30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی مَحبَّت تک۔
حضرت سَیِّدُنا عثمان بن عمّارہ رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں: مَنْقُول ہے کہ وَرَع بندے کو زُہْد تک پہنچاتا ہے اور زُہْد اسے مَحبَّتِ باری تعالیٰ تک لے جاتاہے۔
(صَاحِبِ کِتاب اِمامِ اَجَلّ حضرت سَیِّدُنا شیخ ابُو طالِب مکّی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں)یہی دونوں حال طَالِبانِ حَق کا مَقْصُود ہیں یعنی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی مَحبَّت اور اس کا اُنس۔ جسے زُہْد حاصِل نہ ہو وہ مَقامِ مَحبَّت تک رَسائی حاصِل کر سکتا ہے نہ اُنس کا حال پاسکتا ہے۔ اس کے بعد مَحبَّت و خِلّت کے مَقام اور اُنس و قُرْبَت کے حال میں عَالَمِ غیب کے بے شُمار اَسْرَار پائے جاتے ہیں۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہمیں اور آپ سب کو ہر اس بات کی توفیق عَطا فرمائے جو اسے پسند ہے اور ہمیں اپنے فَضْل و کَرَم اور رَحْمَت سے اس مَقام پر فائز فرمائے جس کی ہم اُمِّید کرتے ہیں۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی مَدَد و نُصْرَت کے بغیر یہ کِتاب مُکَمَّل کرنے کی کوئی قوّت تھی نہ کوئی طَاقَت۔
٭…٭…٭…٭…٭…٭
٭…٭…٭
صَلُّوا عَلَی الْحَبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
٭…٭…٭…٭…٭…٭
مقاماتِ یقین میں سے ساتواں مقام
مقامِ تَوَکُّل کی شَرْح اور مُتَوَکِّلِین کے اَحْوَال و اَوصَاف
تَوَکُّل کا تعلّق اَعلیٰ مَقاماتِ یقین اور اَشْرَف اَحْوَالِ مُقرَّبین سے ہے۔ چنانچہ،
فرمانِ باری تعالیٰ ہے:
اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُتَوَكِّلِیْنَ(۱۵۹)(پ۴،اٰل عمرٰن:۱۵۹)
ترجمۂ کنز الایمان:بےشک تَوَکُّل والے اللہ کو پیارے ہیں۔
(صَاحِبِ کِتاب اِمامِ اَجَلّ حضرت سَیِّدُنا شیخ ابُو طالِب مکّی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں)اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے مُتَوکِّل کو اپنا پیارا اوردوست بنایا اور اسے اپنی مَحبَّت کا شَرَف عطا فرمایا ہے۔
فرمانِ باری تعالیٰ ہے:
وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُتَوَكِّلُوْنَ۠(۱۲) (پ۱۳،ابراھیم:۱۲)
ترجمۂ کنز الایمان:اور بھروسا کرنے والوں کو اللہ ہی پر بھروسا چاہیے۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے مُتَوکِّلین کو اپنی نِسْبَت عَطا فرما کر رِفْعَت بخشی اور ان پر کَرَم میں اِضافہ فرمایا جیسا کہ ایک مَقام پر اِرشَاد ہوتا ہے:
وَ مَنْ یَّتَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ فَهُوَ حَسْبُهٗؕ- (پ۲۸،الطلاق:۳)
ترجمۂ کنز الایمان:اور جو اللہ پر بھروسا کرے تو وہ اُسے کافی ہے۔
یعنی وُہی اسے کافی ہے اور جس کی كِفَایَت کرنے والا اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہو تو وہ اسے شِفا دینے والا اور عَافِـیَّت عَطا فرمانے والا بھی ہوتا ہے۔ وہ بندے کو جس حال میں بھی رکھے اس سے اس کے مُتَعَلِّق نہیں پوچھا جاسکتا۔ لہٰذا اللہ عَزَّ وَجَلَّ پر بھروسا رکھنے والوں کا شُمار اُن بندوں میں ہونے لگتا ہے جن کے اَوصَاف بیان کرتے ہوئے
اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اپنی رَحْمَت کی نِسْبَت ان کی جانِب فرمائی اور ان خاص بندوں کا ذِکْر فرمایا جن کے لیے كِفَایَت کی ضَمَانَت دی۔ چنانچہ قرآنِ مجید میں ان کے اَوصَاف کا تذکرہ کرتے ہوئے اِرشَاد فرمایا:
وَ عِبَادُ الرَّحْمٰنِ الَّذِیْنَ یَمْشُوْنَ عَلَى الْاَرْضِ هَوْنًا وَّ اِذَا خَاطَبَهُمُ الْجٰهِلُوْنَ قَالُوْا سَلٰمًا(۶۳)`وَ الَّذِیْنَ یَبِیْتُوْنَ لِرَبِّهِمْ سُجَّدًا وَّ قِیَامًا(۶۴)وَ الَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا اصْرِفْ عَنَّا عَذَابَ جَهَنَّمَ ﳓ اِنَّ عَذَابَهَا كَانَ غَرَامًاۗۖ(۶۵) (پ ۱۹، الفرقان:۶۳ تا ۶۵)
ترجمۂ کنز الایمان:اور رحمٰن کے وہ بندے کہ زمین پر آہستہ چلتے ہیں اور جب جاہِل ان سے بات کرتے ہیں تو کہتے ہیں بس سَلام اور وہ جو رات کاٹتے ہیں اپنے رب کے لیے سجدے اور قِیام میں اور وہ جو عَرْض کرتے ہیں اے ہمارے رب ہم سے پھیر دے جہنّم کا عَذاب بے شک اس کا عَذاب گلے کا غُل (پھندا) ہے۔
(صَاحِبِ کِتاب اِمامِ اَجَلّ حضرت سَیِّدُنا شیخ ابُو طالِب مکّی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں)اس آیَتِ مُبارَکہ میں غور فرمائیے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے ان لوگوں کو کس قَدْر شان عَطا فرمائی ہے۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کی ضَروریات کے لیے اس جَہانِ فانی میں كِفَایَت کی ضَمَانَت دی اور ان کے جُملہ اُمُور کو اپنے پروردگار عَزَّ وَجَلَّ کے حوالے کر دینے کی وجہ سے انہیں بُرائیوں سے بچایا۔ چنانچہ اِرشَاد فرمایا:
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع