور یقین ترازو کے دو۲ پلڑوں کی طرح ہیں جبکہ تَوَکُّل اس ترازو کا کانٹا ہے جس کے ذریعے ان کی کمی اور زِیادَتی جانی جاتی ہے۔
٭… آپ رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ سے فرمانِ باری تعالیٰ (فَاتَّقُوا اللّٰهَ مَا اسْتَطَعْتُمْ (پ۲۸، التغابن:۱۶) ترجمۂ کنز الایمان:تو اللہ سے ڈرو جہاں تک ہو سکے۔)کے مُتَعَلّق سوال کیا گیا (کہ ڈر اور تقویٰ کیسے حاصِل کیا جائے؟)تو اِرشَاد فرمایا:فَقْر و فاقہ کا اِظْہَار کر کے۔
٭… فرمانِ باری تعالیٰ (اتَّقُوا اللّٰهَ حَقَّ تُقٰتِهٖ (پ۴، اٰل عمران:۱۰۲) ترجمۂ کنز الایمان: اللہ سے ڈرو جیسا$&'); container.innerHTML = innerHTML; }
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع